رمضان اور تلاوتِ قرآن
ازقلم ،محمد محب اللہ سپولی
ترجمہ : رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا وہ انسانوں کے لئے رہنما ہے ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتاہے اور حق کو باطل سے الگ کردینے والا ہے
فضیلت تلاوتِ قرآن : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب{قرآن} سے ایک حرف پڑھا اسکے لئے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ﴿رواہ الترمذی ٢٣٢٧﴾
دوسری حدیث ۔۔۔ الصيام والقرآن يشفعان للعبد يوم القيامة ﴿صحيح الجامع ٣٨٨٢﴾ روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن سفارش کریں گے، اورقرآن کی تلاوت سے دلوں کو سکون ملتا ہے ۔۔تلك السكينة تنزلت بالقرآن ﴿بخاري ٢٣٢٧﴾
لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرۓ انکی کثرت سے تلاوت کرے انکو ہمہ تن گوش کی کیفیت سے سنیں ہمارے اسلاف مثلا امام زہری ،امام مالک وغیرہ ماہ رمضان میں درس و تدریس اور علمی مجالس بند کر دیتے تھے اور قرآن کی تلاوت میں مگن ہوجاتے تھے( بحوالہ۔۔ لطائف المعارف ) ، ہمیں بھی انکی اقتدا کرنی چاہئے ۔۔ لیکن زہے افسوس کہ مسلمان ماہ رمضان میں بھی اناپ شناپ ،لہو ولعب وچٹورپنی میں مست ومگن رہتے ہیں۔۔
مسلمانوں یاد رکھو ۔ تمہارا یہ طرز وہنجار قطعا صحیح نہیں ،ہر شخص اپنا احتساب کرے اپنے آپ کو ٹٹولے کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت قرآن ہمارے خلاف گواہ بن جائے ۔۔القرآن حجة لك أؤ عليك ﴿ مسلم ٥٣٥﴾ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن قرآن سے اعراض کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے ۔۔وقال الرسول يارب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجورا ﴿سورہ الفرقان ٣٠﴾
اللہ جملہ مسلمان ِ عالم کے اندر قرآن سے دلچسپی کو بڑھا دے انکے رگ رگ میں قرآن کی اہمیت کو ثبت کردے اور ماہ سعید ۔رمضان۔ کے ایک ایک سکنڈ کو دینی امور میں استغلال کرنے کی توفیق دے آمین
ازقلم ،محمد محب اللہ سپولی
- رمضان کی آمد مسلمانانِ عالم کو مبارک ہو بالخصوص ان لوگوں کو جو اس ماہ کے ہر ہر لمحہ ذکر و تسبیح،تلاوت قرآن اور قرآن فہمی اور اس پر غوروفکر میں گذار رہےہیں ۔ ہر مسلمان کو ماہ رمضان میں خصوصی طور سے سے تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرنا چاہیے اسلئے کہ اسی ماہ میں قرآن کا نزول ہوا اللہ نے فرمایا ۔۔شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن هدي للناس وبينات من الهدى والفرقان ﴿ سورة البقرة ١٨٥﴾
ترجمہ : رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا وہ انسانوں کے لئے رہنما ہے ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتاہے اور حق کو باطل سے الگ کردینے والا ہے
فضیلت تلاوتِ قرآن : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب{قرآن} سے ایک حرف پڑھا اسکے لئے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ﴿رواہ الترمذی ٢٣٢٧﴾
دوسری حدیث ۔۔۔ الصيام والقرآن يشفعان للعبد يوم القيامة ﴿صحيح الجامع ٣٨٨٢﴾ روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن سفارش کریں گے، اورقرآن کی تلاوت سے دلوں کو سکون ملتا ہے ۔۔تلك السكينة تنزلت بالقرآن ﴿بخاري ٢٣٢٧﴾
لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرۓ انکی کثرت سے تلاوت کرے انکو ہمہ تن گوش کی کیفیت سے سنیں ہمارے اسلاف مثلا امام زہری ،امام مالک وغیرہ ماہ رمضان میں درس و تدریس اور علمی مجالس بند کر دیتے تھے اور قرآن کی تلاوت میں مگن ہوجاتے تھے( بحوالہ۔۔ لطائف المعارف ) ، ہمیں بھی انکی اقتدا کرنی چاہئے ۔۔ لیکن زہے افسوس کہ مسلمان ماہ رمضان میں بھی اناپ شناپ ،لہو ولعب وچٹورپنی میں مست ومگن رہتے ہیں۔۔
مسلمانوں یاد رکھو ۔ تمہارا یہ طرز وہنجار قطعا صحیح نہیں ،ہر شخص اپنا احتساب کرے اپنے آپ کو ٹٹولے کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت قرآن ہمارے خلاف گواہ بن جائے ۔۔القرآن حجة لك أؤ عليك ﴿ مسلم ٥٣٥﴾ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن قرآن سے اعراض کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے ۔۔وقال الرسول يارب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجورا ﴿سورہ الفرقان ٣٠﴾
اللہ جملہ مسلمان ِ عالم کے اندر قرآن سے دلچسپی کو بڑھا دے انکے رگ رگ میں قرآن کی اہمیت کو ثبت کردے اور ماہ سعید ۔رمضان۔ کے ایک ایک سکنڈ کو دینی امور میں استغلال کرنے کی توفیق دے آمین
تعليقات
إرسال تعليق