التخطي إلى المحتوى الرئيسي

دعوت الی اللہ اہمیت وضرورت


دعوت الي الله اهميت وضرورت. ازقلم محمد محب الله محمدي ...... سپول بھار ،الهند .....٧٠٣٣٧٥٣١٥٥

‌دعوت وتبليغ نشر واشاعات تفهيم وتذكير اصلاح نفس اصلاح حال مجتمع...... يہ چیزیں انبیایی مشن ہیں اور ان چیزوں کی قوم ومعاشرہ کو ہمہ وقت وہر آن سخت ضرورت رہتی ہے.اللہ سبحانہ وتعالی نے انبیاء ورسل کو انہیں ضرورتوں کی تکمیل کے لئے بھیجا جيسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا... انا أرسلنا نوحا الي قومه ان أنذر قومك من قبل ان ياتيهم عذاب اليم قال يا قوم اني لكم نذير مبين (سورة نوح ١)اور اخیر میں پیارے رسول جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر نبوت ورسالت کے خاتمے کااعلان کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی انھیں مقاصد کی تکمیل کے لیے بھیجا جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ہے.. ياايها الني انا أرسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا وداعيا إلى الله باذنه وسراجا منيرا(سورة الأحزاب ٤٥) وقل هذه سبيلي ادعوا الي الله على بصيرة أنا ومن اتبعني وسبحان الله وما انا من المشركين (سورة يوسف ١٠٨) یقیناً دعوت الی اللہ  ایک مہتم بالشان  کام اور عمل جلیل ہیں لیکن آج امت محمدیہ جانكني کے عالم میں ہے اور فرایض و واجبات سے کوتاہ چشم ہیں جبکہ اس امت کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہ لوگوں کو خیر و بھلائی  کی دعوت دینے والے ہیں  اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا... كنتم خير امة أخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر..... اور دوسري آیت میں فرمایا... ولتكن منكم امة يدعون الي الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر (سورة آل عمران)
‌محترم قاريين.... دعوت وتبلیغ سے شرک کا بازار سرد پڑ جاتا ہے گمراہی وطغیانی کے بجاۓ ہدایت اور رحمت کی ہوا چلنے لگتی ہے دل کشادہ ہو جاتا ہے فکر میں وسعت  وزر خيزي آجاتی ہے اور باطل کی آواز دب کر رہ جاتی ہے دعوت الی اللہ سے رحمت بھی عام ہوتی ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت رحمت ہے عن أبي صالح قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يناديه ياأيها الناس إنما أنا رحمة مهداة (سنن الدار رمي ١/ ٦٦ برقم ١٥ )
‌ ( تو آپکے متبعین کی دعوت بھی رحمت ہے)اور اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ... وما أرسلناك الا رحمة للعالمين..  امام ابن کثیر نے فرمایا... ان الله جعل محمداً رحمةللعالمين أي أرسله رحمة لهم كلهم فمن قبل هذه الرحمة وشكر هذه النعمة سعد في الدنياء والآخرة كما قال تعالى.... ألم ترإلي الذين بدلوانعمةالله كفراوأحلوا قومهم دارالبوار جهنم يصلونهاوبئس القرار(تفسير القرآن العظيم ٥/ ٣٨٥)

‌دعوت الی اللہ سے امن وامان قائم ہوتا ہے اسلام پھیلتا ہے  عدل انصاف کا دور دورہ ہو تا ہے .. الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم أوليك لهم الأمن وهم مهتدون (سورة الأنعام ٨٢)  اور جو
اس دعوت کو قبول کرتے ھیں اسکے تقاضے کو پورا کرتے ھیں اللہ انھیں خلافت فی الارض دیتا ہے اور انھیں قوت وصَولہ وسطوت دینی ودنیاوی عطا کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا  ۔۔ وعد الله اللذين آمنو منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم في الأرض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضي لهم................ هم الفاسقو ن (سورة النور ٥٥) داعي الي اللہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ نے اسے امام قرار دیا ہے... وجعلنا منهم ايمة يهدون بأمرنا لما صبروا وكانوا بآيتنا يوقنون(سورة السجدة ٢٤) اور داعي الي الله سے بھلی و اچھی بات اور کس کی ہوسکتی ہے... ومن أحسن قولا ممن دعاء الي الله وعمل صالحا وقال إنني من المسلمين (سورة فصلت ٣٣) اور داعي الي الله کو اللہ نے مفلحین میں شمار کیا ہیں.... ولتكن منكم أمة يدعون الي الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر وأوليك هم المفلحون  سورة آل عمران ١٠٤) اسکے علاوہ بھی بہت ساری آیتیں داعی الی اللہ کی فضیلت ومنزلت سے متعلق موجود  ہے جنکا ذکر طول کا باعث ہو گا  ھمیں یہاں یہ غور کرنا ہے کہ ہم دعوت کے میدان میں اتنے پیچھے کیوں ہے ان تمام فضایل کو جاننے کا کیا فائدہ جب عمل ہی صفر... یہود وعیسایی میدان دعوت میں مستقل کام کررہے ہیں لیکن افسوس کہ جس امت کا مشن ہی دعوت الی اللہ ہے دعوت الرحمہ ہے وہ خواب خرگوش میں محو ہیں آج ضرورت ہے  کہ اس امت کے افراد بیدار ہو اور دعوت کے میدان میں اترے اور لوگوں کے دلوں تک پہنچے  اسلام کا تعارف کرائیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت کو بتائیں اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو تباہی و بربادی  ہماری مقدر بن جائے گی آئیے تغافل تساہل و سستی  کو بھگا ئیے ایک نئے جوش اور نئے جذبے کے ساتھ میدان دعوتمیں علم وفن سے مسلح ہو کر اترییے  ایک مسلمان جب کسی کو کفر وشرک ضلالت و جہالت  شقاوت وبدبختی الحاد و زندقہ میں دیکھیں تو اس کا دل کڑھنے لگے اور اس کا ضمیر تڑپنے لگے اور اس کی ایمانی چنگاری و اسلامی غیرت بھڑک اٹھے اور پھر بے تاب ہو جائے اور اس کو اس  وقت تک قرار چین سکون  اطمینان نہ ہو اور اس  کی آنکھیں  اس وقت تک ٹھنڈی وسکون یافتہ  نہ  ھو جب تک اللہ کا جھنڈا  اور اس کا کلمہ بلند نہ دیکھ لیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کی یہی حالت تھی آپ  کفر و شرک کا غلغلہ دیکھ کر تڑپ جاتے تھے  اور لگتا تھا کہ آپ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے.. فلعلك باخع نفسك على آثارهم ان لم يو منوا بهذاالحديث اسفا.. اس دور میں دعوت و تبلیغ کی ضرورت دہ چند ہو گئی ہے 
‌غیرمسلموں تک  اسلام کو پہنچانے کی اشد ضرورت  ہےآج جبکہ فکری یلغار  یں ہو رہی ہیں  عقائد صحیحہ کو چھپایا جارہا ہے باطل عقائد کا غلبہ ہو رہا ہے     رباوسود زنا کاری عیاری مكاري تبرا بازی لن ترانی وغیرہ کا موسم بنا ہوا ہے اور کچھ لوگ کے اندر ایمان کی رمق باقی بھی ہے تو وہ بھی تباہی کے کگار پے ہے کرپشن غبن لوٹ پاٹ میں خوب اضافہ ہو رہا ہے!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
‌ ضروری ہے کہ اس امت کے افراد ہوش کے ناخن لے بیدار ہو دنیا کے سامنے اسلام کی حقانیت و شفافیت کو پیش کرے اسلامی تعلیمات کو عام کریں  اہل دنیا کو اسلام کے نظام عدل و انصاف سے متعارف کراے ان کے شکوک و شبہات اور غ لط فہمیوں کا ازالہ کرے.. وأمر بالمعروف وانه عن المنكر وأصبر على ما أصابك (سورة لقمان ١٧)

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...
ہوا ہے گو تند وتیز پھر بھی وہ اپنا چراغ جلا رہا ہے وہ مرد درویش جنھیں قدرت نے دی انداز خسروانی #شعر