عقل پرستی اور اسکی خطرناکی ۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
دنیا میں موجود ہر چیز کی عقلی تفسیر و تشریح ،یا ہر چیز کے اثبات یا نفی کیلئے اور خصائص کی تحدید کیلئے عقل کا سہارا لینا ،عقل کو اتھارٹی اور فیصل کا درجہ دینا عقلانیت یا عقل پرستی ہے ۔
یعنی عقل پرستی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مقابلے میں اپنی عقل ،فکر سوچ اور دانشوری کا استعمال کرنا،یاعقل کو شرعی نصوص پر مقدم رکھنا۔ قرآن وحدیث نے جو کچھ کہا، اسے دل وجان سے قبول کرنے ،ماننے اور تسلیم کرنے کے بجائے، اپنے فہمِ کج وناپختہ فکر ،ناقِص عقل کے زور پر اس کا بالکلیہ انکار کردینا۔ یا نصوص شریعت کامن مانی تشریح کرکےحلیہ بگاڑ دینا ، یا شک وریب کے دائرے میں نصوص شریعت کو رکھناعقل پرستي هے۔
تعقل پسندی فکری انارکی اور عقل پرستی کا ایک طوفان بلا خیز اسوقت نسل نو کے سامنے ہے، فکری چیلنجز اور تحدیات کا طومار ہے ،تعقل پسندی کی متعدد جوہات ہیں ان میں سے چند کا ذکر کیا جارہاہے۔صحیح دین سے دوری۔
منہج سلف و عقائد صحیحہ سے دوری یا اس میں کمزوری، غزو فکری ،مغربی تعلیم اور اس کی مادی تحقیق سے متاثر، غیر مسلم تھذیب و تمدن سے مرعوبیت
معتمد علماء کی مجالست ومصاحبت نہ اختیار کرنا ۔دروس ومحاضرات میں شرکت نہ کرنا ۔ اور اسی طرح سیاسی و فکری محکومی نیز اعداء اسلام کے پروپیگنڈیں سازشیں وافواہیں وغیرہ سر فہرست ہیں۔
عصر حاضر میں عقل پرستی، یا عقلانیت کی جدید شکل کا آغاز انیسویں صدی میں جمال الدین افغانی(متوفی 1897) اور سرسید احمد (1898)کے ذریعہ ہوا ۔
جبکہ عقل پرستی یا وحی کے مقابلے میں عقل کی برتری وتفوق دوسری صدی ہجری میں شروع ہوچکا تھا۔
سرسید وجمال الدین افغانی دراصل یورپی تہذیب ومغربی کلچر اور انگریزی تمدن سے متأثر ہوگئے تھے ذہنی طور پر یونانی افکار سے شکست کھا چکے تھے لہذا سب کچھ ترقی اور ساری زرخیزی ،خوشحالی انھیں مغرب پرستی اور ہواۓ مغرب میں نظر آنے لگی ۔ چنانچہ عالم اسلامی کے علمی ومادی نہوض واٹھان کا راستہ انھیں مغربی تہذیب وتمدن کو قبول کرلینے میں نظر آیا اسلئے کہ وہ مغرب کے مادي کلچر سے مرعوب ہوچکے تھے ۔ اور تجدید واصلاح کی صورت انھوں نے یہ نکالا کہ نصوصِ شریعت ووحئ الہی اور مغربی تہذیب کے ماحصل ومنتجات، نالج وانفارمیشن کے درمیان توافق کردیا جاۓ وہ اس طور پر کہ نصوص کی ایسی تاویل کردی جاۓ کہ وہ مغربی افکار وافہام کے مطابق سیٹ ہوجاۓ اور یورپی سوچ کے بالکل موافق ہوجاۓ ۔ اور نصوص کے فہم میں عقل کو پہلا درجۂ دے دیا جاۓ ۔ عقل ہی حاکم بن جاۓ نص کے قبول ورد میں ، دلائل کتاب وسنت کی تفہیم وتفکیر میں عقل ہی اول درجۂ میں رہے ۔ چاھے وہ شریعت کے خلاف ہی کیوں نا ہو ۔ دین کے مسلمات، عقائد اور اساسیات اسلام وایمان کے برعکس ہی کیوں نا ہو لیکن یہ عقل ہی پہلے نمبر پر رہے گا
۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے ۔ التجديد في الفكر الإسلامي ص 363،دراسات في المذاهب والتيارات الفكرية المعاصرة ص 134)
محترم قارئین ! جدید مدرسہ عقلانیت یا عقل پرستی کی نئی دور کا آغاز کب ہوا ؟ تو اس کے تین مراحل ہیں۔
پہلا مرحلہ ۔ جدید مدرسہ عقلانیت کے آغاز کا پہلا مرحلہ بونابرٹ کے مصر پر حملہ (1213ھ 1798م )کرنے سے شروع ہوتا ہے ۔ اس مرحلے میں عقلانیت کے جدید شکل کی تخم ریزی ہوئی اور احیاء و تجدید کے نام پر عقل پرستی کے علامات ونشانیاں زندہ ہوگئیں ۔ اور یہ جمال الدین افغانی کے اقوال وارشادات اور ان کے شاگرد محمد عبدہ کے اجتہادات کے ذریعہ سے ہوا ۔
دوسرا مرحلہ ۔ اس صدی (چودھویں صدی )کے ابتداء سے شروع ہوتی ہے یا گزشتہ صدی (تیرھویں )کے اواخر سے شروع ہوتی ہے ۔ اور آج تک جو بھی عقل پرستی یا تعقل پسندی کا زعم پالتے ہیں وہ سب اس مرحلہ میں شامل ہیں ۔ اور اس مرحلہ یعنی چودھویں صدی کے عقل پرستوں کے متعدد نام ہیں ۔ جیسے عقلانیت ،عصرانیت ،تنویریت ،حداثت وغیرہ ۔
دوسرے مرحلے کے عقل پرست حضرات یا عقل پرستی کے پیشوا ورہبران مسلمانوں کو جدید و معاصر منہج اپنانے اور دور حاضر کے تہذیب وتمدن وثقافت وحضارت میں مشارکت کرنے اور عصری علوم میں حصہ لینے کي طرف دعوت دیتے ہیں۔
اس دوسرے مرحلے کے عقلانی کے اپنے الگ الگ اجتہادات وافکار ہیں ۔ البتہ مدرسہ عقلانیت کے عمومی خصائص وصفات میں یہ سب ایک ہیں ۔
تیسرا مرحلہ ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جسمیں عقلانی یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے وہ تمام تہذیبی و ثقافتی عناصر مکمل ہوجاۓ جس کے وہ خواہشمند ہیں ۔ یعنی کہ عقل کی حکمرانی قائم ہوجاۓ جیسے معتزلہ نے کیا ۔ بالکل اسي کے نقش قدم پر چل کر عقل کی برتری نقل پر کرلیتے ہیں ۔
دیکھئے تفصیل کیلئے ۔ العقل بين الفرق الإسلامية قديما وحديثا ،صفحہ نمبر 315 تا 317۔
محترم قارئین ۔ عقل پرستی دراصل ہوی پرستی ہے ،عقل صحیح نقل صحیح کے مناقض ومخالف نہیں ہے ، یہ ہر وہ شخص جس کے پاس عقل سلیم ہے جانتا ہے ۔ عقل محترم ہے اس کی اہمیت ہے لیکن اس کا ایک حد ہے ۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ بیشک تم عقل کا استعمال کرو، لیکن صرف اس حدتک جہاں تک وہ کام دیتی ہے، ایک سرحد ایسی آتی ہے جہاں عقل کام دینا چھوڑدیتی ہے بلکہ غلط جواب دینا شروع کردیتی ہے،آپ غور کرۓ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت میں کوئی فیصلہ صادر کرنے سے منع فرمایا ہے ۔اسلئے کہ یہاں نفسیات غالب آجاتی ہے اور عقل وگتھی کا ستیاناس ہوجاتا ہے لہذا غیظ وعضب کی حالت میں قاضی کو فیصلہ کرنے سے منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عقل ناقص ہے۔
محترم قارئین ۔
عقل مندی اور عقل پرستی میں واضح فرق ہے
یہ بات یاد رکھئے کہ عقل مند ودانشمندہونا الگ بات ہے، اورعقل پرست ہونا الگ بات ہے۔ عقل مند ہونا تو بہت اچھی بات ہے، قرآن و حدیث میں عقل کی بڑی فضیلتیں بیان ہوئی ہیں، ہاں! عقل پرستی وتعقل پسندی درست نہیں ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ بندہ اللہ و رسول کے اَحْکام کو سمجھنے کے لئے، اپنی دُنیا اور آخرت کی کامیابیاں ،بھلائیاں سوچنے کے لئے اپنی عقل و خردکا استعمال کرے جبکہ عقل پرستی کا مطلب ہے: اللہ و رسول کے فرامین واَحْکام کے مقابلے میں اپنی عقل استعمال کرنا۔ اپنے عقل کے ذریعے نصوصِ شریعت کو جانچنا اور معیار اول عقل کو قرار دینا ۔ قرآن وحدیث نے جو کچھ کہا، اسے ماننے کے بجائے، اپنی ناقِص عقل کے زور پر اس کا انکار کرنا ۔
عقل پرستوں کی نشانیاں ۔
اول ۔نصوص شرعیہ پرعقل کو مقدم رکھنا ۔ یعنی نصوص کے مقابلے میں عقل و خرد کا استعمال کرنا ، بلکہ عقل کی کسوٹی پر نصوص شرعیہ کو پرکھنا اورنصوص کے تئیں عقل کو حاکم سمجھنا۔ اگر عقل وگتھی میں کوئی بات آجاۓ تو وہی صحیح ہے اگرچہ کہ وہ نصوصِ قرآن وحدیث ودلائل کتاب وسنت کے صریح متناقض ومخالف کیوں نہ ہو ۔ ایک عقل پرست کہتاہےکہ جدید اسلام یعنی کہ عقل کو نص (نقل )پر مقدم رکھنا ہے ۔ یہ ایک واضح وصریح تعبیر ہے ۔
ثانی ۔ عقیدہ صحیحہ سے بے خبری ۔عقل پرستوں کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ صحیح عقیدہ کی تعلیم حاصل نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ مغربی وعصری اسکول کالج کے پڑھے لکھے ہوتے ہیں ، اور جو کچھ بھی اگر عقیدہ میں پڑھتے ہیں تو وہ منحرف افکار وباطل عقائد کو ہی پڑھتےہیں ۔
ثالث ۔ شرعی نصوص کی مخالفت وانکار ۔ خصوصاً احادیث نبویہ کا انکار کرتے ہیں ۔متواتر وآحاد کا مسئلہ کھڑا کرکے بہت سارۓ احادیث آحاد کا منکر بن جاتے ہیں اور حجیت سنت کے قائل نہیں ہوتے ہیں بلکہ قرآن کو ہی کافی سمجھتے ہیں ۔ یا اپنے عقل وفکر وہوی پرستی کے مطابق نصوص قرآن وسنت کی تاویلات کر بیٹھتے ہیں ۔
رابع ۔
بہت سارے شرعی احکام کا انکار کر یٹھتے ہیں یہ کہتے ہوۓ کہ یہ یہ مراحلی احکام ہیں یعنی اس وقت کے حالات وظروف کالحاظ کرتے ہوۓ وہ حکم آیا تھا اب زمانہ بدل گیا ہے حالت بدل گئی ہے لہذا اس کا حکم بھی بدل گیا ہے ۔
خامس ۔
ثابت شدہ شرعی اصول وضوابط پر طعن کرتے ہیں اور بہت سارے اساسیات و مسلمات پر قدغن لگاتے ہیں
سادس ۔
مغرب کے مناھج وافکار کو اپناتے ہیں خاصکر مستشرقین کے منہج کو قبول کرتے ہیں ، اور ان کے جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں ، مستشرقین کے قانون زندگی اور مغربی نظام حیات کو اپنی زندگی میں لاگو کرتے ہیں اور مغرب کو فالو کرتے ہیں۔
سابع ۔
شرعی ضوابط وقیود کا التزام نا کرنا یا شرعی حدبندیوں کو نہ ماننا عقل پرستوں کے واضح نشانات میں سے ہیں ۔ عقل پرست مطلق آزادی کے قائل ہیں۔ بالکل ذہن کی لہریں جدھر جانا چاہیں جائیں کٹی پتنگ کی طرح انھیں چھوڑ دے، یہی وجہ ہے کہ عقلانی کہتا ہے سوچ اپنی اپنی اور نظریہ اپنا اپنا ۔
ثامن ۔
شریعت کے نصوص کے ساتھ کھلواڑ ،من چاہی تاویل و تفسیر ،اور زبردستی نصوص کو اپنے خواہشات کے مطابق تشریح کرنا ۔ اور یہ دعویٰ کرنا کہ سارۓ قراءت ووجوہ مقبول ہیں ۔ اور تاویل وتفسیر و تشریح کے ہر منہج کو تسلیم کرنا ۔
تاسع ۔
شرعی علوم پر نقد وتنقید کا تیر چلانا ، عقل پرست علومِ شرعیہ کو ہیچ اور بے فایدہ سمجھکر اس عظیم الشان علوم پر بیجا تنقید کرتے ہیں اور اس علوم کے اصول وقواعد کا انکار کرتے ہیں نیز علوم شرعیہ کے معانی و مفاہیم کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
عاشر ۔
حریت اعتقاد کی دعوت دینا ، عقیدہ کی آزادی کی دعوت دینا ، ایک عقل پرست کہتا ہے کہ اسلام مکمل اور غایت درجہ حریت اعتقاد وآزادئ فکر کی دعوت
دیتا ہے۔
دیکھئے تفصیل کیلئے ۔ دراسات في المذاهب والتيارات الفكرية المعاصرة ص 135 تا 136 ۔
امت مسلمہ پر عقل پرستی کے مضر اثرات ۔
-نصوص شریعت ،قرآن واحادیث کے دلائل اور سلف کے منضبط اجماع اور ثابت شدہ مسائل کا استخفاف واستحقار ۔بلکہ کلی یا جزوی جحد وانکار ،یہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور ناتلافی نقصان ہے ۔
شریعت کی بنیاد عقل کے بجائے وحیِ الہٰی پر رکھی گئی ہے، اس لئے شرعی معاملات میں
عقل چلانے کی اجازت نہیں، انسان کا کام ہے اللہ ورسول کے حکم پر بے چون وچرا عمل کرے اور مَن مانی نہ کرے۔
لیکن جب عقل وخرد،دانشمندی کا طنطنہ ہوگا تو تعقل پسندی کی وجہ سے شریعت کے نصوص کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ،بیشمار ثوابت واصول ایمان کا انکار محض اس بنیاد پر کردیا جاۓ گا کہ یہ عقل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتی ہے ، صرف اسلئے احادیث متواترہ وآحاد کا جھگڑا کھڑا کردیا جاۓ گا کہ یہ چیز سمجھ سے پرۓ ہے ،یہ ساری چیزیں یہ نصوص وعد وعید ،بعث بعد الموت ،جنت وجہنم ،فرشتے ،احادیث دجال ،ظہور مہدی علیہ السلام ، معجزہ شق قمر ،واقعۂ معراج،وغیرہ عقل وگتھی کے اوپر کی باتیں ہیں ۔ تو سوچئےکہ کتنا بڑا نقصان ہے،یہ دین وعقائد حق وباطل اسلام اور کفر کا مسئلہ ہے اس کو ہلکے میں نہیں لینا چاھئے ۔ نہایت ہی خطرناک مسئلہ ہے ۔ اب سوچئے کہ سماج ومعاشرہ میں بہت سارے ایسے افراد پیدا ہوگئے ہیں جو عقل ودماغ کو حاکم بنارہے ہیں ، جبکہ مسلمان ہونے کا مطلب ہے کہ عقلی گھوڑے کو بے لگام نہیں بلکہ شریعت کے تابع کردیا جاۓ ،اسلامی تعلیمات کا لگام پہنا دیا جائے ، حاکم اور رہبر قرآن وحدیث ہے، بات سمجھ میں آئے یا نا آئے ۔ کتنا افسوس ناک امر ہے کہ معراج کا واقعہ ،برزخی زندگی کے مسائل ، شفاعت کا بیان ،پل صراط ،بعث بعد الموت وغیرہ کا صرف اسلئے انکار کر دیتے ہیں کہ عقل کے خلاف ہے ۔ ،بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے ۔
یہی سے انکار نصوص کی جرأت پروان چڑھتی ہے ،سنت کا استخفاف ہوتا ہے ،اور شریعت کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور دین کا تمسخر کیا جاتا ہے ۔ حاملین شریعت وارثین انبیاء کی کھلی اڑائی جاتی ہے ۔ یہ عقلانیت کا سب سے بڑا نقصان دہ اثر ہے یا عقل پرستی کی سب سے بڑی خرابی ہے ۔ جیساکہ ایک عقلانی کہتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلام کے اصول ومبادی واساسیات پر نظر ثانی کیا جاۓ ۔ سبحان اللہ اتنی جرأت منزل من اللہ شریعت پر استدراک ! یہ دراصل عقل کو نقل پر مقدم کرنے کا ہی ثمرہ ہے ۔
بحوالہ ۔ تجديد الفكر الديني في الإسلام صفحة نمبر)
(16۔
بہت سارے مدارس اسکول وانجمنیں عقل پرستی اور عقلانیت کے فروغ کیلئے اور عقلانیوں کے افکار کو پھیلانے کے لیے قائم کی گئ ہیں اور قائم کی جارہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف ویب سائٹس اور مجلات واخبارات ورسائل کے ذریعہ بڑۓ پیمانے پر مدرسۂ عقلانیت کی نشر واشاعت ہورہی ہیں ۔ اور عقلانی ثقافت کو بہت سارے سماج ومعاشرہ میں مقبول بنانےاور رواج دینے کیلئے کوششیں چل رہی ہیں۔ اور شعوری وغیر شعوری طور پر بہت سارے اہل علم بھی متأثر ہورہے ہیں ۔ اور اس فکر کی بالادستی ہورہی ہیں خاصکر یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے غیر پختہ نوجوانوں اور دینی حماس رکھنے والوں کے جذبات سے کھیل کر بڑی چالاکی سے یہ افکار ان میں منتقل کررہے ہیں ۔ جس سے کہ مستقبل میں خطرہ ہے کہ یہ سلسلہ بڑھ کر گھر گھر تک پہنچ جاے گا ۔ جیساکہ المانیا میں موسسۃ ابن رشد للفکر الحر کے نام سے ایک کالج اور اسی طرح لبنان میں مرکز دراسات الوحدۃ العربیہ کے نام سے ایک کالج اور دیگر مختلف جگہوں پر متعدد انجمنیں وتحریکات ان باطل افکار کو پھیلانے کیلئے سرگرم اور متحرک ہیں ۔۔ بہت سارے اسلامی مدارس و یونیورسٹیوں میں درس وتدریس وپروگرامز کے ذریعہ عقلانی فکر کے حامل پروفیسرز ودکاترہ عقلانیت کو پھیلا رہے ہیں ۔
عقلانیت اور تعقل پسندی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عقل پرستوں نے عقل کو اساس شریعت کے طور پر قبول کیا ۔ یعنی ان کے نزدیک عقل ہی شریعت ہے ،اور یہ کہ عقل ہی کے ذریعہ شریعت کی حقیقت وکُنہ تک پہنچاجا سکتا ہے اسمیں کسی نقل یا وحی کی رہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
دیکھئے تفصیل کیلئے ، من العقيدة إلى الثورة للدكتور حسن حنفي 2/4060۔
محترم قارئین! یہودی قوم مسلمانوں کا ابدی دشمن ہے ، اور اس کا ذکر قرآن وحدیث کے اندر موجود ہے ، دنیا بھر میں عقلانیت کی نشر واشاعت یہ یہودیوں کا ہتھکنڈہ ہے اور اس کے مقاصد میں سے ہے، اسلئے کہ وہ قرآن واحادیث میں موجود ان نصوص کو اچھی طرح جانتے ہیں جسمیں کہ یہودیوں کی مسلمانوں سے ابدی عداوت کا ذکر ہے اور یہودیوں کے پلاننگ اور ان کے فاسد معتقدات ،اوران کے غلط رویے کا ذکرواضح طور پر موجود ہیں، اب جب مسلمان قرآن وحدیث کو پڑھیں گے تو یہودیوں کی حقیقت سمجھ جائیں گے ،ان کی چالبازیوں اور ان کے منحرف عقائد وخیالات کی معرفت حاصل کرلیں گے لہذا مسلمانوں کو ان نصوص سے دور رکھنے اور حقیقت تک نہ پہنچنے سے کیسے روکا جاۓ اس کیلئے انھوں نے عقلانیت اور تعقل پرستی کا فتنہ کھڑا کیا ،اور عقل پرستی کا دروازہ کھولا اور اپنے دام فریب میں پھنسا لیا ۔
عبدالسلام بسیونی صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے عقلانیت کے نشر واشاعت میں کن لوگوں کا ہاتھ ہے اس پر غور کیا تو پتہ چلا کہ یہ تو یہودیوں کا لگایا ہوا پودا ہے تو مجھے کچھ بھی تعجب نہیں ہوا کیونکہ یہودیوں کی سرشت ہی یہی ہے ۔
دیکھئے تفصیل کیلئے ۔نقض أصول العقلانيين لسليمان بن صالح الخراشي 6/14 ۔
محترم قارئین ۔
ایک صحیح العقیدہ مسلمان کا نقطئہ نظر یہ ہونا چاھئے کہ مسلمان کی کامیابی اور سعادت اسی میں ہے کہ خود کو وحی الہی کا تابع بنائے، خواہ وہ اس کی عقل میں آئے یا اس کی عقل سے بالاتر ہو۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں دین اسلام پر مکمل طور پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کے فتنے شبہات وشہوات،ضلالت وگمراہ عقائد وافکار سے محفوظ رکھے آمین ۔
تعليقات
إرسال تعليق