قربانی سے قبل چند چیزوں کی یاددہانی۔ ازقلم ،محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ قربانی کا لغوی معنی۔ ” قربانی ” عربی زبان کا لفظ ہے۔ اصل لفظ ’’ قُربان ‘‘ ہے جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک وقریب ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا ضد ’’ بُعد ‘‘ یعنی دوری ہے۔ قرب سے قربانی کا لفظ مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے۔ جیسے’’قراءت‘‘ کے معنی فقط ’’پڑھنا‘‘ ہے اور قرآن کے معنی اس کتاب کے ہیں جسے بار بار اور کثرت سے پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام حمید کا نام اسی وجہ سے قرآن رکھا ہے کہ کثرتِ قراءت کے اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب اس کے برابر نہیں ہے ۔ اسی طرح بھوکے پیاسے کے لئے عربی زبان میں لفظ "جوعان" ’’عطشان‘‘ استعمال ہوتا ہے۔جاع سے جوعان اور’’عطش‘‘ سے عطشان مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے جس کا مطلب ہے حد سے زیادہ بهوكا پیاسا۔ ان دون مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کوئی لفظ ’’فُعْلَان‘‘ (مبالغہ) کے وزن پر آئے تو یہ کثرت کے معنی دینے لگتا ہے۔ جانور کے ذبح کرنے کے عمل کو قربانی سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کا عمل بندے کو اللہ کے انتہائی قریب...
المحن في طياتها المنح بقلم: محمد محب الله بن محمد سيف الدين المحمدي وإذا ابتليتَ بمحنةٍ لا تبتئسْ ... فلعلَّ تلك النونُ تسبقُ حاءَها الدنيا دارُ الأكدارِ والمنغصات، موطنُ الابتلاءِ وتغيّرِ الأحوال، فالمؤمن الحقُّ هو من يستقبلُ أقدار الله بصدرٍ منشرح، وصبرٍ جميل، طمعاً فيما وعد الله به الصابرين من حسن الجزاء ورفعة الدرجات. وكيف لا يصبرُ المؤمن وهو يسمعُ بشارة النبي ﷺ حين قال: "إنَّ العبدَ إذا سبقت له من اللهِ عز وجل منزلةٌ لم يبلُغْها بعمله، ابتلاه الله في جسده، أو في ماله، أو في ولده، ثم صبَّره على ذلك حتى يبلُغَه منزلتَه التي سبقت له من الله تعالى" .( رواه أبو داود 3090. ) وصدق الشاعر حين جادت قريحته بوصف هذا اللطف الخفي! كم نعمةٍ مطويةٍ لكَ ... بين أنيابِ النوائب ومسرّةٍ قد أقبلت ... من حيثُ ترتقبُ المصائب حكمةُ البلاء ولطفُ القضاء إن الله سبحانه وتعالى عليمٌ حكيم، لا يقضي قضاءً إلا وفيه تمامُ العلمِ وكمال الحكمة وسعة الرحمة، فكم في طيِّ البلايا من عطايا، وكم في رَحِم المحنِ من مِنح! إننا نرى في واقعنا أُناساً يتجرعون مرارة العيش، ونفراً يقاسون شدة البلاء، وصا...