التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

المحن في طياتها المنح 
فكم من أناس يعانون مرارة العيش ونكد الحياة،وكم من نفر يقاسون شدة البلاء وحدة المصيبة ،وكم من صالحيين تكدرت أنفسهم ومهجهم من المخالفة والتحديات التي يلاقون في سبيل الصلاح والخير والبر ، وكم من علماء أجلاء محترقين في سبيل الدعوة والمضطهدين لأجلها ،ولكن المتحمس المتحري. والمتيقن المستسلم والراضي بقضاء الله وقدره والناظر الفاحص إلى أمور الآخرة لا يبالون من الهمجيين والرعاع الناعقين النابحيين كالكلاب ،ولا يرون من يريد النيل منهم،ومن يحاول إسقاطهم ،فإنه يعتقد اعتقادا لا يخالطه شك ،أن المعز والمذل الله هو الله القاهر فوق عباده ،،هو العزيز فلا يرام جنابه ، فلا يلتفت أبدا مين يتبجح ، مين يترفع ويتعالى ،ومن يتعالى على أكتاف العلماء فيندق يوما ما ،هذه تجربة شاهدة عادلة ناطقة .
نعم يتورط العلماء في المشاكل ،تعتريه المحن ،،ولكن أهل الحق يعلوون ويفوزون وإن طالت مدة المحن ، 
فأثبت في سبيلك أيها الداعية ،استقم أمرك ،ولا تروغوا روغان الثعالب ،المحن تخرج لك الخيرالكثير ما أنت تحسب ،ف الله الله . أبشر ولا تبتئس ولا تقنط من رحمة الله ،أفلا رأيت سيرالعلماء النابهيين كيف قاسوا مرارة الحياة ولكنهم فازوا وخسروا أعدائهم . فأبشر وأبشر إن المحن في طياتها المنح . 
وتذكر قول السعدي رحمه الله كلما ضاق الأمر اتسع قال تعالى . ألا إن نصر الله قريب . فهكذا من قام بالحق فإنه يمتحن . فكلما اشتدت عليه وصعبت . إذا صابر ثابر على ماهو عليه. انقلبت المحنة في حقه منحة ،والمشقات راحات وأعقبه ذالك الانتصار على الأعداء وشفاء ما في قلبه من الداء.
بالله عليك هذا قول جميل ينبغي بنا أن نتأمل فيها .

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...
ہوا ہے گو تند وتیز پھر بھی وہ اپنا چراغ جلا رہا ہے وہ مرد درویش جنھیں قدرت نے دی انداز خسروانی #شعر