عید الفطر سے متعلق چند مسائل
عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱)
’اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بدلے میں تمھیں بہتر دن عطا فرمائے ہیں وہ عید الاضحی اور عیدالفطر ہیں۔
عیدالفطر کا مقصد ۔
عید الفطر کا مقصد رب العالمین کے انعامات و
احسانات کا شکر ادا کرنا اور انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ اپنی بے بضاعتی، کم مائیگی اور کوتاہ عملی کا اعتراف کرنا ہے،یوم عید مسلمانوں کا عالمی اجتماع ہے ، اس اجتماع میں بہت سارے دینی و دنیاوی مصالح ہیں ۔ یوم عید عبادت اور شکر کادن ہے ،خوشی ومسرت کادن ہے عید میں نماز ،اللّٰہ کا ذکر اور دعاء ومناجات ہے ،عید میں لوگوں کو وعظ نصیحت کی جاتی ہے ۔ زندگی گزارنے کے اصول وضابطے بتاے جاتے ہیں ، کدورتیں مٹتی ہیں ، نفرتیں ختم ہوتی ہیں ۔ امن و شانتی ،یکجہتی اور ملک ووطن کی ترقی سلامتی کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں۔ افراد اور مجتمع کی اصلاح کے لئے کوشش کرنے کی تلقین کی جاتی ہے ،قرآن وسنت پر اور صحیح دین پر استقامت وثبات قدمی کی وصیت کی جاتی ہے ، مسلمانوں کے درمیان ربط و تعلق اور صلہ رحمی کا ایک حسین منظر ہوتا ہے ،تحفہ وہدایا گفٹ کرنے اور محبت واخوت میں اضافے کا بہترین موقع ملتا ہے ایک دوسرے سے ملاقاتیں ہوتیں ہیں ،گلے ملتے ہیں معانقہ کرتے ہیں ،اور محبت کی فضا قائم ہوتی ہے ۔ لوگ خوش ہوتے ہیں ، غم وھم ٹینشن وڈپریشن ختم ہو جاتا ہے ۔ اور امن وعافیت کی ہوا چلنے لگتی ہے ۔
محترم قارئین ۔
عید کس کے لئے،حقیقت میں عید کی خوشیوں کے مستحق کون ؟ ۔ شاعر نے بڑے وضاحت سے بیان کردیا ہے ۔
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدَ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ خَافَ الْوَعِیْدَ
عید اس کی نہیں جس نے نئے کپڑے پہن لیے، بلکہ عید تو اس کی ہے جو عذاب سے ڈر گیا (اور اسے امن مل گیا)
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَبَّخَرَ بِالْعُوْدِ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِلتَّائِبِ الَّذِيْ لَا یَعُوْدُ
عید اس کی نہیں جو عود و بخور اور مختلف عطروں سے خوشبو حاصل کرلے بلکہ عید تو اس کی ہے جو ایسی توبہ کرے کہ پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے۔
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ زَیَّنَ بِزِیْنَة الدُّنْیَا
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَوَّدَ بِزَادِ التَّقْوٰی ۔
عید اس کی نہیں جو آرائشِ دنیا سے مزین ہو بلکہ عید تو اس کی ہے جو تقوی کو زادِ آخرت بنا لے۔‘‘
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ رَکِبَ المطَایَا
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَرَکَ الْخَطَایَا۔
عید اس کی نہیں جو قیمتی سواریوں پر سوار ہو بلکہ عید تو اس کی ہے جس نے گناہوں کو ترک کردیا۔‘‘
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ بَسَطَ الْبَسَاطَ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ جَاوَزَ الصِّرَاطَ ۔
’عید اس کی نہیں جو عید ملن پارٹیوں کے دسترخوان بچھائے بلکہ عید تو اس کی ہے جو پل صراط سے سلامتی کے ساتھ گزر گیا۔
محترم قارئین ۔ یہ ہے عید کی حقیقت ، اب سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے انعامات اور بخششوں سے کس کس نے فائدہ اٹھایا ، رب رحیم وکریم کی برکتوں ورحمتوں سے کتنوں نے جھولیاں بھریں ،اپنے گناہوں خطاؤں کی معافی کیلئے کتنے سر بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوۓ،کتنے لوگوں نے دوسرے کے حقوق واپس کئے ،کتنے گناہ نہ کرنے کا عہد وپیمان لیا ،کتنوں نے غریبوں ضعیفوں پر ظلم وستم نہ کرنے کا وعدہ کیا ، کتنوں نے اپنی اور دوسروں کی مغفرت کیلئے ہاتھ اٹھاۓ ، کتنوں کو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ سے نجات پانے کی خوشخبری ملی ،اور جنت میں داخلہ کا مژدہ ملا ۔
پیاسا سمندر کے قریب پہنچ جائے اور خشک ہونٹوں کو تر بھی نہ کرپاۓ ! اف یہ حرماں نصیبی ہے بد قسمتی ہے ، سورج نکلا اور غروب ہوگیا لیکن شپرہ چشموں نے دانستہ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اسکی روشنی نظر بھر کر نہ دیکھا ،رمضان آیا اور چلا گیا لیکن بد قسمت نے اپنے آپ کو نہیں بدلا ،وہی چال پرانی وہی رویہ قدیم وہی ادا ،پھر ایسے ہی لوگوں کو دیکھئے عید کی خوشی میں پیش پیش ہیں ، زیادہ شان وشوکت، نہایت ہی طمطراق ذوق وشوق اورلگن سے یہی لوگ عید منارہے ہیں جنھوں نے رمضان کو آتے دیکھا مگر اس سے کوئی نفع نہ اٹھایا اور احکام الہٰی سے صاف و صریح رو گردانی کی ۔
عید دراصل اعمال صالحہ وخصال طیبہ کی طرف رجوع کرنے اور گناہوں و پاپوں سے ہمیشہ کیلئے تائب ہونے کا نام عید ہے ، برائیوں سے توبہ کرنے ،جرائم کی مغفرت چاھنے اور آئیندہ نیک رہنے کا عہد کرنے والے ہی عید کی حقیقی مسرتوں اور خوشیوں سے لذت اندوز ہوسکتے ہیں ۔
صلاۃ عید کا حکم ۔
نماز عید فرض عین ہے صحیح قول کے مطابق جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ،علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی،شیخ ابن عثیمین ، اس کے وجوب کی طرف اپنا رجحان فرمایا ہے۔علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا بھی اسی طرف میلان ہے اور اسے ہی انہوں نے حق قرار دیا ہے اور نواب صدیق حسن خان اور امام
شوکانی رحمہ اللہ کا اختیار بھی یہی ہےواللہ اعلم ۔ (دیکھئے تفصیل کے لئے صحیح فقہ السنہ 598 تا 599الصيام في الإسلام في ضوء الكتاب والسنة 620 تا 623 ۔تمام المنۃ (ص: ۳۴۴) الروضۃ الندیة(١/ ۴۲)
آداب عید ۔
عیدگاہ غسل کرکے اور نئے کپڑے پہن کر جانا مستحب ہے ،صحابہ کرام کے افعال سے یہ چیز ثابت ہے ۔
مستحب ہے کہ اچھے سے طہارت حاصل کرۓ اور مسواک وغیرہ کرکے خوبصورت اور نظیف ہوکرعیدگاہ کیلئے نکلے ۔
عید الفطر کو عید گاہ جانے سے قبل کچھ کھا لینا(کھجور وغیرہ )سنت ہے ۔ اسکی حکمت یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ عید کے دن بھی روزہ ہے ،جیساکہ بعض عوام ایسا کرتے ہیں عیدگاہ جانے سے قبل کچھ نہیں کھاتے ہیں اور صلاۃ عید ادا کرنے کے بعد ہی کچھ کھاتے پیتے ہیں کہ آدھا روزہ ہوگیا ۔اس غط فہمی کو دور کیا جانا چاھئے ، اسلام میں آدھا روزہ نہیں ہے بلکہ عید کے دن روزہ حرام ہے ۔
نماز عید سورج نکلنے سے تھوڑی دیر بعد ادا کرنی چاہیے ،زیادہ دیر نہیں لگانی چاھئے ۔
مأموم ومقتدی کے لیے مستحب ہے کہ نماز فجر کے فوراً بعد عیدگاہ چلا جائے تاکہ پہلی صف میں جگہ ملے امام سے قریب ہوکر نماز پڑھے اور انتظار صلاۃ وقربت امام کا ثواب حاصل کرۓ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا نماز فجر کے بعد فوراً عیدگاہ جانے کی سنیت(یعنی سنت ہونے پر )پر متعدد دلائل ہیں ۔ جیساکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورج نکلنے کے فوراً بعد نکلتے تھے عیدگاہ کیلئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاتے تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہلے سے ہی موجود ہیں ۔ اسی طرح جلدی سے عیدگاہ چلا جانا گویا خیر و بھلائی کے کام میں سبقت حاصل کرنا ہے ، اور اسی طرح جب وہ انتظار کرۓ گا نماز کا تو جیساکہ حدیث ہے کہ وہ نماز میں ہی ہے ۔ اور اسی طرح اگر جلد پہنچ جائے گا تو امام کے قریب ہوگا ۔ اور یہ ساری علتیں شریعت کو مقصود ہیں لہذا نماز فجر کے فوراً بعد ہی عید گاہ نکل جانا چاہیے ۔ البتہ امام کو چاھئے کہ جماعت کے وقت آۓ اسلئے کہ امام کا انتظار کیا جائے گا نا کہ امام انتظار کرے گا ، جیساکہ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ سنت تو یہی ہے کہ امام اتنا پہلے نکلے کہ جاۓ نماز تک پہنچ جاۓ اور نماز کا وقت بالکل ہوجاۓ ۔
عید کی نماز کھلے میدان میں ادا کرنی چاھئے ۔
عیدگاہ جاتے ہوے راستہ میں بلند آواز سے مرد حضرات کو تکبیرات کہنا چاہیے ۔
عید کی نماز پڑھنے کےلئے پیدل جانا مستحب ہے ۔
عورتوں کیلئے بھی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ بھی عید کیلئے جایا کریں( باپردہ ہوکر خوشبو وغیرہ کا استعمال نہ کریں )حتی کہ جو عورتیں ایام مخصوصہ میں مبتلا ہوں وہ بھی جائیں مگر وہ نماز نہ پڑھیں صرف دعا میں شریک ہوں ۔
نماز عید کی دو رکعتیں ہیں اس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں ہے ،صلاۃ عید کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہنی چاھئے ۔
نماز عید کے بعد خطبہ سننا سنت ہے ۔
ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دینا مشروع ہے ۔
جس راستہ سے عید کے لئے جاۓ اسی راستہ سے واپس نہیں لوٹنا چاھئے ،راستہ بدلنا سنت ہے ،راستہ بدلنے کی بہت ساری حکمتیں علماء نے بیان کئے ہیں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء و اتباع ہے ۔
دوسری حکمتیں بھی ہیں جیسے ۔ تاکہ دونوں راستوں میں شعائر اسلام کا اظہار ہوں ، تاکہ اللہ کے ذکر کا اظہار ہوں ،تاکہ دونوں راستوں کے باشندوں میں مسرت اور خوشیوں کی فضا قائم ہوں اور دونوں راستے کے لوگ مستفید ہوں علماء سے فتویٰ پوچھیں رہنمائی حاصل کریں ،صدقہ کریں اور ایک دوسرے کو سلام وکلام ومعانقہ کریں ۔
تاکہ دونوں راستوں میں موجود اقرباء ورشتے دار کی زیارت ہوسکے اور صلہ رحمی کریں ۔ تاکہ بھیڑ کم ہوں
اور ایک حکمت یہ بھی ہے کہ راستہ چینج کرنے سے یعنی کہ نیک فال لے اور اچھا گمان یہ ہوں کہ حالت اب تغیر پذیر ہے گناہوں سے توبہ کرکے نیک کام کی طرف رجحان ہورہا ہے اور اللہ کی رضا و مغفرت حاصل ہوگی ان شاءاللہ تعالیٰ (یکھئے تفصیل کے لئے ۔ صحيح فقه السنة وأدلته وتوضيح مذاهب الأئمة 601 تا608۔ الصيام في الإسلام في ضوء الكتاب والسنة 650 تا 660)
عید کے بعض منکرات ۔
عید کے دن بہت سارے نوجوان مرد وخواتین منکرات
اور برۓ اخلاق وکردار کا مظاہرہ کرتےہیں خوشی کے دن میں رب کو ناراض کرتے ہیں جس رب نے خوشی کادن ہمیں میسر کیا ہے ہم اسے ہی ناراض کرتے ہیں ۔ ذرا سوچئے ۔ بہت سارے لوگ عید کی تیاری کرتے ہیں داڑھیاں کاٹ ڈالتے ہیں ، کفار ومشرکین کے اسٹائل اپناتے ہیں عید کی خوشیاں منانے کے لئے ، اپنے کپڑے پائجامے وغیرہ ٹخنوں کے نیچے تک لٹکاتے ہیں ۔ عید کے دن گانا باجا موسیقی وغیرہ خوب سنتے ہیں ۔ اسراف وفضول خرچی حد درجہ کرتے ہیں ۔ اختلاط مرد وزن ہوتا ہے ،خاصکر عید کے روز پارکوں ہوٹلوں اور ڈھابوں میں جاکر خلافِ شریعت کام کرتے ہیں۔ عید کے دن رئیسوں دھنا سیٹھوں میں تکبر تبختر،اکڑ رعونت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ،غریبوں مسکینوں کا تعاون نہیں کرتے ہیں ۔عید کے دن عورت مرد کی مشابہت اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے اور مرد عورت کی مشابہت اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دونوں صورت حرام ہیں ۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں شریعت کے تمام مسائل کا علم عطا فرمائے اور عید سعید کی خوشیوں کا حقیقی مستحق بناۓ، دین کے تمام تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق دے اور یہ عید ہماری زندگی میں بہار لاۓ اور ہمیں اپنے آپ کو بدلنے اور مستقبل کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
تعليقات
إرسال تعليق