التخطي إلى المحتوى الرئيسي

المشاركات

عرض المشاركات من يونيو, 2025
   استقامت وثبات قدمی کے دس قواعد ۔ تلخیص وترجمانی۔  محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی، (دوسری قسط ) محترم قارئین ۔ فتنے ہمہ گیر ہیں۔ صحیح راہ اور درست راستہ سے بھٹکانے ،گمراہ کرنے کے اسباب و ذرائع لاتعداد ہیں ۔ صوارف وموانع بہت ہیں ، رکاوٹیں بھی بہت زیادہ ہیں ۔ استقامت وثبات قدمی کے اصول وضوابط اور قواعد کا ذکر کیا جارہا ہے تاکہ فتنوں کے کثرت کے اس زمانے میں راہ حق کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھ کر راہ حق اور صراط مستقیم پر جمے وڈٹے رہے ۔ جیسا کہ بعض صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جامع ومفید نصیحت طلب کیا  ۔ تاکہ استقامت وثبات قدمی حاصل ہو اور ہرطرح سے راہ حق کی رکاوٹوں کو دور کرکے صراط مستقیم پر گامزن رہیں ۔ سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے؟ فرمایا : (( قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ )) ’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر خوب ثابت قدم رہ۔‘‘ [صحیح مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام : ۳۸ ...
 استقامت وثبات قدمی کے دس قواعد ۔ (قسط اول) تلخیص وترجمانی ۔  محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی، راہ استقامت وثبات قدمی ہماری زندگی کاشمع نور ہے ۔ راہ استقامت پر قائم رہنےکا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہے، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔استقامت اور میانہ روی کا راستہ دشوار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3297) کیونکہ اس سورت کی آیت نمبر112میں آپ کو استقامت کا حکم دیا گیا ہے یہ ایسی ذمے داری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے مجھے قبل از وقت بوڑھا کردیا ہے۔ اس لیے حدیث میں ایک دوسری صورت بتائی گئی ہے کہ اگر پورے طور پر سداد اوراستقامت حاصل نہ ہو تو کم ازکم اس کے قریب قریب تو رہو۔ اسی طرح عمل کی توفیق پر خوش ہو جاؤ اور یہ خوشی صرف استقامت ہی میں نہیں بلکہ اس کے قریب رہنے سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔بشارت حوصلہ بڑھانے کا ایک طریق ہے۔اس سے عابد زاهد کی ہمت بلند ہوتی ہے اور...
  قربانی سے متعلق چند مسائل ازقلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ قربانی ایک عظیم عبادت ہے ، ایک متواتر سنت ہے اور ابراہیم خلیل الرحمٰن علیہ السلام کی یاد گار ہے جو سراپا طاعت وبندگی سے معمور ہے۔  اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اپنے نفس کو قربان کرنے طاعت و بندگی کے لئے ایثار وفدائیت اور اور جان ومال اور قیمتی سے قیمتی چیز کی قربانی ہی دراصل قربانی ہے۔ قربانی مالی عبادتوں میں بہترین عبادت ہے ۔ قربانی فرض ہے یا مال ؟ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آج سے کہیں زیادہ مال کی ضرورت تھی تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بڑی تاکید فرمائی اور بکثرت قربانیاں کرائی گئیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی اقتصادیات کا شعبہ نہیں ہے بلکہ روحانی شئے ہے ۔  (بحوالہ ۔ آثار حنیف بھوجیانی جلد دوم صفحہ 161)  محترم قارئین ! قربانی سے مقصود اللّٰہ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنا اور اسکی رضاء طلب کرنا ہے قربانی کی ایک حکمت یہ ہے کہ قربانی کرکے اللّٰہ تعالٰی کا شکر ادا کیا جائے کہ اس ذات باری تعالٰی نے ان جانوروں کو ہمارے لئے آسانی سے حاصل کرنا میسر کیا اور پ...