مقام ِ علم قرآن وحدیث واقوال سلف کی روشنی میں۔۔
از قلم : محمد محب اللہ سیف الدین المحمدی
علم نور ہے جہالت تاریکی ہے، علم سے شبِ جہالت کی سخت تاریکی کافور ہوجاتی ہے،اور صبحِ تعلیم کی نئ صبح طلوع ہوتی ہے ، علم سے انسان عروج وارتقاء کے سدرۃ المنتہی تک پہنچ جاتا ہے لیکن جہل اور نادانی عروج وکمال کی راہ میں سدِ سکندری بن جاتی ہے ، انسان کا یہ خمیر ہے کہ وہ عروج وکمال چاہتا ہے کمال کو پسند کرتا ہے ، لہذا دینی ودنیوی مادی ومعنوی ترقی حصول علم پر ہی موقوف ہے ، آئیے فضیلت علم کا دریچہ کھولتے ہیں تا کہ حصول علم کا صراحی طرب سےپئے ۔۔۔۔
فضیلت ِ علم پر قرآنی نصوص ،:اللہ نے علم اور علماء کی شان کو بلند کرتے ہوۓ فرمایا ۔۔يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات والله بما تعملون خبير (سورہ مجادلہ 11) ترجمه ۔۔اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرۓ گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو باخبر ہے ۔۔اس آیت کی تشریح کرتے ہوۓ علامہ شوکانی لکھتے ہیں ۔ومعني الآية أنه يرفع الذين آمنوا على من لم يؤمن درجات ويرفع الذين أوتوا العلم على الذين آمنوا درجات فمن جمع بين الإيمان والعلم رفعه الله بإيمانه درجات ثم رفعه بعلمه درجات (فتح القدير للشوكانى 5/189) یعنی علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ اللہ مومنوں کو غیر مومنوں پر اور اہل علم کو غیر اہل علم پر کئ گنا فوقیت دیتا ہے تو جو شخص ایمان اور علم دونوں سے بہرہ ور ہوگا اسے اللہ تعالیٰ ایمان کی وجہ سے کئ درجات دۓگا اور پھر علم کی وجہ سے کئ درجات عطا کرے گا ۔۔
اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری 1/274 میں اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے ۔۔رب تعالیٰ نے اہل علم ایمان والوں کو غیر عالم اہل ایمان پر رفعت ودرجات کی سربلندی عنایت فرمائی ہے جو علم کی فضیلت کی دلیل ہے اور فضیلت سے مراد ثواب کی کثرت ہے علم بلندئ درجات کا قوی سبب ہے یہ بلندی معنوی بھی ہے اور حقیقی بھی ۔۔۔
دوسرۓ مقام پر رب تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔إنما يخشى الله من عباده العلماء (سورة فاطر 28) اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ھیں ، قل هل يستوى الذين يعلمون والذين لا يعلمون (سورة الزمر 9) کہہ دۓ کیا برابر ھیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نھیں جانتے۔۔ وقل ربّ زدنى علما (سورة طه 114)اۓ میرے رب مجھے علم میں زیادہ کر..ابن حجررحمہ اللہ فتح الباری 1/274) میں فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد ربانی علم کی فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ رب تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سواۓ علم کے اور کسی چیز میں زیادتی کے سوال کا حکم نہیں دیا، یہاں علم سے مراد علم شرعی ہے جو ایک مکلف کو بتلاتا ہے کہ اس پر اسکے دین کی بابت عبادات ومعاملات میں کیا کیا واجب ھے اسی طرح وہ علم مراد ہے جو رب تعالیٰ کی ذات وصفات سے متعلق ہوکہ کون کون سی صفات رب تعالیٰ کے شایان شان ھیں اور کون کون سی باتیں ایسی ہیں جن سے رب تعالیٰ کی ذات منزہ اور پاک ہے۔۔
علم اور اہل علم کی فضیلت کے لئے یہی بات بس ہیکہ رب تعالیٰ نے قرآن مقدس میں ان کا ذکر فرشتوں کے ساتھ ملا کر کیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ..شهد الله أنه لا إله إلا هو والملائكة وأولواالعلم قائما بالقسط (سورة آل عمران ١٨)
فضیلت علم احادیث کی روشنی میں: :. علم کی اہمیت وفضیلت پر احادیث مستفیض ہیں آئیے چند احادیث قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ وابودرداء رضی اللہ عنہما سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے " بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے اپنی میراث میں علم کو چھوڑا ہیں سو جس نے علم حاصل کیا اس نے (سعادت ونجابت) کے بڑۓ حصہ کو حاصل کیا اور جو کسی راستے پر چلا تاکہ اس راستے پر چلکر علم حاصل کرۓ تو رب تعالیٰ اس کیلئے جنت تک (پہنچنے کا )ایک راستہ آسان فرما دیتے ہیں (ابن ماجہ 223، ابوداؤد 3641، ترمذی 2682) علامہ ابن حجر اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں ۔۔اس حدیث میں طالب علم کے لیے اس بشارت کاذکر کہ رب تعالیٰ اسپر طلب علم کو آسان فرمادیں گے کیونکہ وہ ایک ایسے راستے کا طالب ہے جو جنت تک لے جاتا ہے اس حدیث میں دوسری بشارت یہ کہ رب تعالیٰ طالب علم کو ایسے اعمال کی توفیق بخشے گا جو اسے جنت لے جائیں گے ۔۔ بحوالہ فتح الباری 1/308)
2۔۔حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ..من سلك طريقاً يلتمس فيه علما سهل اللہ له طريقاً إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا بما يصنع وإن العالم ليستغفر له من في السماوات ومن في الأرض حتى الحيتان في الماء وفضل العالم على العابد كفضل القمرعلى سائر الكواكب وإن العلماء ورثة الأنبياء ،إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما إنما ورثوا العلم فمن أخذه أخذ بحظ وافر (أخرجه أبوداؤد وابن ماجه ٣٦٤١. ٢٢٣)
ترجمہ : حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو ایک راستے پر اسلئے چلتا ہے تا کہ اس پر چلکر علم حاصل کرۓ تو رب تعالیٰ اسکے لئے جنت تک پہنچنے کا راستہ آسان فرما دیتاہے اور بے شک طالب علم کے آگے جووہ کررہا ہوتا ہے اس پر خوشی کا اظہار کرنے کے لئے فرشتے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں اور بے شک علم دین کے حامل (عالم) کے لئے آسمانوں میں رہنے والے اور زمین میں رہنے والے حتی کہ پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی مغفرت کی دعاء کرتی ہیں اور ایک عالم کی ایک عابد پر (ایسی ) فضیلت ہے جیسے چاند کی فضیلت سب ستاروں پر ہے ۔۔۔۔۔ علامہ خطابی نے فرشتوں کے طالب علم کے آگے بازو بچھادینے کے تین معانی بیان کئے ہیں ۔۔۔۔
أنه بسط الأجنحة ...یعنی فرشتے اس کے آگے اپنے بازو پھیلا دیتے ہیں
أنه بمعنى التواضع تعظيما لطالب العلم ۔۔ یعنی دوسرا معنی طالب علم کے اکرام کیلئے اسکے آگے عاجزی کرنے کا ہے
(3)أن المراد به النزول عند مجالس العلم وترك الطيران …
تیسرا معنی یہ ہے کہ فرشتے علمی مجلس دیکھکر اڑنا چھوڑ دیتے ہیں اور اتر کر اس مجلس میں آبیٹھتے ہیں ۔۔
بحوالہ مختصر منہاج القاصدین صفحہ 13 تا 14
اقوال سلف کی روشنی میں فضیلت علم ۔۔::.
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خادم خاص کمیل بن زیاد سے فرمایا اۓ کمیل بن زیاد یہ دل برتن ہیں اور دل کا سب سے بہتربرتن وہ ہے جو زیادہ محفوظ کرنے والا ہو میں تمہیں جو بات بتلا رہا ہوں اسے میری طرف سے محفوظ کر لو (سنو) لوگ 3 قسم کے ہیں 1۔۔ عالم ربانی ۔۔2 عالم متعلم یہ دونوں نجات کے راستے پر گامزن ہیں 3۔۔۔ اور بے حیثیت اجڈ لوگ جو ہر آواز پر بھیڑ بکریوں کی طرح لپک پڑتے ہیں یہ لوگ ہوا کے رُخ کے ساتھی ہوتے ہیں (کہ جدھر ہوا چلے اُدھر کو چل پڑتے ہیں) نہ تو انکے پاس علم کی روشنی ہوتی ہے اور نہ ان کا سہارا اور پناہ کسی مضبوط ستون کی طرف ہوتا ہے بے شک علم مال سے بہتر ہے علم تیرا حریص ہے جبکہ تو مال وزر کی ہوس رکھتا ہے مال تو خرچ کرنے سے گھٹتا ہے جبکہ علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے عالم کی محبت زندہ رہتی ہے اور مال اپنے مالک کی موت کے ساتھ ہی فنا ہو جاتی ہے خزانوں کے مالک نیست ونابود ہوگئے اور علم والے (اپنی علمی یادگاروں کی بدولت لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں اور صفحۂ ہستی پر اَن مٹ نقش کی طرح) اب بھی زندہ ہیں یہ دنیا جب تک باقی ہے علماء باقی رھیں گے گو ان کے وجود موت کی آغوش میں چلے جائیں گے مگر ان کے کارنامے دلوں میں زندہ اور موجود رہیں گے ۔۔۔بحوالہ ترجمہ فتح ذی الجلال والاکرام محمد آصف نسیم 1/41) ۔۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔۔تعلموا العلم فإن تعلمه لله خشية وطلبه عبادة ومدارسته تسبيح والبحث عنه جهاد وتعليمه لمن لا يعلمه صدقة وبذله لأهله قربة وهو الأنيس في الوحدة والصاحب في الخلوة ۔۔۔بحوالہ مختصر منہاج القاصدین صفحہ 15 ۔۔ترجمہ علم سیکھو کہ اس کا اللہ کیلئے سیکھنا خشیت ،اسکی طلب عبادت اسکا پڑھنا پڑھانا اور مطالعہ تسبیح اسکی بحث وتحقیق جہاد بے علم کو سکھلانا صدقہ اور اس کے لائق لوگوں پر اسکو خرچ کرنا رب تعالیٰ کی قربت ہے یہ تنہائیوں کا دوست اور خلوتوں کا ساتھی ہے ۔۔۔
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔۔ لولا العلماء لصار الناس مثل البهائم.. اگر علماء نا ہوتے تو لوگ چوپائیوں کی طرح رہ جاتے ۔۔ بحواله المصدر نفسه صفحه 15
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ " صحیح نیت کے ساتھ طلب علم سے افضل عمل اور کوئی نہیں ۔۔۔ ۔بحوالہ جامع بیان العلم وفضلہ 1/31
عبد الرزاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کو سنا کہ وہ ایک عرب کو نصیحت کرتے ہوۓ فرما رہے تھے تم لوگوں کا بھلا ہو علم حاصل کرو مجھے ڈر ہے کہ کہیں علم تم لوگوں سے نکل نہ جاۓ کہ پھر تم ذلیل ہوتے پھرو ۔ علم حاصل کرو کہ یہ دنیا وآخرت کی عزت ہے ۔۔ بحوالہ ۔المصدر نفسہ صفحہ 1/68۔۔۔۔
محترم قارئین ::::. بلاشبہ علم اور علماء کے یہ فضائل ومناقب ۔۔مشتے نمونے از خروارۓ ۔۔۔ کا مصداق ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قابل غور پہلو۔۔۔۔۔۔::::::. اس وقت علم کے حصول ، اور راهِ علم کی انتھک کوششوں ، کو ہم نے بھلا دیا ہے نہ تعلیمی میدان میں ترقی کا شعور ہے نا اپنے بچوں کو دینی ودنیوی تعلیم سے مزئین کرتے ہیں بس ہرآن زر ،زن ،وزمین ۔۔کی فکر لگی رہتی ہے اور نئی پود وقت کو بربادی کے بھینٹ چڑھا دیتے ہیں ۔ ہم تعلیمی میدان میں حاشییے اور کنارۓ پر کیوں ھیں کیا ہم فضائل علم کو نھیں جانتے تو آئیے اس مضمون کو ہمہ تن گوش کی کیفیت سے پڑھتے ہیں ۔ سمجھتے ہیں ، اور اپنے بچوں کی تعلیمی فکر کرتے ہیں ۔۔۔۔ یقینا تعلیم کی ضرورت کھانے پینے کی ضرورت سے بھی زیادہ ہے ۔۔۔۔
اللہ ہمیں مقام ِ علم کےسمجھنے کی توفیق دۓ اور آسمان علم وفن کا آفتاب ومہتاب بناۓ آمین ۔۔
تعلیم سے آتی ہے اقوام میں بیداری
ھے علم کے پنجے میں شمشیر جہاداری ۔۔۔
والسلام ۔۔
محمد محب اللہ ،سپول، بہار الہند ۔۔۔
۔
تعليقات
إرسال تعليق