التخطي إلى المحتوى الرئيسي

المشاركات

 بچوں کی تربیت: سیرتِ نبوی کی روشنی میں اردو ترجمانی: محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ظاہری و باطنی نعمتوں کا دریا بہا دیا ہے اور فیضان و نوال کا چشمہ جاری فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ان تمام انعام و اکرام میں سے ایک عظیم ترین نعمت اولاد و احفاد کی نعمت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے تمہاری بیویاں بنائیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے۔" (سورۃ النحل: 72) اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ خبر بھی دی ہے کہ اولاد اس کے بندوں کے لیے ایک خاص ہبہ (عطیہ) ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: "اور ہم نے انہیں اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب (پوتے کے طور پر) مزید؛ اور ہم نے ہر ایک کو صالح بنایا۔" (سورۃ الأنبیاء: 72) حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: "ہم نے ان کی دعا قبول فرما کر انہیں یحییٰ (علیہ السلام) عطا فرمائے اور ان کی بیوی کو ان کے لیے درست کر دیا۔ یہ بزرگ لوگ نیک کاموں میں پیش پیش رہتے تھے اور ہمیں امید و خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ...
آخر المشاركات
 رمضان اور قرآن کا باہمی ارتباط ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ سیف الدین المحمدی، سپول بہار ۔ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جسمیں سب سے عظیم معجزہ قرآن مقدس کا نزول ہوا ہے، ماہ رمضان تمام مہینوں میں افضل وخیر وبرکت والا مہینہ ہے اس مہینہ میں عظیم القدر وجلیل الشان کتاب ،دستور حیات ، معجزہ کبری قرآن مجید کا نزول ہوا اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِیۤ أُنزِلَ فِیهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدࣰى لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَـٰتࣲ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ [البقرة ١٨٥] قرآن اور رمضان دونوں توام ہیں۔ رمضان المبارک اور قرآن مقدس کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رمضان اور قرآن کا آپس میں چولی دامن کا تعلق ہے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے صحیح اور غلط کی تمیز کیلئے ،سیاہ وسفید کے مابین تفریق بتانے کے لیے ،اور حق و باطل میں فرق کرنے والے اور ہدایت و راہ نمائی کی واضح نشانیوں کے طور پر قرآن کو نازل کیاگیا۔ رمضان اور قرآن کے باہمی ارتباط کو واضح کرتے ہوۓ   صاحب تیسیر القرآن مولانا عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں کہ تمام کتب سماوی اور اسی طرح قرآن کریم رمضان ہی میں نازل ہوئیں اور قرآن ل...
 فرشتوں پر ایمان ایمان کا ایک عظیم رکن۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ لفظ ملائکہ یہ  مَلَك کی جمع ہے مطلب ہے فرشتہ۔ ملائکہ یا فرشتوں پر ایمان لانا ، ایمان کا ایک عظیم رکن ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارکان ایمان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا   تم اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، یوم آخرت اور تقدیر کی اچھائی وبرائی پر ایمان رکھو۔)۔(صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1) ایمان بالملائکہ کا منکر کافر ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِفَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا۔( سورة النساء.13  ) ایمان بالملائکہ سے مراد یہ ہے کہ ایک انسان اس بات پر ایمان رکھے کہ ملائکہ اللہ تعالی کی مخلوق میں سے (عباد مکرمون ) یعنی  باعزت ومکرم بندے ہیں۔ وہ کسی غیبی طاقت کانام نہیں ہے بلکہ فرشتوں کا وجود ہے اور وہ ایک مستقل مخلوق ہے ۔ یہ ایمان بالملائکہ کا وجوبی مقدار ہے جس کا اعتقاد رکھنا ہر مسلمان کے لئے ابتدائی طور پر لازم ہے اور اس سے عاری شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جا...
 انسانی زندگی پرصحبت وماحول کے اثرات ،  ازقلم ، محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ،عبیدہ آباد،سپول ،بہار  یہ ناممکن ہے آۓ پاس اور پھر تر نہ ہوجائے محبت کے اڑا کرتے ہیں فوارے محبت میں، آدمی جس فضاء اور ماحول میں رہتا ہے ، عموماً اس میں رنگ جاتا ہے ، چاہے انھیں اسکا شعور ہو یا نہ ہو ، یہ ایک بدیہی حقیقت ہے ، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ، صالح اور نیک ماحول میں رہتا ہے تو صالح بن جاتا ہے ، مؤمنین صدیقین وشہداء کا درجہ پاتا ہے ، برۓ اور گندۓ ماحول میں رہتا ہے تو اس کے سارے اعضاءِ جسم ، ذہن دل ودماغ اس گندگی اور سنڈاسیت سے مانوس ہوجاتے ہیں اور اپنا قرین فرعون،ہامان ، وسرکش شیطان کو بنا لیتا ہے ، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ : کسی فرد یا قوم کے بننے اور بگڑنے کا اصل مدار اس کے ماحول اور سوسائٹی پر ہوتا ہے انسان نا چاہتے ہوئے بھی اس سے متاثر ہو جاتا ہے اور غیر شعوری طور پر اس کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اسلئے جب تک ماحول درست نہ ہو ،کوئی تعلیم وتربیت کام نہیں دیتی اسلئے قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کو سدھارنے کے لئے ہر شخص پر...
 مثالي استاذ کی علامتیں ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے۔ دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر۔ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں۔ مثالی استاذ کے چند اوصاف ذکر کئے جارہے ہیں۔ مخلص ہو۔  ایک مثالی استاذ کی صفت یہ ہے کہ وہ مخلص ہوتا ہے ، تدریسی بوجھ  اتارنے اور کورس ختم کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت ہی اخلاص ورب کی رضاجوئی کیلئے تدریس کرتا ہے ۔ احساس ذمہ داری۔ مثالی استاذ وہ ہے جنھیں تدریس سے والہانہ لگاؤ ہو،اسطور پر کہ اسے تدریس میں مزہ آتا ہو۔ مثالی استاذ کے اندر مسلسل اسٹڈی ومطالعہ، بحث وتحقیق کا مزاج ہوتا ہے، وہ کثیر المطالعۃ ہوتا ہے ،وہ اپنے سابقہ معلومات کو تجدید کرتے رہتا ہے ، اور مطالعہ وبحث میں وسعت لاتے جاتا ہے اسلئے کہ استاذ کی ثقافت عامہ جتنی بہتر ہوگی اسکی تدریس اتنی ہی کامیاب ہوگی ۔ مثالی استاذ اپنے سینئر جونئر حتی کہ اپنے شاگردوں سے بھی استفادہ کرتاہے ۔ مثالی استاذ نہایت ہی شفیق ومہربان ہ...
  قربانی سے قبل چند چیزوں کی یاددہانی۔ ازقلم ،محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ قربانی کا لغوی معنی۔ ” قربانی ” عربی زبان کا لفظ ہے۔ اصل لفظ ’’ قُربان ‘‘ ہے جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک وقریب ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا ضد ’’ بُعد ‘‘ یعنی دوری ہے۔ قرب سے قربانی کا لفظ مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے۔ جیسے’’قراءت‘‘ کے معنی فقط ’’پڑھنا‘‘ ہے اور قرآن کے معنی اس کتاب کے ہیں جسے بار بار اور کثرت سے پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام حمید کا نام اسی وجہ سے قرآن رکھا ہے کہ کثرتِ قراءت کے اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب اس کے برابر نہیں ہے ۔ اسی طرح بھوکے پیاسے کے لئے عربی زبان میں لفظ "جوعان" ’’عطشان‘‘ استعمال ہوتا ہے۔جاع سے جوعان اور’’عطش‘‘ سے عطشان مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے جس کا مطلب ہے حد سے زیادہ بهوكا پیاسا۔ ان دون مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کوئی لفظ ’’فُعْلَان‘‘ (مبالغہ) کے وزن پر آئے تو یہ کثرت کے معنی دینے لگتا ہے۔ جانور کے ذبح کرنے کے عمل کو قربانی سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کا عمل بندے کو اللہ کے انتہائی قریب...
  المحن في طياتها المنح ​ بقلم: محمد محب الله بن محمد سيف الدين المحمدي ​ وإذا ابتليتَ بمحنةٍ لا تبتئسْ ... فلعلَّ تلك النونُ تسبقُ حاءَها ​الدنيا دارُ الأكدارِ والمنغصات، موطنُ الابتلاءِ وتغيّرِ الأحوال، فالمؤمن الحقُّ هو من يستقبلُ أقدار الله بصدرٍ منشرح، وصبرٍ جميل، طمعاً فيما وعد الله به الصابرين من حسن الجزاء ورفعة الدرجات. ​وكيف لا يصبرُ المؤمن وهو يسمعُ بشارة النبي ﷺ حين قال: "إنَّ العبدَ إذا سبقت له من اللهِ عز وجل منزلةٌ لم يبلُغْها بعمله، ابتلاه الله في جسده، أو في ماله، أو في ولده، ثم صبَّره على ذلك حتى يبلُغَه منزلتَه التي سبقت له من الله تعالى" .( رواه أبو داود 3090. ) ​وصدق الشاعر حين جادت قريحته بوصف هذا اللطف الخفي! كم نعمةٍ مطويةٍ لكَ ... بين أنيابِ النوائب ومسرّةٍ قد أقبلت ... من حيثُ ترتقبُ المصائب ​ حكمةُ البلاء ولطفُ القضاء ​إن الله سبحانه وتعالى عليمٌ حكيم، لا يقضي قضاءً إلا وفيه تمامُ العلمِ وكمال الحكمة وسعة الرحمة، فكم في طيِّ البلايا من عطايا، وكم في رَحِم المحنِ من مِنح! ​إننا نرى في واقعنا أُناساً يتجرعون مرارة العيش، ونفراً يقاسون شدة البلاء، وصا...