التخطي إلى المحتوى الرئيسي

رمضان

رمضان اور تلاوتِ قرآن
ازقلم ،محمد محب اللہ سپولی

  • رمضان کی آمد مسلمانانِ عالم کو مبارک ہو بالخصوص ان لوگوں کو جو اس ماہ کے ہر ہر لمحہ  ذکر و تسبیح،تلاوت قرآن اور قرآن فہمی اور اس پر غوروفکر میں گذار رہےہیں ۔ ہر مسلمان کو ماہ رمضان میں خصوصی طور سے سے تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرنا چاہیے اسلئے کہ اسی ماہ میں قرآن کا نزول ہوا اللہ نے فرمایا ۔۔شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن هدي للناس وبينات من الهدى والفرقان ﴿ سورة البقرة ١٨٥﴾ 

ترجمہ : رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا وہ انسانوں کے لئے رہنما ہے ہدایت کی روشن صداقتیں رکھتاہے اور حق کو باطل سے الگ کردینے والا ہے

فضیلت  تلاوتِ قرآن :  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب{قرآن} سے ایک حرف پڑھا اسکے لئے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ﴿رواہ الترمذی ٢٣٢٧﴾
دوسری حدیث ۔۔۔ الصيام والقرآن يشفعان للعبد يوم القيامة ﴿صحيح الجامع ٣٨٨٢﴾ روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن سفارش کریں گے، اورقرآن کی تلاوت سے دلوں کو سکون ملتا ہے ۔۔تلك السكينة تنزلت بالقرآن ﴿بخاري ٢٣٢٧﴾
لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرۓ انکی کثرت سے تلاوت کرے انکو ہمہ تن گوش کی کیفیت  سے سنیں ہمارے اسلاف مثلا امام زہری ،امام مالک وغیرہ ماہ رمضان میں درس و تدریس اور علمی مجالس بند کر دیتے تھے اور قرآن کی تلاوت میں مگن ہوجاتے تھے( بحوالہ۔۔ لطائف المعارف ) ، ہمیں بھی انکی اقتدا کرنی چاہئے ۔۔ لیکن زہے افسوس کہ مسلمان ماہ رمضان میں بھی اناپ شناپ ،لہو ولعب وچٹورپنی میں  مست ومگن رہتے ہیں۔۔
مسلمانوں یاد رکھو ۔ تمہارا یہ طرز وہنجار قطعا صحیح نہیں ،ہر شخص اپنا احتساب کرے اپنے آپ کو ٹٹولے کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت قرآن ہمارے خلاف گواہ بن جائے ۔۔القرآن حجة لك أؤ عليك ﴿ مسلم ٥٣٥﴾  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  قیامت کے دن قرآن سے اعراض کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے ۔۔وقال الرسول يارب إن قومي اتخذوا هذا القرآن مهجورا ﴿سورہ الفرقان ٣٠﴾
اللہ جملہ مسلمان ِ عالم کے اندر قرآن سے دلچسپی کو بڑھا دے انکے رگ رگ میں قرآن کی اہمیت کو ثبت کردے اور ماہ سعید ۔رمضان۔ کے ایک ایک سکنڈ کو دینی امور میں استغلال کرنے کی توفیق دے آمین

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...
ہوا ہے گو تند وتیز پھر بھی وہ اپنا چراغ جلا رہا ہے وہ مرد درویش جنھیں قدرت نے دی انداز خسروانی #شعر