انسانی زندگی پرصحبت وماحول کے اثرات ، ازقلم ، محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ،عبیدہ آباد،سپول ،بہار یہ ناممکن ہے آۓ پاس اور پھر تر نہ ہوجائے محبت کے اڑا کرتے ہیں فوارے محبت میں، آدمی جس فضاء اور ماحول میں رہتا ہے ، عموماً اس میں رنگ جاتا ہے ، چاہے انھیں اسکا شعور ہو یا نہ ہو ، یہ ایک بدیہی حقیقت ہے ، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ، صالح اور نیک ماحول میں رہتا ہے تو صالح بن جاتا ہے ، مؤمنین صدیقین وشہداء کا درجہ پاتا ہے ، برۓ اور گندۓ ماحول میں رہتا ہے تو اس کے سارے اعضاءِ جسم ، ذہن دل ودماغ اس گندگی اور سنڈاسیت سے مانوس ہوجاتے ہیں اور اپنا قرین فرعون،ہامان ، وسرکش شیطان کو بنا لیتا ہے ، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ : کسی فرد یا قوم کے بننے اور بگڑنے کا اصل مدار اس کے ماحول اور سوسائٹی پر ہوتا ہے انسان نا چاہتے ہوئے بھی اس سے متاثر ہو جاتا ہے اور غیر شعوری طور پر اس کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اسلئے جب تک ماحول درست نہ ہو ،کوئی تعلیم وتربیت کام نہیں دیتی اسلئے قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کو سدھارنے کے لئے ہر شخص پر...
مثالي استاذ کی علامتیں ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے۔ دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر۔ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں۔ مثالی استاذ کے چند اوصاف ذکر کئے جارہے ہیں۔ مخلص ہو۔ ایک مثالی استاذ کی صفت یہ ہے کہ وہ مخلص ہوتا ہے ، تدریسی بوجھ اتارنے اور کورس ختم کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت ہی اخلاص ورب کی رضاجوئی کیلئے تدریس کرتا ہے ۔ احساس ذمہ داری۔ مثالی استاذ وہ ہے جنھیں تدریس سے والہانہ لگاؤ ہو،اسطور پر کہ اسے تدریس میں مزہ آتا ہو۔ مثالی استاذ کے اندر مسلسل اسٹڈی ومطالعہ، بحث وتحقیق کا مزاج ہوتا ہے، وہ کثیر المطالعۃ ہوتا ہے ،وہ اپنے سابقہ معلومات کو تجدید کرتے رہتا ہے ، اور مطالعہ وبحث میں وسعت لاتے جاتا ہے اسلئے کہ استاذ کی ثقافت عامہ جتنی بہتر ہوگی اسکی تدریس اتنی ہی کامیاب ہوگی ۔ مثالی استاذ اپنے سینئر جونئر حتی کہ اپنے شاگردوں سے بھی استفادہ کرتاہے ۔ مثالی استاذ نہایت ہی شفیق ومہربان ہ...