استقامت وثبات قدمی کے دس قواعد ۔
تلخیص وترجمانی۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی،
(دوسری قسط )
محترم قارئین ۔ فتنے ہمہ گیر ہیں۔ صحیح راہ اور درست راستہ سے بھٹکانے ،گمراہ کرنے کے اسباب و ذرائع لاتعداد ہیں ۔ صوارف وموانع بہت ہیں ، رکاوٹیں بھی بہت زیادہ ہیں ۔ استقامت وثبات قدمی کے اصول وضوابط اور قواعد کا ذکر کیا جارہا ہے تاکہ فتنوں کے کثرت کے اس زمانے میں راہ حق کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھ کر راہ حق اور صراط مستقیم پر جمے وڈٹے رہے ۔ جیسا کہ بعض صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جامع ومفید نصیحت طلب کیا ۔ تاکہ استقامت وثبات قدمی حاصل ہو اور ہرطرح سے راہ حق کی رکاوٹوں کو دور کرکے صراط مستقیم پر گامزن رہیں ۔
سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتلائیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے؟ فرمایا : (( قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ )) ’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر خوب ثابت قدم رہ۔‘‘ [صحیح مسلم، الإیمان، باب جامع أوصاف الإسلام : ۳۸ ]
آمنتُ بالله۔
یہ ایک عہدوپیمان ہے جس کا معنی ہے،
میں نے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم ہر ہدایت کو دل و جان سے مان لیا اور دین اسلام پر عمل کرنے کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔
استقامت:استحکام و پختگی اور مضبوطی سے جم جانا،ڈٹ جانا،استقلال و پامردی دکھانا۔
اس لیے استقامت کا تقاضا ہے کہ انسان اس اقرار اور معاہدے سے انحراف اختیار کیے بغیر زندگی بھر اسلام کے احکام کی پابندی اور التزام کرے،ہر قسم کے گرم،سرد حالات،کڑے سے کڑے اور مشکل سے مشکل مرحلہ میں اس کے پائے استقامت میں ضعف، اضمحلال نہ آئیں اور کسی مرحلہ پر بھی اس کے پاؤں نہ ڈگمگائیں۔اس لیے امام ابو القاسم قشیری نے لکھاہے:کہ استقامت درجہ ہے،جس کے نتیجہ میں تمام کام،
کامل طریقہ پر سر انجام پاتے ہیں تمام نیکیاں اوربھلائیاں وجود میں آتی ہیں جس شخص میں استقامت و استقلال نہ ہو اس کی ہر کوشش رائیگاں جاتی ہے۔(شرح مسلم نووی: 1/48)
( تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم،صفحہ 159
استقامت وثبات قدمی کے وسائل ۔ استقامت وثبات قدمی کے بہت سارے وسائل ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔ قرآن مجید وسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حدرجہ شغف اور اس پر تدبر وتفکر اور عمل ۔ اتباع سنت اور سلف صالحین کے طریقے کو لازم پکڑنا ۔ انبیاء علیہم السلام کی سیرت، قصص و واقعات اور خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا اور آپ کے احوال زندگی ،صبر واستقامت اور مختلف مراحل حیاۃ کا بالاستیعاب مطالعہ کرنا ۔
علماء حق کی مجلسوں میں شرکت کرنا اور جمعیت وجماعت سے ربط رکھنا ۔ باطل واہل باطل کی حقیقت کی معرفت حاصل کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ باطل کو پسپائی مقدر ہے ۔ صبر وشکر کی صفت پیدا کرنا اور راہ حق پر استقامت حاصل کرکے ثواب واجر کی امید رکھنا اور عجلت بازی سے بچنا سنجیدگی اور متانت کو اختیار کرنا ۔ دنیا کی حقیقت کو سمجھنا اور آخرت پر مکمل ایمان و اعتقاد رکھنا اور موت کو یاد کرنا وغیرہ وغیرہ ۔
آئیے ذیل کے سطور میں شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ کی کتاب عشر قواعد فی الاستقامہ ۔ سے استقامت وثبات قدمی کے مزید کچھ اصول وقواعد کا ذکر کیا جارہا ہے ۔
پانچواں قاعدہ ۔ استقامت کا تعلق قول و عمل اور نیت
وارادۓ سے ہیں ۔
یعنی قول و قرار ،عمل وحرکات وارداۓ سے استقامت کا رشتہ انتہائی قوی ہے، بندہ سے مطلوب ہے کہ ان کی گفتگو میں استقامت ہو ،ان کے اعضاء و جوارح کے حرکت وشغل میں استقامت ہو ،ان کے ارادوں ونیتوں میں استقامت ہو ، امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مدارج السالکین میں فرمایا ۔ استقامت کا تعلق اقوال وافعال ،احوال وکوائف ونیات وارادۓ سے ہے ،
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
" لا يستقيم إيمان عبد حتى يستقيم قلبه ولا يستقيم قلبه حتى يستقيم لسانه "
کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہ راست پر نہیں آجاتی۔
ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دل میں استقامت کی صفت پیدا ہونے کے بعد سب سے اہم چیز بدن کے حصے میں زبان میں استقامت پیدا ہونا ہے ،اسلئے کہ زبان دل کا ترجمان ہے جو دل میں کھٹکتی ہے زبان اس کو تعبیر کا جامہ پہناتا ہے ۔
(جامع العلوم والحکم صفحہ نمبر 386)
گزشتہ سطور سے یہ بات مترشح ہوگئی کہ استقامت کے باب میں زبان اور دل کتنا اہم ہے ،اگر زبان میں کجی اور دل میں بگاڑ ہے تو کوئی بھی بندہ استقامت وثبات قدمی کے اوصاف سے متصف نہیں ہوسکتا ہے ۔بندہ کو صراط مستقیم پر چلانے اور راہ ھدایت پر گامزن رکھنے کے لئے دل اور زبان انتہائی اہم رول ادا کرتے ہیں ۔جسم کے درست یا خراب ہونے کا اصل مرکز دل ہے۔ کیونکہ سارے اعضاء دل ہی کی بات مانتے ہیں، دل کہتا ہے تو ہاتھ اٹھ جاتا ہے ،آنکھ کھل جاتی ہے پاؤں چل پڑتے ہیں اور اگر وہ کہتا ہے تو آنکھ بند ہو جاتی ہے ہاتھ نیچے ہو جاتا ہے اور پاؤں رک جاتے ہیں۔ دل کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو عقل اس کے جواز کے دلائل کا انبار لگا دیتی ہے اگر نفرت کرتا ہے تو دوسری جانب کی دلیلیں نکال لاتی ہے۔ المہم دل کا کلیدی کردار ہے ظاہری وباطنی طور پر اعضاء و جوارح کی صحت وسلامتی اور فساد وبگاڑ میں ، یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے کہا ہے "المرء بأصغريه قلبه ولسانه " کہ آدمی دو انتہائی چھوٹی چیز یعنی دل اور زبان سے جانا پہچانا جاتا ہے ،یعنی انسان کامقام اور رتبہ انھیں دو چیزوں سے متعین ہوتی ہے ۔ دل کیسا ہے اور زبان کیسا ہے ۔ غور کریں زبان اور دل کتنا چھوٹا سا ٹکڑا ہے بدن کا لیکن ان دونوں کے اثرات ہمہ گیر ہیں ، زبان اور دل کے تابع وفرمابردار ہے بدن کے مکمل دوسرے پارٹ و حصے، جب زبان اور دل میں استقامت آجاتا ہے تب پورا جسم بھی استقامت اختیار کر لیتا ہے ، زبان اور دل کے انہیں اثرات کو حدیث کے اندر بھی بیان کیا گیا ہے، دل کے سلسلے میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا توسارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلاح وفساد کا دارومدار انسان کے دل پر ہے۔
یعنی جس شخص کے دل میں بگاڑ ہوگا اس کے دیگر اعضاء سے صادر ہونے والے اعمال بھی اس کے آئینہ دار ہوں گے۔اس کے ساتھ ایمان کا تعلق ہے اور یہی محل نیت ہے۔حلال وحرام اورمشتبہات میں فیصلے کے لیے بھی دل ہی رہنمائی کرتا ہے، لہٰذا اسے درست رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگردل درست ہے تو پیچیدہ سے پیچیدہ معاملات اور انتہائی گنجلک مسائل میں بھی دل استقامت وثبات قدمی کی رہنمائی کرتا ہے اور قدم کو لڑکھڑانے سے روکتا ہے اور صحیح ٹریک پر چلنے کی ہدایت کرتا ہے ،طبی لحاظ سے بھی اعضاء کی صحت وسقم کا مدار دل پر ہے۔ اگراس میں بگاڑ آجائے تو پورا نظام جسم بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔صلاح قلب کی صورت یہ ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل چیزیں پیدا ہوجائیں:اللہ کی محبت اور اس کی معرفت، تقدیر کے ہر فیصلہ پر رضامندی،قرآن سے شغف ، توکل علی اللہ، صبروشکر، رجا وخوف، فکرآخرت، توبہ وانابت اور قناعت و تواضع۔
فساد قلب کی صورت یہ ہے کہ اس میں درج ذیل اشیاء آجائیں، قساوت قلبی ، عقیدہ صحیحہ سے دوری ، تکبر وغرور، عجب خود پسندی، حسد وحقد، حب مال وجاہ، بخل وحرص، طول امل(لمبی امیدیں) زیادہ ہنسی مذاق، زیادہ سے زیادہ کھانا پینا اور اسی میں مست رہنا ،اور ،فراغت وبطالت ، لا یعنی ولچر پوچ گفتگو وغیرہ۔
استقامت وثبات قدمی کے حصول کیلئے لسان وزبان کا کتنا اثر ہے! اس تعلق سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگرتو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
اس حدیث میں زبان کو سارے اعضاء کے سدھار کا مرکز بتایا گیا ہے،چونکہ زبان دل کا ترجمان ہے زبان دل کاغلام ہے، دل کوئی حکم کرتا ہے زبان کو تو زبان اس کو نافذ کرتا ہے ،اور زبان ودل کے اشاروں و حکموں کا بندہ وغلام ہے پورا جسم ، اس لئے واجب ہے کہ ہر مسلمان اصلاح قلب کی فکر کرۓ اور رب سے دعاء کرۓ کہ دل کی بیماریوں(فساد قلب ،قساوت قلب ،وغیرہ )سے انہیں نجات دۓ پھر اپنے زبان کے اصلاح کی کوشش کرۓ تمام اعضاء انسانی میں دل وزبان کو رہنما اور لیڈر کی حیثیت حاصل ہے اور ظاہر سی بات ہے جب رہنما راہ راست سے بھٹکے گا تو اس کا انجام بھی اتناہی بھیانک اور خطرناک ہوگا۔
چھٹا قاعدہ ۔ استقامت صرف اور صرف اللّٰہ تعالٰی ہی کیلئے اخلاص اور اسی سے استعانت طلب کرتے ہوۓ صراط مستقیم پر چلنا ہے ۔
بالفاظ دیگر استقامت وثبات قدمی تین چیزوں کانام ہے ۔
1۔ للہ ۔ یعنی اخلاص و للہیت کے ساتھ بندہ استقامت اختیار کرۓ انتہائی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اللہ کی رضاء کیلئے اور ثواب وجزاء کی امید کرتے ہوۓ صراط مستقیم اور نہج قویم پر چلے اور عامل کتاب وسنت بنے ،اور اس میں کسی طرح کا دکھاوا ،ریاونمود نا ہو بلکہ صرف اور صرف اللّٰہ کے لئے ہو جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ۔"وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ"
ترجمہ ۔ انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا ،کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں،
2۔ وباللہ ۔ یعنی استقامت کو متحقق کرنے کے لیے اللّٰہ تعالٰی ہی سے مدد مانگے اسی سے استعانت طلب کرۓ اسلئے کہ اللّٰہ تعالٰی سے استعانت طلب کئے بغیر استقامت حاصل نہیں ہوسکتا اور نا ہی بندہ صحیح راستہ کی رہنمائی حاصل کرسکتا ہے ، جیساکہ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ،(سورۂ ھود 123)
ترجمہ ۔ پس تجھے اس کی عبادت کرنی چاہیے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اورصرف تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں،
اور صحیح حدیث میں بھی ہے ۔احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ۔ جس چیز سے تمہیں (حقیقی) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو ،
3 ۔ علی امر اللہ ۔ یعنی اللّٰہ تعالٰی نے جس راستہ اور طریق کی طرف چلنے کا حکم دیا ہے اسی پر چلے اور اسی طریق پر چلنے میں استقامت کو اپناۓ ۔ اور اس میں کسی طرح کی کجی اور ٹیڑھاپن کو نا اپناۓ ۔ جیساکہ اللّٰہ کا ارشاد ہے ۔فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ۔
پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے،
ساتواں قاعدہ ۔ بندہ اپنے عمل سے دھوکہ نا کھاۓ چاہے وہ کتنا بھی عمل کرۓ اور استقامت اختیار کرۓ ۔
یعنی بندہ کو چاھئے کہ کثرت عبادت پر مفتخر نہ ہو، اور نہ ہی وہ اپنے نیک اعمال کی وجہ سے دھوکہ میں پڑجاۓکہ اس نے صلاح وتقویٰ اور عبادات وطاعات کا حق ادا کردیا اور جنت بک کرلیا۔ جیساکہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بندہ سے مطلوب تو سداد( مکمل استقامت وثبات قدمی ) ہے اور اگر سداد تک رسائی نہ ہوسکے تو مقاربہ یعنی سداد کے بالکل قریب ضرور ہوجاۓ اور اگر مقاربت سے نیچے اتر گیا تو اس میں اضاعت ، بربادی وہلاکت ہے ، جیساکہ صحیحین میں ہے "نیک عمل کرتے وقت حد سے نہ بڑھو بلکہ قریب قریب رہو، یعنی میانہ روی اختیار کرو۔ تمہیں خوشی ہونی چاہیئے کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ”میں بھی مگر اس وقت جب اللہ تعالٰی مجھےاپنی رحمت اور مغفرت کے سائے میں ڈھانپ لے۔“
خلاصۃ الکلام یہ ہے کہ اگر اللّٰہ تعالٰی رحم وکرم عفو و مغفرت کا معاملہ نا فرماۓ تو کوئی بندہ نجات نا پاۓ لہذا اپنے صالح عمل پر فخر نہ کرۓ اور نا اس دھوکہ میں رہے کہ ہمارے لئے جنت فیکس ہے ۔ بلکہ اخلاص کے ساتھ مزید نیک اعمال کرے اور شرف قبولیت کی دعاء کرۓ ،اوراستقامت اختیار کرۓ اور رب سے عفو و درگذر ،فضل وکرم کی دعاء کرۓ ۔
آٹھواں قاعدہ ۔ دنیا میں استقامت اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ آخرت میں استقامت حاصل ہوگا ۔ اور پل صراط سے عبوری آسان ہوجاۓ گی ۔
جسے اس دنیا میں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق نصیب ہوئی انہیں روز آخرت پل صراط سے صحیح سالم گزرنے کی توفیق بھی ملے گی ،
پل صراط جہنم پر بنا ہوا ایک پل ہے، یہ پل بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے، لوگ اس پل پر سے اپنے اعمال واستقامت کے مطابق گزریں گے، چنانچہ جو شخص دنیاوی زندگی میں نیکیاں کرنے میں تاخیر نہیں کرتا تھا بلکہ فوری کر گزر تا تھا تو وہ پل صراط سے بھی فوری گزر جائے گا، اور جو شخص تاخیر کا شکار رہتا اور جس کے اعمال میں بد اعمالیاں بھی شامل تھیں ، اللہ تعالی نے اس کی بد اعمالیوں کو معاف نہیں فرمایا ہوگا تو وہ ممکن ہے کہ جہنم میں گر جائے، پل صراط پر گزرتے ہوئے لوگوں کی مختلف رفتار ہوگی، کچھ تو پلک جھپکنے میں گزر جائیں گے اور کچھ بجلی کی تیزی سے عبور کریں گے، کچھ ہوا کی رفتار سے، اور کچھ تیز رو گھوڑے کی طرح جبکہ کچھ اونٹ جیسی دیگر سواریوں کی رفتار میں گزریں گے، کچھ رینگتے ہوئے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہیں جہنم میں ڈال دیا جائےگا ۔ پل صراط سے صرف مومن ہی گزریں گے، جبکہ کافروں کو یہاں سے نہیں گزارا جائے گا، کافروں کو روزِ قیامت براہ راست جہنم میں ڈال دیا جائے گا ، جیساکہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے فرمایا جس شخص کو اس دنیا میں اللّٰہ تعالٰی کے راہ مستقیم کی ہدایت ملی (یعنی جس راہ مستقیم کو لیکر انبیاء آئے اور کتابیں نازل کی گئی )تو قیامت کے دن جو پل جہنم پر بنایا جاۓ گا اس پل سے گذرنے کی توفیق بھی انھیں ملے گی جس سے گذر کر وہ راہئ صراط مستقیم سیدھے جنت میں چلا جاۓ گا اور ثواب وجزاء کا مستحق ٹھہرے گا ، اور جس قدر وہ اس دنیا میں صراط مستقیم پر چلنے میں استقامت وثبات قدمی اختیار کرۓ گا اسی کے بقدر وہ پل صراط سے گزرنے میں بھی تیزی دکھاۓ گا ،چنانچہ لوگ اس پل پر اپنے اعمال کے مطابق رفتار سے گزریں گے،کچھ تو آنکھ جھپکنے میں گزر جائیں گے، اور کچھ بجلی کی طرح ، کچھ تیز ہوا کی مانند اور کچھ لوگ تیز رو گھوڑوں کی طرح گزریں گے۔کچھ ایسے بھی ہوں گے جو دوڑ کر کزریں گے، کچھ چل کر اور کچھ رینگتے ہوئے عبور کریں گےکچھ گرتے پڑتے اور گھسٹتے ہوئے۔یوں کچھ لوگ بالکل صحیح سالم،کچھ زخمی تاہم پل عبور کرلیں گے اور کچھ جہنم میں گر پڑیں گے یعنی ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق رفتار کے ساتھ اس پل کو عبور کرے گا۔لہذا بندہ کو چاھئے کہ وہ غور کرۓ کہ کتنا فکرمند ومتحمس ہے صراط مستقيم اور راہ حق پر چلنے کیلئے ؟اور اسی پر دوام و ہمیشگی برتنے کیلئے؟ دنیاوی زندگی میں صراط مستقیم پر استقامت وثبات قدمی ہے یا لومڑیوں کی طرح ادھر ادھر دوڑتے پھرتے رہےہیں؟ کبھی شریعت پر عمل کرلئے اور کبھی ہواۓ نفس کے غلام بن گئے ؟ کبھی مانے سنت تو کبھی من مانی کئے ؟؟ ۔ اسلئے کہ بقدر عمل جزاء وثواب ہے جیساکہ کہا جاتا ہے ،إنما الجزاء من جنس العمل ۔
اور بندہ یہ بھی دیکھے کہ شبہات وشہوات کیسے راہ مستقیم پر چلنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں شبہات وشہوات راستے کے دونوں کنارے کے خاردار کانٹے ہیں جو بندہ کو راہ راست پہ چلنے میں دشواری پیدا کرتے ہیں اور اچک لیتے ہیں ،اگر دنیا میں شہوات وشبہات کے کانٹے زیادہ ہوگئے ہیں تو پل صراط کے طرفین بھی نوکیلے کانٹے ہوں گے اور خطرہ ہے کہ اچک لئے جائیں گے ۔ اسلئے شبہات وشہوات کے ہمہ گیر فتنوں سے دامن کو بچائے رکھئے ورنہ قیامت کے دن پل صراط کے کانٹے
آڑۓ آجائیں گے اور رکاوٹ بنیں گے ۔ اللّٰہ تعالٰی ہمیں راہ حق صراط مستقیم پر استقامت وثبات قدمی عطا فرمائے آمین ۔
تعليقات
إرسال تعليق