التخطي إلى المحتوى الرئيسي

علا كا سفر

 محمد محب الله المحمدي كا سفر علاء مدائن صالح ،وجبل الفيل ..

 ۔
سفر عُلا کے کچھ خواطر ۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی 
سیر و سیاحت ،جولان جہاں ، زیارت ہفت اقلیم سے دلوں میں نشاط ،بجھے قلب، وحزیں دل میں حرکت ، غم وہم حزن وملال کے فضاء میں ارتعاش اور کارخانۂ حیات میں ایک خوشگوار تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے ۔ اگر دل بجھ گیا ہوں ،مشاکل زیست اور متاعب حیاۃ سے دل مکدر ہوگیا ہوں تو لطف انجمن ،سیم وزر نعمت کشور کشائی سب پھیکا،تیکھا ،وبے مزہ لگتا ہے ۔
ع ۔ 
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب 
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو ۔ 
انسانی زندگی کی عزیز متاع خود اس کی دلی زندگی ہے ۔ دنیا جہاں کی ساری دلچسپیاں ، ساری رونقیں اور ساری نیرنگیاں اسی وقت تک ہیں جب تک خود اس کے قلب و جگر میں شادابی کی کوئی امنگ اور زندگی کی کوئی رمق باقی ہو ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم باغ میں جاتے ہو سبزہ کو دیکھتے ہو ، لہلہاتے کھیت اور جھومتے درختوں کا نظارہ کرتے ہو ، ٹھنڈی اور خوشگوار ہواؤں سے لطف اندوز ہوتے ہو ، ننھی کلیوں اور بہاروں بھرے گلوں سے اپنی مشام جان معطر کرتے ہو ، لچکتی شاخوں پر طیور چمنستانی کی دل آویز صداؤں سے سرشار ہوتے ہو ، آسمان پر ستاروں کی مجلس شبینہ اور چاندنی کی حسن افروزیوں سے شاد کام ہوتے ہو ۔ یہ دلکشی ودیدہ زیبی یہ خوشیاں کب ہوتی ہیں ۔ جب دل کی دنیا آباد ہوتی ہے ، 
جب من شاد ہوتا ہے اور جگر فرحان ہوتا ہے ۔ 
جمود پسند طبیعت ٹھیک نہیں ہے ،زندگی حرکت ونشاط کا نام ہے ۔
جی ہاں ۔ سلیقہ مندی ،منصوبہ بندی ،مطالعہ کون وجہاں ، قدرتی جمال وفطری حسن ،وعجائب جہاں کے مشاہدہ کی نیت سے سیر و سیاحت ، تفریح طبع  صحت مند دل ،زندہ و شگفتہ حیات کی نشانی ہے 
سیر و سیاحت سے آپ کے شعور وآگہی میں بالیدگی اور فکر ونظر میں نکھار آتا ہے ،سیر و سیاحت دلوں کو صیقل اور اذہان کو مجلی ومصفی کرتا ہے، آپکی  ثقافتی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں ، یہ آپ کے ذہنی افق کو وسیع کرتا ہے اور فہم وفراست میں تنوع پیدا کرتا ہے یہ آپ کی تکوینی و تخلیقی لیاقتوں کو بہتر بناتا ہے، یہ آپ کی کارکردگی کو حسین  بناتا ہے، یہ آپ کو ذاتی فروغ کے مواقعے فراہم کرتاہے،آپ کے خودی کو سنوارتا ہے، عرفان نفس کا پاٹ پڑھاتا ہے،اورانبساط قلب و جگر ،روحانی سعادت اور اچھی صحت کے لیے نقل وترحال و جولان عالم  مساعد معاون ہے۔ سیر و سیاحت اور نقل وترحال اسفار جہاں پر شعراء کے احساسات سنئے ۔ کہتےہیں ۔ 
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں 
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں ۔ 

صحرا سے ہوکےباغ میں آیا ہوں سیر کو 
ہاتھوں میں پھول ہیں مرۓ پاؤں میں ریت ہے ۔ 

گرم آنسوں اور ٹھنڈی آہیں من میں کیا کیا موسم ہیں 
اس بغیا کے بھید نہ کھولو سیر کرو خاموش رہو ۔ 
تو خزاں میں جو سیر کو نکلے 
ہرۓ ہو جائیں بے بہار درخت

اگر انسان کی زندگی میں سیر و سیاحت نہ ہوتی تو شاید زمین پر انسان تو ہوتے مگرکوئی بھی کسی تک رسائی حاصل نہ کر پاتا۔ آج انسان جو اتنا علم رکھتا ہے ساری دنیا کے چپے چپے ،گوشے گوشے کی انفارمیشن اس میں سیاحت کا بڑا ہاتھ ہے اور جو علم کے حصول کے لیے سیر و سیاحت کرتے ہیں وہ واقعی مسائل کی بہت سی چوٹیاں سر کر لیتے ہیں۔ بہت سی گنجلک مسائل حل کرلیتے ہیں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ سفرکے دوران بہت سی ایسی اجنبی جگہ پر انسان پہنچ جاتا ہے جہاں خاص طور پر تہذیب وثقافت اور روایات سے بالکل انسان آشنا نہیں ہوتا، تو یہ سیاحت آپ کے اندر مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور آپ مختلف مسائل اور مشکل حالات کا منطقی حل نکالنے کے قابل ہوں گے۔ بہت سے لوگ اجنبی راستوں، اجنبی منزلوں کی وجہ سے چپ چاپ اپنا راستہ الگ کر لیتے ہیں۔ بقول اختر شمار کے اس شعر کی طرح۔
ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا
نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون

سیر و سیاحت خوشگوار زندگی میں بہترین اضافہ اور تحسین وتحبیذ کاکام 
 ۔ کرتا ہے
سیاحت نہ صرف سیر و تفریح اور صحت افزائی کے لیے مفید ہے بلکہ سیاحت سے مقامی آبادی اور اس ملک کی اقتصادیات کو تقویت ملتی ہے،ملک کی شہرت میں چارچاند لگ جاتی ہیں ۔ لوگوں کو مختلف وظیفے کے مواقعے فراہم ہوتے ہیں۔ سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کوایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے میں دوسرے میں رائج ہو جاتی ہیں۔ 
سیر و سیاحت یاد داشت اور دماغی صحت میں بہتری، توانائی میں اضافہ اور نیند میں بہتری کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ''سال میں ایک بار سیاحت کے لیے نکلنا دل و دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔'' اسی لیے بہت سے تعلیمی ادارے اپنے طلبہ کو سیر و سیاحت کے لیے دور دراز مقامات پر لے جاتے ہیں، جہاں نئی جگہ کی سیر، اس کو دیکھنا اور وہاں جانے سے قبل خوش اور پرجوش ہونا، یہ سب طلبا کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک آشفتہ چنگیزی کا ایک خوبصورت خیال یاد آ رہا ہے کہ۔
کس کی تلاش میں ہمیں کس کے اثر میں ہیں
جب سے چلے ہیں گھر سے مسلسل سفر میں ہیں
اور سفر علم کے بارے میں بعض نے کہا کہ ۔ 

چلی ہے لے کے وطن کے نگارخانے سے
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو۔
سیاحت کی مختلف اقسام ہیں جیسے قدرتی نظاروں کو دیکھنے والی سیاحت، مذہبی سیاحت جس میں لوگ مذہبی جگہوں کو دیکھنے جاتے ہیں، تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ کی زیارت پرکھوں کے اشغال و کارکردگی کا مشاہدہ یہ چیزیں انسان کو ماضی سے جوڑتی ہیں ،حال ومستقبل کے بدلتے ہوۓ حالات اور تطورات کے درمیان ربط و تعلق ،اور مناسبت  کا علم ،کتنے ایسے عظیم الشان کام کی ابتداء یا فکرہ یا خشت اول پرانے لوگوں نے رکھے تھیں ۔ جبکہ اکمال وانتہاء کی توفیق بعد والوں کو ملی ۔ 
ان آثار کو دیکھ کر ،مطالعہ کون وجہاں کے بعد ایک ابداعی ذہن کامالک بہت کچھ مواد اور بہت سارے خطے ذہن ودماغ میں مرتسم ہو جاتے ہیں اور اس نواۃ اولی سے فائدہ اٹھاکر وہ ہونہار اپنے کیرئیر کو خوبصورت بناتا ہے ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ عالم اسلام کے لئے ایک عظیم تحفہ اور ہدیہ ہے یہ جامعہ طلباء کیلئے سب کچھ لٹاتے ہیں سارے اخراجات برداشت کرتے ہیں اور بہت کچھ مساعدہ کرتے ہیں ۔ جامعہ کا عمادۃ شئون الطلاب نہایت ہی نشیط، فعال ہے ۔ ہر لمحہ روان دوان ۔ع
اسی طرح یاں اہل ہمت ہیں جیتے 
کمر بستہ ہیں کام پر اپنے اپنے 
زمیں سب خدا کی ہے گلزار انہیں سے 
زمانہ میں ہے گرم بازار انھیں سے ۔ 
ہنوز آمدم بر سر مطلب ۔
گزشتہ ایک مہینے سے مسلسل عمادہ کے جانب سے طلاب کو عُلا نامی جگہ زیارت کے لئے لے جاتے ہیں ۔ مدائن صالح ،صخر الفیل پہاڑوں زقاقوں پگڈنڈیوں محیر العقول گھروں ومکانوں ،باغوں خیموں کی زیارت کراتے ہیں،اور عجائب دہر سے روشناس کراتے ہیں ،جبال راسیات کا مفہوم اگر سمجھنا ہوں کتب تاریخ میں پڑھے ہوۓ واقعات کی تصدیق مطلوب ہوں ،ریتوں سنگریزوں ،پتھروں آدمی نما جبل ،قبیلہ نما پہاڑ ،پہاڑوں کی نقش ونگار تزئین وآرائش ،کا اچھوتا انداز دیکھنا ہوں تو ضرور العُلا کی زیارت کیجئے گا ۔ بسیں جب پہاڑوں کے بیچوں بیچ راستوں سے گذرنے کے لئے اوپر چڑھنے لگتی  ہیں تو ذہن ودماغ میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوجاتی ہےاور بسیں نیچے ھبوط کرنے لگتی ہیں تو وہ مشہور شعر۔ 
مكر مفر مقبل مدبر معا 
كجلمود صخر حطه السيل من عل . 
یاد آجاتی ہے ۔ ،
العلا کے کھنڈرات ،2600سال قدیم عمارتیں اور سناٹے کی کیفیت دیکھ کر جاوید اختر صاحب یاد آتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ:
ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سے
لیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا۔
 العلاء مدینہ منورہ شہر سے تقریبا 350 کلومیٹر دور واقع  ہے۔ سعودی عرب میں انتہائی ثقافتی و تمدنی آثار سے مالا مال یہ علاقہ ہے، العلاء ایک ایسا صحرا ہے جہاں بعض آثار قدیمہ زمین پر نظر آتے ہیں جبکہ بہت سارے زیر زمین دفن ہیں یہاں قوم ثمود، مدائن صالح اور الحجر کے آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں۔ آج یہ ایک مکمل سیاحتی شہر بن چکا ہے ۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمران اسے مشرق وسطیٰ کا انتہائی اہم سیاحتی مقام بنانے کیلئے عملی طور پر کوشاں ہیں۔ سعودی عرب میں مدائن صالح یا الحجر پہلا سعودی مقام ہے جسے یونسکو نے عالمی ورثے کی فہرست میں سنہ 2012 میں شامل کیا تھا۔ ترکوں کے عہد سلطنت عثمانیہ کے دور میں اسی راستے سے حجاز ریلوے کی ٹرین کی گزرگاہ بھی بنائی گئی تھی۔
خیر ۔ زندگی میں پہلی بار اس شہر اور نگری کی زیارت نصیب ہوئی بہت سارۓ رحلات وجولات میں مشارکہ ہوا لیکن اتنا منظم و فایدہ مند کوئی رحلہ نہیں تھا ۔
اثناء سفر 
بار بار بانئ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور ان کے زمام قیادت سنبھالنے والوں کیلئے دل سے دعائیں نکل رہی تھیں اور کسی کا یہ شعر کہ ۔ 
غنچوں میں اہتزاز ہے پرواز حسن کی 
سینچا تھا کس نے باغ کو بلبل کے خون سے ۔
ممتع سفر کیلئے مرنجا مرنج دوستوں کا انتخاب بھی شرط ہے ۔ سفرمیں اچھے اور بے تکلف ساتھیوں 
کی مصاحبت سے تھکان سفر کا احساس نہیں ہوا ۔ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ احباب ہمرکاب تھے اس سفر میں جنکے بارے میں کہا گیا ہے ۔ 
ذوقے چنان ندارد بے دوست زندگانی ۔ 
ہم دن بھر سفر کرتے ہوے علا کے چپے چپے خطے خطے کو یادگار بناتے ہوۓ الحجر میں خیمے پہنچے جو سبزباغوں لیمون وسنترے ،پھلوں اور پھلوں کے بیچ خیمہ  ہے ۔وہاں فروکش ہوۓ ۔  ٹھنڈ ہوائیں اور باران خفیف کا لطف لیتے ہوئے ہم سب گویا گنگنا رہے تھے ۔ اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیئے
دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھیئے۔
چونکہ عرب کےصحراء میں ہم سب تھے اور ہوائیں بھی چل رہی تھیں تو ہم نے اقبال کو بھی یاد کیا کہ ۔ 
تو اے باد بیابان از عرب خیز
ز نیل مصریان موجے برانگیز
: اے صحرا کی ہوا تو عرب سے اٹھ اور اہل مصر کے دریائے نیل میں لہر پیدا کر ۔ (یعنی مسلمانوں کو اہل فرنگ سے نجات دلا کر اسلام کی حقیقی روح سے آشنا کر)
خلاصۃ الکلام یہ ہے کہ ۔ یہ سیاحتی سفر بہت کامیاب و لطف اندوز رہا ۔یاروں کی ہمرکابی سے خصوصا شیخ سرفراز محمدی،فخرل الحسن محمدی ،امام الدین محمدی ،حبیب جامعی ،اور سائق ومشرف وغیرہ کے ساتھ دیرینہ بے تکلف کی صحبت رہی ۔ اوروقت کیسے گذر گیا شعور تک نہیں ہوا ۔ 
ابکے وقت اس قدر تیزی سے گذر گیا 
کہ یادیں بھی ٹھیک طرح سے رقم نہ ہوسکیں ۔
۔ بہر حال ہم سمجھے کہ ۔ 
سیر و سیاحت کے دوران نت نئے لوگوں سے ملنا، ان کی کہانیاں سننا، ان کے رہن سہن کا مشاہدہ کرنا اور ان کے تجربات سے فائدہ اُٹھانے سے آپ کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا سمجھنے کا موقع ملتا ہے، اگر آپ ان کی لینگویج سمجھ نہیں پائے، لیکن باڈی لینگویج سمجھ میں آتی ہے۔ اپنے کلچر اور دوسرے ممالک کے کلچرکی آگاہی کے لیے نت نئے مقامات کے سفر پر نکلنے سے نئے لوگوں سے ملاقاتیں، ان کے رسم و رواج سے آگاہی اور مزے مزے کے کھانے اور موسموں کے بدلتے نظارے آپ کی زندگی کو خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں جب ہم سفر سے لوٹتے ہیں تو ہمارے پاس بہت سارا مواد، تصویریں اور سلیفیز ہوں گی جو ہم دوستوں اور عزیز و اقارب کو شیئر کرتے ہیں تاکہ ہماری طرح دوسرے لوگوں میں بھی خوشگوار تبدیلی آ سکے ۔ تو پھر دیر کس بات کی آپ  سب بھی علا جائیے اور لطف اندوز ہوئیے۔ 
مضمون لما ہوگیا معذرت ابھی باتیں باقی ہیں ۔ 

کتبہ ۔ 
محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی 




























تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...
ہوا ہے گو تند وتیز پھر بھی وہ اپنا چراغ جلا رہا ہے وہ مرد درویش جنھیں قدرت نے دی انداز خسروانی #شعر