شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔
محترم قارئین ۔
ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔ اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔
میرے بھائی ۔
مسئلہ عقیدہ کا ہے ، سمجھنا چاہئے کہ یہ کوئی فقہی مسئلہ نہیں ہے جسمیں چار اقوال ہیں اور اسکی دلیلیں ہیں ، یہ آپ کے عقائد پر شبخونی ہے،حضرت عیسی اور امام مہدی علیہ السلام کے متعلق متفق علیہ مسئلہ کا انکار ہے ،
اسمیں انکار حدیث ہے ،قرآن واحادیث کے ساتھ تضحیک ہے، نصوص کی غلط تاویل وتفسیر ہے ،عقلانیت ہے ،دعواے باطل ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
رمضان کے مہینے میں چونکہ لوگ عبادت وبندگی کی طرف مائل ہوتے ہیں دین کی باتیں سننا پسند کرتے ہیں ایسے میں شکیلی لوگ حلیہ بدل کر داعی بنکر لوگوں کو شکیلی بناتے ہیں لوگوں کے نیک جذبات کو اپنے باطل اور گمراہ دعوت کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔
معزز قارئین ۔
شکیلیت کے نمائندے افکار شکیلیت کو بہت سلیقے سے آپ کے ذہن و دماغ میں منتقل کر رہے ہیں ، ماہ رمضان شکیلی گروپ کے لئے نہایت ہی سنہرا موقع ہے وہ ماہ شعبان سے ہی زہد وعبادت تہجد وتراویح و اعتکاف اور دین سیکھنے سکھانے کے نام پر مساجد ڈھونڈنے لگتے ہیں خاصکر وہ ان شہر گاؤں محلے کی طرف رخ کرتے ہیں جہاں معتبر ومتحمس علماء کرام بہت قلیل تعداد میں ہیں ، یا جہاں دینی تعلیم اور دروس وغیرہ کا اہتمام کم ہوتا ہے خصوصاً شہروں دیہاتوں میں وہ افراد بالخصوص نوجوان جو کسی نوکری چاکری کی تلاش میں رہتے ہیں یا جنھیں پیسوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہیں( کہا جاتا ہے کہ )تو ایسے افراد سے ان کا کنکشن بہت جلد جڑ جاتا ہے اور شکیلی اپنا کام بڑے زور وشور سے کرلیتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ امسال شکیلیوں نے اپنا جال بہت وسیع پیمانے پر پھیلا رکھا ہے اور واقعات بتاتے ہیں کہ یہ اپنا کام رمضان کے مہینے میں کرلیتے ہیں خصوصاً آخری عشرے میں ان کا جادو کچھ زیادہ ہی چلتا ہے،لہذا علماء امت مسلمہ اور دردمندان ملت سے اپیل ہے کہ کڑی نظر رکھیں اور اپنے قرب وجوار کی خبر لیتے رہیں، تاکہ پہلے ہی مرحلے میں مناسب علاج کیا جاسکے۔
فتنہ شکیلیت کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟۔
علماء کرام چراغ و روشن ستارے کے مانند ہیں
وہ شخص مؤفق ومسدد ہے جنھیں اچھے اہل علم و معتبر وارثین انبیاء کی صحبت نصیب ہوجاۓ، علماء تزکیہ و تربیت کا کام کرتے ہیں وہ جہل وامیت کی تاریکیوں کو نور علم وعرفان ودینی بصیرت وفراست سے روشن کر دیتے ہیں ،تاریکیاں ختم ہو جاتی ہیں، نور ہی نور کی بارشیں ہوتی ہیں،دل نرم ہوتا ہے، جذبات شرع کے تابع ہوجاتے ہیں دین پر چلنا آسان ہو جاتا ہے، اور ایمان کی تجدید ہو جاتی ہے۔اسلئےبہت ضروری ہے کہ علماء حق کے ساتھ آپ رہیں آپ کا دین عقیدہ و منہج سلامت رہے گا ، اسلئے کہ علماء
اپنے اس علم کی روشنی سے کسی بھی فتنہ کو اسکے واقع ہونے سے قبل ہی بھانپ لیتے ہیں، جیساکہ حسن بصري رحمہ اللہ فرمایا : " الفتنة إذا أقبلت عرفها كل عالم، وإذا أدبرت عرفها كل جابل " کہ اہل علم فتنوں کو آتے ہی پہچان لیتے ہیں جبکہ
جاہل اسے واپس لوٹنے کے بعد جان پاتا ہے۔
لہذا علماء دین کو بھی چاہئے کہ ان جیسے فتنوں کی سرکوبی کے لیے بالکل مستعد و تیار رہیں، قلمی ولسانی جہاد کریں ، انفرادی واجتماعی ملاقات کریں، مختلف فنکشن وپروگرامز مثلاً دعوت ولیمہ عقیقہ وغیرہ کے موقع سے فتنہ شکیلیت کو بیان کریں لوگوں کو آگاہ کریں، ان کی ذہنی تربیت کریں، دروس و خطبات جمعہ نیز مختلف مجلسوں میں بات بات میں اس فتنہ شکیلیت کا کچا چٹھا واضح وسہل انداز میں بیان کرتے رہیں ۔
ہر گاؤں ومحلہ میں ایک کمیٹی تشکیل دی جاۓ
جو ایسے لوگوں کے بارے میں خبر لیتے رہے، پتہ کرتے رہے کہ کون کون اس شکیلیت کے فتنہ میں مبتلا ہورہے ہیں یا شکیلیوں سے رابطہ قائم کررہے ہیں۔ پھر یہ کمیٹی اس خبر کو علماء واہل حل وعقد تک پہنچاۓ اور وقت پر مناسب کارروائی کی جاۓ۔
والدین اپنے اولاد واحفاد کے مستقبل کے بارے میں مستقل غور و فکر کریں، انکی تربیت اسلامی ڈھنگ سے کریں، گھر کا ماحول دینی بنائیں، انکے ذہن و دماغ میں دین کی بنیادی باتیں بچپن میں ہی ڈال دیں، صحیح عقیدہ منہج کی طرف رہنمائی کریں اور باطل افکار سے انھیں محفوظ رکھیں،والدین یا سرپرست بالخصوص اپنے بچوں کے دوستوں اور یاروں پر نظر رکھیں کہ ان کے بچے کے دوست کس اخلاق وفکر کے ہیں جیساکہ حدیث ہے۔ الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ : آدمی اپنے خلیل (دوست) کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے کوئی دیکھے کہ وہ کس کو دوست بناتا ہے؟ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ دوستی کا اثر انسان کی شخصیت پر ہوتا ہے، اگر دوست اچھا ہوگا تو اپنے دوست پر بھی اچھا اثر ڈالے گا اگر دوست برا ہوگا، تو اثر بھی برا ڈالے گا ۔
حضرت عیسیٰ و مہدی علیہما السلام ودجال اور علامات قیامت کے بارے میں لوگوں کو صحیح انفارمیشن فراہم کرانے کی خاطر چھوٹی بڑی کانفرنسیں و جلسے منعقد کرائی جائیں۔
کتاب الفتن والملاحم اور عیسی و مہدی ودجال وغیرہ کے تعلق سے کتاب وسنت کی تفصیلات کو عوام الناس کے سامنے لایا جائے، ان موضوعات پر مختلف زبانوں میں چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں جائیں، پمفلٹ وغیرہ چھاپ کر تقسیم کیا جاۓ ,مجلات اور روز ناموں میں ایک کالم رد فتنۂ شکیلیت کیلئے مختص کردیا جاۓ۔
سوشل میڈیا پر متمکن علماء کرام رد فتنۂ شکیلیت پر ویڈیو آڈیو بنا کر اور تحریریں شئیر کرتے رہے ۔
فتنوں سے بچنے کیلئے کثرت سے دعائیں کریں۔
فتنوں سے تحفظ وبقا کے لیے اور حالیہ فتنۂ شکیلیت سے بچنے کیلئے دعاؤں کا اہتمام ضرور کریں ،اللہ کے نبی ﷺ فتنوں سے خود اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے اور آپ نے اپنی امت کو بھی یہی تعلیم دی ہے ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا : تعوَّذوا باللّٰهِ من الفِتَنِ ما ظهر منها وما بطنَ
ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو ۔۔۔
[صحیح الجامع للألبانی رحمہ اللہ :۲۲۶۲]
يا مُقلِّبَ القلوبِ ثبِّت قلبي علٰي دينِكَ ۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
[صحیح الترمذی للألبانی :۳۵۲۲]
اللّٰہ تعالٰی ہمیں صحیح عقیدہ و منہج پر استقامت وثبات قدمی عطاء فرمائے اور ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھیں آمین۔
تعليقات
إرسال تعليق