رمضان المبارک تلاوت قرآن کا مہینہ ہے ۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی۔
الحمدللہ رب العالمین! ہماری خوش قسمتی ہے کہ ماہ رمضان المبارک آرہا ہے ،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کی توفیق پائیں گے ۔
علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’جی ہاں! یہ مہینہ ایک بار پھر آگیا تاکہ ہمارے پاس احساس وشعور کی کوئی رمق باقی رہ گئی ہو تو ہم اپنی سال بھر کی بے حسی، لاشعوری اور خودفریبی پر اشک ندامت کے قطرے بہائیں ،ہمارے پاس محاسبۂ نفس کی صلاحیت کاکوئی ذرہ باقی رہ گیا ہو تو ہم اپنی کج روی، غلط کاری اور شر نوازی کو توبہ وانابت سے دھلنے کی کوشش کریں۔ ہمارے پاس خیر وشر کاکوئی امتیاز باقی رہ گیا ہو تو داعیٔ خیر کی ندائے غیبی پر لبیک وسعدیک کہتے ہوئے پیش رفت کریں، ہمارے اندر انسانیت کاکوئی گوشہ باقی رہ گیا ہو تو دنیا پرستی سے نکال کر اخوت وہمدردی اور جود و سخا کادروازہ کھولیں ۔ ہمارے اندر عبدیت کا کوئی حصہ باقی رہ گیا ہے تو عصیاں وطغیاں اور بغاوت وسرکشی کی راہ چھوڑکر اطاعت وعبادت کے ذریعہ اسے مکمل کریں۔ اور ہمارے اندر اپنے انجام پر نظر ڈالنے کے لیے کچھ بھی بصیرت وپیش بینی باقی رہ گئی ہو تو آگ میں جلنے کے بجائے رحمت الٰہی اور فلاح آخرت کادامن تھامنے کی کوشش کریں ۔
یاد رکھئے! وقت کا یہ پیمانہ ہمارے فیصلہ کے انتظار میں رک نہیں سکتا ،یہ رواں دواں پیمانہ ہے اس کا ایک ایک لمحہ ہماری قسمت پر فیصلہ کی مہر لگاتا نہایت تیزرفتاری سے گزرتا جا رہا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غفلت کے نتیجہ میں یہ فیصلہ ہماری ناکامی ونامرادی پر آخری مہر ثابت ہو ،پس اٹھئے اور زندگی
کے بگڑے ہوئے نقشے کو بدل کر رکھ دیجئے‘‘۔
محترم قارئین ۔
لیکن آج حالت یہ ہے کہ ہم رمضان المبارک کے مہینہ سے فایدہ نہیں اٹھاتے۔ مادیت کا خمار ہے اور دنیا داری کی ہوس ہے ۔ اللّٰہ تعالٰی اور اس کی رضا جوئی کی طرف توجہ سے طبائع ہٹ چکی ہیں ،روحانی ترقی ،قلب کی زندگی اور اخلاقی برتری کے اسباب سے ناواقفیت عام ہے ،روح کو جلا بخشنے والے خاص اوقات اور ازمان آتے ہیں اور ہم غفلت میں پڑے رہتے ہیں ۔یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے جس میں اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مقدس کو نازل فرمایا ہے ۔ اور اللّٰہ تعالٰی نے تلاوت قرآن کا حکم بھی دیا ہے ۔
إِنَّمَاۤ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ ٱلۡبَلۡدَةِ ٱلَّذِی حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَیۡءࣲۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِینَ۔وَأَنۡ أَتۡلُوَا۟ ٱلۡقُرۡءَانَۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا یَهۡتَدِی لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلۡ إِنَّمَاۤ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُنذِرِینَ ٩٢ [النمل 91-92]
مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہوجاؤں
اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں، جو راہ راست پر آجائے وہ اپنے نفع کے لئے راہ راست پر آئے گا۔ اور جو بہک جائے تو کہہ دیجئے! کہ میں صرف ہوشیار کرنے والوں میں سے ہوں۔﴿وَٱتۡلُ مَاۤ أُوحِیَ إِلَیۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِهِۦ
وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدࣰا﴾ [الكهف،٢٧
تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا رہ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں تو اس کے سوا ہرگز ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہ پائے گا۔
ٱتۡلُ مَاۤ أُوحِیَ إِلَیۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَـٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَاۤءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ ٤٥﴾ [العنكبوت ٤٤-٤٥]
جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔
امام شوکانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے حکم دیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو(اور رسول کے امت بھی مخاطب ہیں )کہ جو کتاب وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت پر مداومت برتے ۔
(دیکھئے ۔ تفسیر شوکانی ،سورۃ الکہف 27 نمبر آیت
آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ تلاوت قرآن کی کتنی اہمیت ہے بلکہ تاکیدی حکم ہے ،
بعض سلف سے منقول ہے کہ اگر آپ اپنے آپ کو چیک کرنا چاھتے ھیں کہ آپ کا مقام ومرتبہ عند اللہ کتنا بلند ہے تو آپ یہ چیک کریں کہ آپ کا تعلق کلام اللّٰہ سے کتنا ہے ؟آپ کا کتنا لگاؤ اور شغف ہے قرآن مجید سے ۔ نتیجہ آپ کیلئے واضح ہے ۔
محترم قارئین ۔
اللّٰہ تعالٰی نے رمضان میں قرآن مجید نازل کرنے کا ذکر کرکے قرآن اور رمضان کا خصوصی تعلق بتا دیا ۔
نیز صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے اعمال وارشادات سے اسی ماہ مبارک میں کتاب مبارک کی تلاوت کو خاص اہمیت دی ہے ۔
جیساکہ حدیث ہے ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔
رواه البخاري (6) واللفظ له، ومسلم (2308))
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث رمضان المبارک میں قرآن کے مدارسہ (یعنی قرآن پڑھنے پڑھانے معانی و مفاہیم سمجھنے اور سمجھانے اور اس پر عمل کرنے )اور قرآن پر غور و تدبر کیلئے اکٹھا ہونے اور قرآن کو جو زیادہ تجوید ومخارج کے ساتھ اتقان کے ساتھ پڑھنا جانتا ہے اس پر قرآن پیش کرنے اور اس سے سیکھنے کے استحباب پر دلالت کرتا ہے ۔اور اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ماہ رمضان میں کثرت سے تلاوت قرآن مستحب ہے ۔
(بحوالہ ۔«لطائف المعارف» (ص:242-243):
اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا ۔ رمضان المبارک کے مہینے میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا مستحب ہے اسلئے کہ نزول قرآن کی ابتداء اسی ماہ مبارک میں ہوئی تھی ،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ماہ رمضان میں جبرئیل علیہ السلام کو قرآن سناتے تھےاور قرآن مجید کا مدارسہ کرتے تھے ۔ جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال دو مرتبہ آپ نے جبرئیل علیہ السلام کو قرآن سنایا اور مدارسۂ قرآن کیا تاکہ اچھی طرح قرآن ذہن میں محفوظ ہوجاۓ ،اور
تثبت وتأکد حاصل ہوجاۓ ۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے سلف سے منقول بعض ان آثار کا ذکر کیا جس میں یہ منع ہے کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کیا جائے ، اور اسی عمل پر مداومت برتا جائے ۔ ان آثار کو ذکر کرنے کے بعد حافظ ابن رجب نے لکھا ہے کہ جہاں تک بات ہے اوقات فاضلہ جیسے رمضان المبارک کا مہینہ خاصکر رمضان کی وہ راتیں جس میں لیلۃ القدر طلب کیا جاتا ہے یا وہ بابرکت مکان وفضیلت والی جگہیں جیسے مکہ وغیرہ جو لوگ مکے کے باہر سے آتے ہیں ۔ تو ایسے بہترین اور فاضل اوقات اور اماکن میں کثرت سے تلاوت قرآن مستحب ہے زمان ومکان کو غنیمت جانتے ہوئے ۔ اور یہ بہت سارے ائمہ مثلا أحمد واسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے ۔ اور بہت سارے اسلاف کرام کا اسپر عمل ہے ۔
بحوالہ ۔ لطائف المعارف» (ص:246) )
ماہ رمضان اور سلف کا قرآن سے شغف ۔
سلف صالحین رحمہ اللہ اس ماہ میں قرآن پاک کی تلاوت نماز میں اور نماز کے علاوہ بکثرت کرتے تھے ، جيسا كه حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے لطائف المعارف ص 181 میں لکھا ہے کہ (.كان السلف يتلون القرآن في شهر رمضان في الصلاة وغيرها ).ا
پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (بطورِ مثال )نقل کیا ہے کہ وہ رمضان میں دن کے شروع ہی میں مصحف سے قرآن مجید کی تلاوت فرماتیں اور سورج طلوع ہوتا تو سو جاتیں ۔
امام زہری رمضان کے آتے ہی تلاوت قرآن اور مساکین کو کھانا کھلانے پر خاص توجہ دیتے تھے کہ یہ سخاوت و فیاضی کا مہینہ ہے ۔
حضرت امام مالک رحمہ اللہ رمضان المبارک میں حدیث کا درس وتدریس اور اہل علم سے علمی مذاکرات ترک کرکے قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہو جاتے ۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ جب رمضان داخل ہو جاتا تو تمام نفلی عبادتوں کو ترک کر دیتے تھے اور قرآن کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ یعنی زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھتے تھے ۔
امام بخاری رحمہ اللہ رمضان میں ہر دن قرآن ختم کرتے تھے اور رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھ کر ہر تین رات میں قرآن ختم کرتے تھے .
سعید بن جبیر رحمہ اللہ ہر دو رات میں قرآن ختم کرتے تھے ۔
زبید الیامی رحمہ اللہ جب رمضان داخل ہوتا تو خود بھی قرآن پڑھتے اور اپنے اہل وعیال کو بھی پڑھاتے اور قرآن پڑھنے کیلئے ترغیب دیتے تھے ۔
ولید بن عبد الملک رحمہ اللہ ہر تین دن میں قرآن ختم کرتے تھے اور رمضان میں آپ نے 17 مرتبہ قرآن ختم کیا ۔
ابو عوانہ کہتے ہیں کہ میں قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کے مجلس قرآن میں حاضر ہوا رمضان میں یعنی رمضان میں قتادہ قرآن پڑھاتے تھے ۔
قتادہ رحمۃ اللہ علیہ ہر سات رات میں قرآن ختم کرتے تھے ۔ اور جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو آپ ہر تین رات میں قرآن ختم کرتے تھے اور جب آخری عشرہ آتا تو آپ ہر رات قرآن ختم کرتے تھے ۔
ربیع بن سلیمان جو امام شافعی کے شاگرد ہیں کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ رمضان المبارک میں 60 مرتبہ قرآن ختم کرتے تھے ۔ یعنی ہر رات میں دو مرتبہ قرآن ختم کرتے تھے ۔
حافظ أبو بكر بن محمد البلاطنسي رمضان کی ہر رات میں دو مرتبہ قرآن ختم کرتے تھے ،اور آپ کا زندگی کے آخری مراحل میں قرآن سے شغف بہت ہی زیادہ بڑھ گیا تھا ہمیشہ تلاوتِ قرآن اور تدبر قرآن میں مشغول رہتے طلباء آپ سے درس لینے کیلئے آتے تو دیکھتے کہ آپ تلاوت قرآن ہی میں مشغول ہیں ۔
(تفصیل کیلیے دیکھیے ۔ لطائف المعارف لابن رجب رحمہ اللہ ۔و .التبيان في آداب حملة القرآن):
تلاوت قرآن کی تین شکلیں ۔
رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کی تین صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ جب بھی تلاوت کا موقع ملے ،کرلی جاۓ ، دوسری یہ کہ رات کو نماز کے بغیر تلاوت کی جائے ، تاہم تلاوت قرآن کی بہترین شکل اس کو رات کی نماز میں پڑھنا ہے ،
تدبر قرآن کی اہمیت ۔
اللّٰہ تعالٰی نے متعدد آیات میں تدبر قرآن اور غور وفکر کے ساتھ قرآن پڑھنے کی تشویق و ترغیب دلایا ہے ،
اسلئے جب بھی بندہ مومن قرآن کی تلاوت کرۓ تو اسے چاھئے کہ ویسے ہی نا گذار دۓ بلکہ تلاوت حروف ومعانی کا بھی اہتمام کرۓ ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو کلام اللّٰہ وکلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غورو تدبر کرۓ اور سچے دل سے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرۓ تو وہ اس تدبر وتفکر کی وجہ سے حلاوت اورمٹھاس محسوس کرۓ گا اور تلاوت قرآن کے برکت سے ہدایت پاۓ گا ،تلاوت قرآن مریض دلوں کو شفاء عطاء کرے گا اور برکت کا نزول ہوگا اور ایسے ایسے منافع و فوائد کا حصول ہوگا جو دوسرے کسی بھی کتاب کسی بھی نظم ونثر مِیں قطعاً نہیں پاۓ گا ۔
(بحوالہ ۔ اقتضاء الصراط المستقيم 2/270 ۔ )
اور علامہ ابن سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالٰی کی کتاب قرآن مقدس پر غور و تدبیر علوم ومعارف کیلئے چابی ہے اور تدبر قرآن وتفہم کلام اللّٰہ سے بہت سارے خیر و بھلائی کا دروازہ کھلے گا اور اسی قرآن کو پڑھنے سمجھنے اور تدبر وتفکر اور اسکی تعلیمات پرعمل کرنے کی وجہ سے سارۓ علوم وفنون کا اکتشاف ہوگا ۔ اور سارۓ علوم میں تمکنت ورسوخ پیدا ہوگا۔ اور ایمان میں اضافہ ہوگا اور شجرۂ ایمان مضبوط وراسخ ہوجاۓ گا ۔
( بحوالہ تفسیر السعدی صفحہ نمبر 154،)
جو قرآن پڑھنا نہیں جانتا وہ کیا کرے ۔
جو قرآن پڑھنا نہیں جانتا ہے اسے چاھئے کہ وہ اللّٰہ تعالٰی سے دعاء کرۓ اور استعانت طلب کرے کہ اللّٰہ تعالٰی اسے قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق دۓ اسے چاھیے کہ ماہ رمضان میں کسی اچھے مخلص حافظ سے قرآن پڑھنے اور سیکھنے کا اہتمام کرے ہر ممکن کوشش کرے ،جدید طریقے اور موبائل نٹ وغیرہ سے ہی سہی قرآن مجید پڑھنے،سیکھنے ، سننے اور عمل کرنے کی کوشش کرۓ ۔
تلاوت قرآن کے آداب ۔
تلاوتِ قرآن کے چند آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت خیال رکھا جائے، تاکہ ہم عند اللہ اجر عظیم اور ثواب جسیم کے مستحق بنیں۔
اخلاص اور درستگئ نیت ۔ تلاوت قرآن چونکہ ایک عظیم عبادت ہے،اور عبادت کے قبول ہونے کیلئے اخلاص وللہیت شرط ہے، لہٰذا ریا نمود وشہرت کے بجائے تلاوت قرآن سے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ومقصود ہو،
ظاہری وباطنی طور پر طہارت حاصل کریں ،اور وضو وطہارت کی حالت میں ادب واحترام کے
ساتھ اللہ کے کلام کی تلاوت کریں۔ یہ زیادہ بہتر ہے ۔
تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ نہایت خشوع وخضوع قلب وجوارح کے ساتھ باطمینان ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تجوید کے قواعد کے مطابق تلاوت کریں۔
تلاوتِ قرآن کے وقت آیتوں کے معانی و مفاہیم پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ تلاوت قرآن کے وقت ادھر ادھر ذہن نا بھٹکاۓ بلکہ پورے ترکیز وتوجہ کے ساتھ قرآن کی تلاوت فرمائیں ۔
قرآن کریم کے احکام ومسائل پر خود بھی عمل کریں اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صیام وقیام اور تلاوتِ قرآن کی توفیق عطا فرمائے اور تقویٰ والی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔ آمین
تعليقات
إرسال تعليق