التخطي إلى المحتوى الرئيسي

المشاركات

 آئی لو محمد حقیقت یا فسانہ ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا جزء لاینفک ہے ، ہمارا ایمان مکمل ہی نہیں ہوگا جب تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اٹوٹ وبےلوث محبت نہ کرے ۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت نہ رکھے اپنی جان ومال اپنے اعزہ واقارب اپنے باپ بیٹے اپنی اولاد اپنے بھائی اپنی بیوی اپنے مال اپنے تجارت اپنی پراپرٹی اور دنیا جہان سارے کے مقابلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم زیادہ محبت نہ رکھیں ۔ اور ان محبتوں کو جو کہ فطری محبت ہے اور مذموم بھی نہیں ، تاہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اوپر غالب نہیں کر سکتے اور جو کریں گے ان کا ایمان خطرے میں ہوگا ۔ اللہ تعالی نے قرآن میں کہا: " النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ" (احزاب: 6) یہ جو نبی ہیں وہ ان مومنوں کی جانوں سے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ب...
آخر المشاركات
 عقیدہ توحید کی اہمیت ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ توحید باب تفعیل سے مصدر ہے ،وحد یوحد توحیدا ۔ اس کا ماخذ احد ہے ۔ توحید کا لغوی معنی ۔ کسی شئی کو ایک کرنا یا ایک جاننا ،یا اکیلا اور بے مثال ہوناہے ۔ اس معنی کی رو سے اللّٰہ تعالٰی کی توحید کا معنی ہوگا : اللّٰہ تعالٰی کو ایک ماننا یعنی اسکے ایک ہونے کا عقیدہ رکھنا ۔یعنی اللّٰہ تعالٰی اپنی ذات اور صفات میں اکیلا اور بے مثال ہے کوئی دوسرا اس جیسا نہیں جو اس کی ذات اور صفات میں شریک ہو۔ عقیدہ عقدہ سے ہے ،جو گرہ لگانے کے معنی میں مستعمل ہے ،اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے عقیدے سے مراد یہ ہے کہ دل میں اس کی وحدانیت کے تعلق سے ایک مضبوط گرہ لگا دی جائے ،ایسی گرہ کہ جسے دنیا کی کوئی بھی سپر پاؤرطاقت کھول نہ سکے اور ایسی گرہ کہ زبان بھی اس کے ایک ہونے کا اقرار کرۓ،دل بھی اس کے ایک ہونے کا اعتراف کرے اور ہر ہر عمل اس کے ایک ہونے کی گواہی دے ۔ توحید کا شرعی معنی شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:إفراد الله تعالى بما يختص به من الربوبية والألوهية والأسماء والصفات۔ یعنی ربوبیت الوہیت اور اسماء وصفات جو اللّٰہ تعالٰی کے ساتھ...
 کھانے پینے کے شرعی آداب واحکام ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ اللّٰہ تعالٰی نے اپنے مخلوقات پر بڑۓ انعام واکرام فرماۓ ہیں ۔ انھیں زندگی کی ساری لوازمات وضروریات ومستحبات عطا کئے ہیں ۔ زندہ رہنے اور زندگی گذارنے کے اسباب بھی مہیا فرماۓ ہیں ۔ حسی ومعنوی غذا عطا کئے ہیں ۔ روح کو ٹھنڈک پہنچانے کے وسائل دئیے ہیں اور جسم وبدن میں حرکت ونشاط و تر وتازگی برقرار رکھنے کے لئے( تاکہ طاعت و بندگی میں کسلمندی وفتور نہ آۓ) طیب وپاکیزہ غذا  عطا فرمائے ہیں اور کھانے پینے کی چیزیں عطاء کئے ہیں اور کھانا پینا یہ اللہ کی بڑی عظیم  نعمت ہے اور نعمتیں منعم کی شکر ادا کرنے سے برقرار رہتی ہے اور اسمیں اضافہ ہوتی رہتی ہیں اور اگر نعمتوں کی ناشکری کی جاۓ ،قدر نہ کی جاۓ تو وہ نعمتیں چھن جاتی ہیں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے "النعم إذا شكرت قرت وإذا كفرت فرت " اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید کے اندر فرمایا ہے أَفَرَءَیۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ۝٦٣ ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥۤ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّ ٰ⁠رِعُونَ ۔لَوۡ نَشَاۤءُ لَجَعَلۡنَـٰهُ حُطَـٰمࣰا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ ۝٦٥ إِنَّا لَمُغۡ...
   استقامت وثبات قدمی کے دس قواعد ۔ تلخیص وترجمانی۔  محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی، (دوسری قسط ) محترم قارئین ۔ فتنے ہمہ گیر ہیں۔ صحیح راہ اور درست راستہ سے بھٹکانے ،گمراہ کرنے کے اسباب و ذرائع لاتعداد ہیں ۔ صوارف وموانع بہت ہیں ، رکاوٹیں بھی بہت زیادہ ہیں ۔ استقامت وثبات قدمی کے اصول وضوابط اور قواعد کا ذکر کیا جارہا ہے تاکہ فتنوں کے کثرت کے اس زمانے میں راہ حق کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھ کر راہ حق اور صراط مستقیم پر جمے وڈٹے رہے ۔ جیسا کہ بعض صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جامع ومفید نصیحت طلب کیا  ۔ تاکہ استقامت وثبات قدمی حاصل ہو اور ہرطرح سے راہ حق کی رکاوٹوں کو دور کرکے صراط مستقیم پر گامزن رہیں ۔ سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے؟ فرمایا : (( قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ )) ’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر خوب ثابت قدم رہ۔‘‘ [صحیح مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام : ۳۸ ...
 استقامت وثبات قدمی کے دس قواعد ۔ (قسط اول) تلخیص وترجمانی ۔  محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی، راہ استقامت وثبات قدمی ہماری زندگی کاشمع نور ہے ۔ راہ استقامت پر قائم رہنےکا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہے، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔استقامت اور میانہ روی کا راستہ دشوار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3297) کیونکہ اس سورت کی آیت نمبر112میں آپ کو استقامت کا حکم دیا گیا ہے یہ ایسی ذمے داری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے مجھے قبل از وقت بوڑھا کردیا ہے۔ اس لیے حدیث میں ایک دوسری صورت بتائی گئی ہے کہ اگر پورے طور پر سداد اوراستقامت حاصل نہ ہو تو کم ازکم اس کے قریب قریب تو رہو۔ اسی طرح عمل کی توفیق پر خوش ہو جاؤ اور یہ خوشی صرف استقامت ہی میں نہیں بلکہ اس کے قریب رہنے سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔بشارت حوصلہ بڑھانے کا ایک طریق ہے۔اس سے عابد زاهد کی ہمت بلند ہوتی ہے اور...
  قربانی سے متعلق چند مسائل ازقلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ قربانی ایک عظیم عبادت ہے ، ایک متواتر سنت ہے اور ابراہیم خلیل الرحمٰن علیہ السلام کی یاد گار ہے جو سراپا طاعت وبندگی سے معمور ہے۔  اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اپنے نفس کو قربان کرنے طاعت و بندگی کے لئے ایثار وفدائیت اور اور جان ومال اور قیمتی سے قیمتی چیز کی قربانی ہی دراصل قربانی ہے۔ قربانی مالی عبادتوں میں بہترین عبادت ہے ۔ قربانی فرض ہے یا مال ؟ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آج سے کہیں زیادہ مال کی ضرورت تھی تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بڑی تاکید فرمائی اور بکثرت قربانیاں کرائی گئیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی اقتصادیات کا شعبہ نہیں ہے بلکہ روحانی شئے ہے ۔  (بحوالہ ۔ آثار حنیف بھوجیانی جلد دوم صفحہ 161)  محترم قارئین ! قربانی سے مقصود اللّٰہ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنا اور اسکی رضاء طلب کرنا ہے قربانی کی ایک حکمت یہ ہے کہ قربانی کرکے اللّٰہ تعالٰی کا شکر ادا کیا جائے کہ اس ذات باری تعالٰی نے ان جانوروں کو ہمارے لئے آسانی سے حاصل کرنا میسر کیا اور پ...