التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 استقامت وثبات قدمی کے دس قواعد ۔
(قسط اول)
تلخیص وترجمانی ۔  محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی،

راہ استقامت وثبات قدمی ہماری زندگی کاشمع نور ہے ۔ راہ استقامت پر قائم رہنےکا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہے، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔استقامت اور میانہ روی کا راستہ دشوار ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:

سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔

(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3297)

کیونکہ اس سورت کی آیت نمبر112میں آپ کو استقامت کا حکم دیا گیا ہے یہ ایسی ذمے داری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے مجھے قبل از وقت بوڑھا کردیا ہے۔

اس لیے حدیث میں ایک دوسری صورت بتائی گئی ہے کہ اگر پورے طور پر سداد اوراستقامت حاصل نہ ہو تو کم ازکم اس کے قریب قریب تو رہو۔

اسی طرح عمل کی توفیق پر خوش ہو جاؤ اور یہ خوشی صرف استقامت ہی میں نہیں بلکہ اس کے قریب رہنے سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔بشارت حوصلہ بڑھانے کا ایک طریق ہے۔اس سے عابد زاهد کی ہمت بلند ہوتی ہے اور اس کے عزم میں ایک نیا ولولہ اور نئی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔استقامت وثبات قدمی اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی سعادت اور کامیابی ہے ،لہذا جسے دنیا وآخرت کی سعادت اور فائز المرامی کا شوق ہوں وہ استقامت اختیار کرنے کیلئے سعی پیہم اور جہدِ مسلسل کرۓ ۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ جب بھی وہ قرآن کی اس آیت ﴿إِنَّ ٱلَّذِینَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَـٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَیۡهِمُ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحۡزَنُوا۟ وَأَبۡشِرُوا۟ بِٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِی كُنتُمۡ تُوعَدُونَ﴾ [فصلت ٣٠]کی تلاوت کرتے تھے تو نہایت عاجزی وانکساری کے ساتھ دعاء کرتے تھے اۓ اللّٰہ تو ہمارا رب ہے لہذا ہمیں استقامت کی نعمت عطا فرما ۔ (أخرجه الطبري في جامع البيان 20/425)

آئیے ذیل کے سطور میں شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ کی کتاب(عشرقواعد في الاستقامة )سے ملخصا استقامت کے کچھ قواعد بیان کرتے ہیں ۔

پہلا قاعدہ ۔ استقامت وثبات قدمی الہی انعام اور ربانی تحفہ ہے ۔ یعنی استقامت ،عزیمت وثبات قدمی اللّٰہ تعالٰی کا خاص انعام واکرام ہے ۔صراط مستقیم کی طرف رہنمائی اور توفیق اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ،لہذا صدق دل سے اخلاص وسچائی کے ساتھ رب تعالیٰ سے استقامت طلب کریں ۔

اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں بہت ساری آیتوں میں سیدھے اور صحیح راہ کی ہدایت دینے کو اپنے طرف منسوب کیا ہے، ہر چیز پر اللّٰہ قدرت رکھتا ہے اللہ کے ہی ہاتھ میں بندۓ کادل ہے جس بندہ کے دل کو سیدھا رکھنا چاھتا ھے رکھتا ہے اور جس بندہ کے دل کو ٹیڑھا کرنا چاھتا ھے کرتا ہے ۔ یعنی جسے چاھتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاھتا ھے گمراہ کرتا ہے ۔ ليكن اس کا یہ فیصلہ یوں ہی الل ٹپ نہیں ہوجاتا بلکہ عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے، گمراہ اسی کو کرتا ہے جو خود گمراہی میں پھنسا ہوتا ہے اور اس سے نکلنے کی وہ سعی کرتا ہے نہ نکلنے کو وہ پسند ہی کرتا ہےجیساکہ اللّٰہ تعالٰی نے قرآن میں متعدد مقامات پرفرمایا ﴿وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَیۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوۤا۟ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُوا۟ مِن دِیَـٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِیلࣱ مِّنۡهُمۡۖ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُوا۟ مَا یُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَیۡرࣰا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِیتࣰا،وَإِذࣰا لَّـَٔاتَیۡنَـٰهُم مِّن لَّدُنَّاۤ أَجۡرًا عَظِیمࣰا ۝٦٧ وَلَهَدَیۡنَـٰهُمۡ صِرَ ٰ⁠طࣰا مُّسۡتَقِیمࣰا ۝٦٨﴾ [النساء٦٦-٦٨]

اگرہم ان پر یہ فرض کردیتے ہیں کہ اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو! یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ! تو اسے ان میں سے بہت ہی کم لوگ حکم بجا لاتے اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور زیادہ مضبوطی والا ہو ،اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیں۔اور یقیناً انہیں راہ راست دکھا دیں۔

﴿وَٱللَّهُ یَدۡعُوۤا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَـٰمِ وَیَهۡدِی مَن یَشَاۤءُ إِلَىٰ صِرَ ٰ⁠طࣲ مُّسۡتَقِیمࣲ﴾ [يونس ٢٥]

اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔

﴿وَٱلَّذِینَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔایَـٰتِنَا صُمࣱّ وَبُكۡمࣱ فِی ٱلظُّلُمَـٰتِۗ مَن یَشَإِ ٱللَّهُ یُضۡلِلۡهُ وَمَن یَشَأۡ یَجۡعَلۡهُ عَلَىٰ صِرَ ٰ⁠طࣲ مُّسۡتَقِیمࣲ﴾ [الأنعام ٣٩]

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ تو طرح طرح کی ظلمتوں میں بہرے گونگے ہو رہے ہیں اللہ جس کو چاہے سیدھی راہ پر لگا دے.

﴿لَّقَدۡ أَنزَلۡنَاۤ ءَایَـٰتࣲ مُّبَیِّنَـٰتࣲۚ وَٱللَّهُ یَهۡدِی مَن یَشَاۤءُ إِلَىٰ صِرَ ٰ⁠طࣲ مُّسۡتَقِیمࣲ  [النور ٤٦].

بلا شبہ ہم نے روشن اور واضح آیتیں اتار دی ہیں اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔

صراط مستقیم (سیدھا اور درست راستہ جس میں کجی اور ٹیڑھاپن یااونچ نیچ  نہ ہو )کی طرف ھدایت رب تعالیٰ ہی کرتا ہے اللّٰہ تعالٰی جسے چاھتا ھے اسے اس نعمت سے نوازتا ہے ۔ کسی انسان کے قدرت و اختیار میں نہیں کہ وہ کسی کو جنت پہنچادۓیاکسی کا ٹھکانہ جہنم بنادۓ ۔ نہ کسی ولی نہ نبی نہ پیر نہ مرشد ۔ سب کے سب  اللّٰہ تعالٰی کے فقیر ومحتاج ہے ،

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعاء کرتے تھے۔ یامقلِّبَ القلوبِ ثَبِّتْ قلبِي على دینک ۔اۓ دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ،

حضرت أم سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اۓ اللّٰہ کے رسول کیا دل بھی الٹتی پلٹتی ومتغیر ہوتی رہتی ہے ۔ تو اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دوانگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ (رواہ الترمذی فی جامعه  أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ . بَابُ دُعاَءِ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ،3522)

صحیح مسلم کی روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا :

بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنْ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ.

(أخرجه مسلم في صحيحه، كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا .بَابُ الدُّعَاءِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ،770)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لئے اٹھتے تھے تو کس چیز کے ساتھ نماز کا آغاز کرتے تھے؟انھوں نے جواب دیا:جب آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آ غاز(اس دعا سے) کرتے:"اے اللہ! جبرائیل،میکائیل اور اسرافیل کے رب!آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے!پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے!تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کرتے تھے تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائےگا۔،جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے تو ہی ا پنے حکم سے مجھے ان میں سے جو حق ہے اس پر چلا،بے شک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے ۔"

غور طلب بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر شب جب قیام اللیل کرتے تو نماز کی ابتداء میں کہتے تھے کہ ۔ اۓ اللّٰہ آپ ہی ہیں جسے چاھتے ہیں سیدھے راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطاء کرتے ہیں اور جسے چاھتے ہیں گمراہ کرتے ہیں ۔

اللّٰہ تعالٰی سے  صراط مستقیم یعنی درست وصواب راہ کی ہدایت پانے کا سوال کرنا  مسلمان کا مقصد اور مطلب ہونا چاہیے ۔  بلکہ اللّٰہ تعالٰی نے بندوں پر واجب کیا ہے کہ وہ اللّٰہ سے صراط مستقیم پر چلنے اور سیدھے پر استقامت وثبات قدمی کے لئے دن رات میں متعدد بار دعاء کریں ۔ اور اس کا حکم سورۃ فاتحہ میں موجود ہے ۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ،صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، یعنی ہمیں سچی اور سیدھی راہ دکھا،ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ ان کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا۔

بعض اہل علم نے کہا کہ عوام کو متنبہ کیا جانا چاہئے کہ( اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ،صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ،) یہ دعاء ہے ۔ آپ جب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے ہیں تو آپ اللّٰہ سے دعاء کرتے ہیں ۔ یہ دعاء لیل و نہار 17 بار آپ فرض نمازوں کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں ۔ اسلئے کہ مسلمان کو چاھئے کہ وہ یہ احساس اپنے دلوں میں پیدا کریں کہ یہ انتہائی اہم دعاء ہے اور اس کی ہمیشہ ضرورت ہے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا میں نے سب سے زیادہ نفع بخش دعاء پر غور خوض کیا تو پتہ چلا کہ اللّٰہ تعالٰی کی رضامندی کیلئے مدد طلب کرنا ہے پھر میں نے دیکھا کہ سورہ فاتحہ میں یہ دعاء موجود ہے ۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ اور ایک جگہ آپ کہتے ہیں کہ بندۓ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر استقامت وثبات قدمی کی ہدایت کے لئے دعاء کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

دیکھئے ۔ مدارج السالکین لابن القیم 1/78، اقتضاء الصراط المستقیم1/83۔

دوسرا قاعدہ ۔ استقامت کی حقیقت و ماہیت سیدھے اور صواب راستے و صحیح اور مضبوط منہج کو لازم پکڑنا ہے ۔

استقامت کی حقیقت کی معرفت کے لئے صحابۂ کرام اور تابعین عظام کے اقوال وآراء وارشادات پر نظر ڈالتے ہیں ۔  اور استقامت وثبات قدمی کا صحیح معنی ومفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

1 ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے إِنَّ ٱلَّذِینَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَـٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَیۡهِمُ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحۡزَنُوا۟ وَأَبۡشِرُوا۟ بِٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِی كُنتُمۡ تُوعَدُونَ﴾ [فصلت ٣٠] اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوۓ کہا کہ اس مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللّٰہ کے ساتھ شرک وکفر نہیں کیا ۔

2 ۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو منبر پر پڑھا اور کہا کہ  رب تعالیٰ کی قسم استقامت اختیار کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئے ،اور لومڑیوں کی طرح اِدھر سے اُدھر دوڑتے نہ پھرئے ۔

3 ۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ ۔  جو لوگ لاالہ الا اللہ کے معانی و مفاہیم تقاضے وشروط کو تسلیم کیا اور اس پر عمل پیرا ہوۓ وہی لوگ استقامت وثبات قدمی والے ہیں۔ اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ استقامت سے مراد یہ ہے کہ آپ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں بلکہ فرائض کے قیام کیلئے ہمیشہ ڈٹے اور جمے رہیں ۔

4 ۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے استقامت کا مفہوم بیان کیا کہ وہ لوگ جنھوں نے مکمل اخلاص ورضاء الہی کے ساتھ صحیح دین پر چلا اور عمل کیا ۔

5 ۔ قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ نے کہا کہ استقامت وثبات قدمی یہ ہے کہ آپ اللّٰہ تعالٰی کی اطاعت وبندگی پر جم جائیے اور اس میں ٹال مٹول وحیلہ سازی نہ کیجئے ۔

ابن رجب رحمہ اللہ نے یہ سارۓ اقوال جامع العلوم والحکم میں ذکر کرنے کے بعد استقامت کی تعریف یوں بیان کیا ہے ۔ والاستقامة هي سلوك الصراط المستقيم، وهي الدين القيم من غير تعريج عنه يمنةً ولا يسرةً، ويشمل ذلك فعل الطاعات كلها، الظاهرة والباطنة، وترك المنهيات كلها كذلك.

یعنی ۔ اِستقامت کا مفہوم یہ ہے کہ اُس واضح راستے پر ، مضبوطی کے ساتھ سیدھا سیدھا دائیں بائیں مڑے یا کِسی بھی طرف مائل ہوئے بغیر چلا جائے اور وہ راستہ (اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے ) قائم شدہ دِین ہے ، اور اِس دِین میں (اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے حکم کیے گئے) ہرکام کو ظاہری اور باطنی طور پرکرنا اور اسی طرح ہر اُس کام سے باز رہنا شامل ہے جس سے منع کیا گیا ۔

اسی طرح ابن القیم رحمہ اللہ نے استقامت کی تعریف یوں بیان کیا ہے ۔ فالاستقامة كلمة جامعة، آخذةٌ بمجامع الدين، وهي القيام بين يدي الله على حقيقة الصدق، والوفاء.

ترجمہ ۔ لفظ استقامت ایک جامع کلمہ ہے جو دین کے تمام گوشے کو شامل ہے، یعنی صدق و وفا کے ساتھ اور صبر و شکیبائی کامظاہرہ کرتے ہوئے مکمل طور پر شریعت اسلامیہ پر عمل کیا جائے،

(بحوالہ ۔ تہذیب مدارج السالکین: ۵۲۹)

تیسرا قاعدہ ۔ اصل استقامت دل کی استقامت ہے ۔

(دل میں کجروی ہوتو پورا جسم کجروی اور ٹیڑھاپن کا مظاہرہ کرۓ گا ۔ )

امام  احمد نے مسند احمد میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کا دل درست نہیں ہوتا۔“ (المسند ،13048,وحسنه الألباني في الصحيحة 2841)

اصل استقامت یہ ہے کہ انسان کادل مستقیم ہوں ۔ (دل میں غلاظت اور کجی نہ ہوں )جب دل میں استقامت اور درستگی ہوتی ہے تو ساراجسم بھی درست اور سالم ہوتا ہے اسلئے کہ پورا جسم دل کے تابع ہوتا ہے۔

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا استقامت وثبات قدمی یہ ہے کہ دل میں توحید مضبوط ہوں اور دل توحید پر ثابت قدم رہے ۔ لہذا جب دل اللّٰہ تعالٰی کی معرفت ، ،خشیت ،محبت، امید و توکل پر جم جاۓ تو جسم کا پورا حصہ دل کا فرمانبردار ومطیع ہوکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت وبندگی پر جم جاتے ہیں اسلئے کہ دل اعضاء و جوارح کا بادشاہ ہے اور بدن کے حصے دل (بادشاہ )کا لشکر ہے اگر بادشاہ صحیح اور سیدھے راہ پر چلیں گےاور ثابت قدم رہیں گے تو فوج اور رعایا بھی صحیح ہوں گے اور ثابت قدم رہیں گے ۔

(بحوالہ ۔ جامع العلوم والحکم صفحہ نمبر 386)

صحیحین میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے ۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :انسانی ڈھانچے میں ایک لوتھڑا ہے،اگر وہ درست ہے توپوراجسم درست ہے،اوراگر وہ فاسدہوجائے تو پورا جسم فساد کاشکارہوجائےگا،وہ ٹکڑاانسان کادل ہے۔

امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے ۔ إغاثۃ اللہفان من مصاید الشیطان  کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ! جب یہ بات واضح ہے کہ دل ہی اعضاء و جوارح کیلئے بادشاہ کی طرح ہے جسکی بادشاہت فوج اور رعایا پر ہوتی ہے چنانچہ بادشاہ کافرمان اور آڈر ہی کے تحت قلمرو چلتا ہے فوج ولشکر سب اس کے ماتحت ہوتے ہیں تو دل جسم کے اعضاء کیلئے حاکم ہے ۔ دل ہی سے بدن کے دوسرے حصے ٹھیک ہوتے ہیں یا بگڑتے ہیں ۔ دل کے ارادۓ اور عزائم کے پابند دوسرے اعضاء جسم ہوتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے،

لہذا خلاصہ کلام یہ کہ دل ہی مالک ہے اور اسی کی حکومت ہے دیگر اعضاء و جوارح پر ۔ دل ٹھیک ہے تو بدن کے دوسرۓ حصے بھی ٹھیک ہے دل کے استقامت کے بغیر کوئی کام صحیح سے انجام نہیں پاتا ۔ دل ہی نگراں اور ذمہ دار ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ،جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی۔لیکن فائدہ والا وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعاء بھی ہے ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا،  اۓ اللّٰہ میں تجھ سے قلب سلیم مانگتا ہوں۔

چوتھا قاعدہ ۔ بندہ مسلم سے مکمل طور پر استقامت مطلوب ہے اوراگر پورے طور پر سداد اوراستقامت حاصل نہ ہو تو کم ازکم اس کے قریب قریب تو رہیں ۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یکساں بیان کیا ہے یعنی مکمل طور پر استقامت وثبات قدمی کو لازم پکڑے اور اگر اتنا نہ ہوتو استقامت کے بالکل قریب رہے۔

استقامت کے باب میں سَداد مطلوب ہے اور سداد یہ ہے کہ آپ سنت کو حاصل کریں سنت پر عمل پیرا ہوں ۔

عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«قُلِ اللهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ». [رواه مسلم: 2725]

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں اللہ کے حضور یہ دعا کروں "اے اللہ! میری رہ نمائی فرما اور راہ راست پر چلا۔" یعنی اے اللہ! میری رہنمائی فرما، مجھے توفیق دے اور تمام امور میں راہ راست پر چلا۔

"الهُدَى" لفظ کے معنی ہيں : حق کی تفصیلی اور اجمالی معرفت اور ظاہری و باطنی طور پر اس کے اتباع کی توفیق۔

جب کہ "السّداد" لفظ کے معنی ہيں : توفیق اور تمام کاموں میں استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہنا۔ قول، فعل اور اعتقاد میں سیدھے راستے پر گام زن رہنا۔

چوں کہ معنوی چيز محسوس طریقے سے واضح ہوتی ہے، اس لیے یہ دعا کرتے وقت اپنے دل میں اس بات کو مستحضر رکھو کہ تم اس شخص کی طرح ہدایت مانگ رہے ہو، جو سفر پر نکلا ہوا ہو کہ وہ بھٹکنے سے بچنے، اور بسلامت جلدی منزل تک پہنچنے کے لیے ذرا بھی دائيں بائيں منحرف نہیں ہوتا۔

اسی طرح تم تیر چلاتے وقت اس بات کا دھیان رکھتے ہو کہ وہ بہ سرعت صحیح نشانے پر جا لگے۔ جب کوئی شخص کسی چيز کو نشانہ بناکر تیر چلاتا ہے، تو تیر کو بالکل سیدھا رکھتا ہے۔ اسی طرح تم اللہ سے کہہ رہے ہو کہ وہ تم کو تیر کی طرح سیدھا رکھے۔ اس طور پر تم اپنے سوال میں ہدایت کى انتہا اور راہ راست کے کمال کو مانگنے والے ہوجاؤ گے۔

اللہ سے راہ راست پر قائم رہنے کی دعا کرتے وقت اپنے دل میں اس پس منظر کو مستحضر رکھو، تاکہ راہ راست پر چلتے وقت تم درست نشانے پر چلنے والے تیر کی عملی تصویر بن سکو۔

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہمیشہ ہدایت اور صراط مستقیم کا طلب گار ہونا چاہئے ۔

بندہ سے مطلوب ہے کہ وہ ہمہ وقت یہ کوشش کرۓ کہ وہ سداد( یعنی مکمل استقامت وحق پر چلنے کی) کوشش کرۓ ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور منہج رسول وسلوک رسول پر عامل ہونے کی سعی کرۓ اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو مکمل استقامت وسداد کے بالکل قریب قریب رہے جیساکہ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا فَٱسۡتَقِیمُوۤا۟ إِلَیۡهِ وَٱسۡتَغۡفِرُوهُۗ وَوَیۡلࣱ لِّلۡمُشۡرِكِینَ  [فصلت ٦-)،

اس آیت میں استقامت اختیار کرنے کا حکم  دیا گیا ہے اور اس کے بعد استغفار طلب کرنے کا بھی حکم دیا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ سے تقصیر وکمی ضرور بضرور ہوگی چاھے وہ کتنا بھی کوشش کرۓ ۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا   فَٱسۡتَقِیمُوۤا۟ إِلَیۡهِ وَٱسۡتَغۡفِرُوهُۗ کہ اس میں اشارہ ہے کہ استقامت کا جو حکم بندہ کو کیا گیا ہے اس میں کمی کوتاہی کا آنا لازمی ہے لہذا اس کمی ونقص کی بھرپائی توبہ واستغفار ،اور استقامت وثبات قدمی کی طرف رجوع کرنے سے کردی جاتی ہے ۔ اس کی مثال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی ہے جو آپ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا تھا۔ تم اللہ سے ڈرو جہاں کہیں بھی ہو، اور برائی سرزد ہونے کے بعد نیکی کرو جو برائی کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے ملو۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلا دیا ہے کہ لوگ مکمل استقامت وثبات قدمی پر قائم نہیں ہوسکتے ہیں جیسا کہ مسند أحمد وابن ماجہ میں ہے ۔ ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ استقامت پر قائم رہو ، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکو گے، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے“

(دیکھئے مسند الإمام أحمد 22378،وسنن ابن ماجه 277،وصححه الألباني في إرواء الغليل 412)

محترم قارئین! زندگی بے بندگی شرمندگی ہے ،یہ حقیقت ہے کہ وجود زندگی براۓ بندگی ہے  ۔ اپنی زندگی  اسلامی تعلیمات وارشادات کے مطابق گزارنے کے دوران  نفس انسانی ایسی ایسی خواہشات کے چنگل میں گھر جاتی ہے کہ انسان کے قدم لڑکھڑانے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ تلبیس ابلیس اور شیطان کا بہکاوا اور دنیا کی چمک دمک انسان کو رب کی یاد سے غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور وہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کو کماحقہٗ ادا کرنے سے قاصر رہنے لگتا ہے، یا ادا نہ کرنے کی روش اپنا لیتا ہے۔ عبادات وطاعات کے نظام میں اسلام نے جس ترتیب اور دوام کا مطالبہ کیا ہے اس میں کچھ ڈھیلاپن اور سستی درآتی ہے۔ عقائد میں گڑبڑی اور معاشرتی زندگی میں خاندان اور معاشرے کے خلاف شریعت کام ،غیر شرعی رسوم و رواج کے سامنے اسے سرنڈر کرنے کا کہا جاتا ہے۔ ایسا نہ کرنے پر سماجی ومعاشرتی بائیکاٹ ودوری کی دھمکی دی جاتی ہے، رشتہ داری توڑ دینے کا خوف دلایا جاتا ہے، بےیارومددگار اپاہج بناکر چھوڑدئیے جانے کا شور  ہوتا ہے ، وقت کے ناروا تقاضوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، دین وشریعت پر عمل کرنے کو دقیانوسیت سے تعبیر کیا جاتا ہے، ماڈرن بننے کا مشورہ دیا جاتا ہے ،مولویانہ رنگ کو ذرا کم کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے، بدعات و خرافات کا جواز منوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔آج کچھ ایسے ہی حالات اور ماحول ہے ۔ایسے حالات میں مرد مومن کی شان یہ ہے کہ وہ استقامت وثبات قدمی کے مفہوم ومعانی اور حقیقت کو سمجھے ۔سلف کے نقش قدم پر چلنا سنت اور شریعت کو حرزجان بنانا اور اسلامی تعلیمات و راہ حق پر جم جانا ہی کامیابی ہے ۔اے دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دل کو اپنے دین پر جما دے۔ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (گمراہی) نہ پیدا کر۔  اللّٰہ تعالٰی ہمیں ثبات قدمی واستقامت وعزیمت کی دولت سے نوازے ۔ فتنہ وفساد سے محفوظ رکھے اور استقلال ،حزم وحکمت سے نوازے آمین ۔

(

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...