مثالي استاذ کی علامتیں ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے۔ دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر۔ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں۔ مثالی استاذ کے چند اوصاف ذکر کئے جارہے ہیں۔ مخلص ہو۔ ایک مثالی استاذ کی صفت یہ ہے کہ وہ مخلص ہوتا ہے ، تدریسی بوجھ اتارنے اور کورس ختم کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت ہی اخلاص ورب کی رضاجوئی کیلئے تدریس کرتا ہے ۔ احساس ذمہ داری۔ مثالی استاذ وہ ہے جنھیں تدریس سے والہانہ لگاؤ ہو،اسطور پر کہ اسے تدریس میں مزہ آتا ہو۔ مثالی استاذ کے اندر مسلسل اسٹڈی ومطالعہ، بحث وتحقیق کا مزاج ہوتا ہے، وہ کثیر المطالعۃ ہوتا ہے ،وہ اپنے سابقہ معلومات کو تجدید کرتے رہتا ہے ، اور مطالعہ وبحث میں وسعت لاتے جاتا ہے اسلئے کہ استاذ کی ثقافت عامہ جتنی بہتر ہوگی اسکی تدریس اتنی ہی کامیاب ہوگی ۔ مثالی استاذ اپنے سینئر جونئر حتی کہ اپنے شاگردوں سے بھی استفادہ کرتاہے ۔ مثالی استاذ نہایت ہی شفیق ومہربان ہ...
قربانی سے قبل چند چیزوں کی یاددہانی۔ ازقلم ،محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ قربانی کا لغوی معنی۔ ” قربانی ” عربی زبان کا لفظ ہے۔ اصل لفظ ’’ قُربان ‘‘ ہے جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک وقریب ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا ضد ’’ بُعد ‘‘ یعنی دوری ہے۔ قرب سے قربانی کا لفظ مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے۔ جیسے’’قراءت‘‘ کے معنی فقط ’’پڑھنا‘‘ ہے اور قرآن کے معنی اس کتاب کے ہیں جسے بار بار اور کثرت سے پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام حمید کا نام اسی وجہ سے قرآن رکھا ہے کہ کثرتِ قراءت کے اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب اس کے برابر نہیں ہے ۔ اسی طرح بھوکے پیاسے کے لئے عربی زبان میں لفظ "جوعان" ’’عطشان‘‘ استعمال ہوتا ہے۔جاع سے جوعان اور’’عطش‘‘ سے عطشان مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے جس کا مطلب ہے حد سے زیادہ بهوكا پیاسا۔ ان دون مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کوئی لفظ ’’فُعْلَان‘‘ (مبالغہ) کے وزن پر آئے تو یہ کثرت کے معنی دینے لگتا ہے۔ جانور کے ذبح کرنے کے عمل کو قربانی سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کا عمل بندے کو اللہ کے انتہائی قریب...