عقیدہ توحید کی اہمیت ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ توحید باب تفعیل سے مصدر ہے ،وحد یوحد توحیدا ۔ اس کا ماخذ احد ہے ۔ توحید کا لغوی معنی ۔ کسی شئی کو ایک کرنا یا ایک جاننا ،یا اکیلا اور بے مثال ہوناہے ۔ اس معنی کی رو سے اللّٰہ تعالٰی کی توحید کا معنی ہوگا : اللّٰہ تعالٰی کو ایک ماننا یعنی اسکے ایک ہونے کا عقیدہ رکھنا ۔یعنی اللّٰہ تعالٰی اپنی ذات اور صفات میں اکیلا اور بے مثال ہے کوئی دوسرا اس جیسا نہیں جو اس کی ذات اور صفات میں شریک ہو۔ عقیدہ عقدہ سے ہے ،جو گرہ لگانے کے معنی میں مستعمل ہے ،اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے عقیدے سے مراد یہ ہے کہ دل میں اس کی وحدانیت کے تعلق سے ایک مضبوط گرہ لگا دی جائے ،ایسی گرہ کہ جسے دنیا کی کوئی بھی سپر پاؤرطاقت کھول نہ سکے اور ایسی گرہ کہ زبان بھی اس کے ایک ہونے کا اقرار کرۓ،دل بھی اس کے ایک ہونے کا اعتراف کرے اور ہر ہر عمل اس کے ایک ہونے کی گواہی دے ۔ توحید کا شرعی معنی شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:إفراد الله تعالى بما يختص به من الربوبية والألوهية والأسماء والصفات۔ یعنی ربوبیت الوہیت اور اسماء وصفات جو اللّٰہ تعالٰی کے ساتھ...