التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 کھانے پینے کے شرعی آداب واحکام ۔

از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔

اللّٰہ تعالٰی نے اپنے مخلوقات پر بڑۓ انعام واکرام فرماۓ ہیں ۔ انھیں زندگی کی ساری لوازمات وضروریات ومستحبات عطا کئے ہیں ۔ زندہ رہنے اور زندگی گذارنے کے اسباب بھی مہیا فرماۓ ہیں ۔ حسی ومعنوی غذا عطا کئے ہیں ۔ روح کو ٹھنڈک پہنچانے کے وسائل دئیے ہیں اور جسم وبدن میں حرکت ونشاط و تر وتازگی برقرار رکھنے کے لئے( تاکہ طاعت و بندگی میں کسلمندی وفتور نہ آۓ) طیب وپاکیزہ غذا  عطا فرمائے ہیں اور کھانے پینے کی چیزیں عطاء کئے ہیں

اور کھانا پینا یہ اللہ کی بڑی عظیم  نعمت ہے اور نعمتیں منعم کی شکر ادا کرنے سے برقرار رہتی ہے اور اسمیں اضافہ ہوتی رہتی ہیں اور اگر نعمتوں کی ناشکری کی جاۓ ،قدر نہ کی جاۓ تو وہ نعمتیں چھن جاتی ہیں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے "النعم إذا شكرت قرت وإذا كفرت فرت "

اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید کے اندر فرمایا ہے

أَفَرَءَیۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ ۝٦٣ ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥۤ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّ ٰ⁠رِعُونَ ۔لَوۡ نَشَاۤءُ لَجَعَلۡنَـٰهُ حُطَـٰمࣰا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ ۝٦٥ إِنَّا لَمُغۡرَمُونَ ۝٦٦ بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ ۝٦٧

أَفَرَءَیۡتُمُ ٱلۡمَاۤءَ ٱلَّذِی تَشۡرَبُونَ ۝٦٨ ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ ۝٦٩ لَوۡ نَشَاۤءُ جَعَلۡنَـٰهُ أُجَاجࣰا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُونَ ۝٧٠﴾

[الواقعة ٦٨-٧٠)

ترجمہ ۔

اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو۔اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی رہ جاؤ کہ ہم پر تاوان ہی پڑگیا۔بلکہ ہم بالکل محروم ہی رہ گئے۔اچھا یہ تو بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو۔اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں۔اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کردیں پھر ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے؟

مفسر عبدالرحمن کیلانی صاحب لکھتے ہیں: ’’کھیتی کو چورا چورا یا ریزہ ریزہ کر دینے کی بھی کئی صورتیں ہیں، مثلاً جس زمین میں بیج ڈالا گیا اس میں اللہ تعالیٰ شور پیدا کر دے، فصل کمزور اور زرد پیدا ہو اور پوری طرح بار آور نہ ہو، یا فصل اگنے کے بعد اسے کیڑا لگ جائے، یا کسی ارضی یا سماوی آفت، مثلاً کہر اور شدید بارش وغیرہ سے فصل کی نشوو نما رک جائے اور لہلہاتے کھیت زرد پڑ جائیں تو کیا تم میں سے کسی کو یہ اختیار ہے کہ فصل کو ان مصیبتوں سے بچا سکے؟ اور اگر تم خود اللہ کی مہربانی سے پیدا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ ہی کی مہربانی سے تمھیں کھانے کو ملتا ہے تو پھر اس کے سامنے تمھاری اکڑ اور سرتابی کا کیا مطلب؟ اس صورت میں تم طرح طرح کی باتیں ہی بناتے رہ جاتے ہو کہ ہمارا تو بیج بھی ضائع ہوگیا، خرچے کی چٹی پڑی، محنت بھی ضائع ہوئی اور آئندہ کھانے کو بھی کچھ نہ ملا، ہم تو مارے گئے۔ یہ بات تمھیں پھر بھی نصیب نہیں ہوتی کہ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسے اللہ کی طرف سے تنبیہ سمجھو۔‘‘ (تیسیرالقرآن)

محترم قارئین ! اس عظیم  نعمت کے شکریہ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کھانے پینے کے وقت اس کے شرعی آداب کو ملحوظ رکھا جاۓ ۔لہذا  ذیل کے سطور میں چند آداب واحکام ذکر کیا جارہا ہے ۔

نمبر 1 ۔

سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے،سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے کیوں منع کیا گیا ہے اس کی ممانعت کی بعض حکمتیں علماء نے یہ ذکر کی ہیں ۔

عجمی ظالم و جابر بادشاہوں کی مشابہت۔

کبر و غرور اور اسراف و فضول خرچی۔

اللہ کے ان صالح وبزرگ بندوں کی اذیت جو اپنی ضرورت کے مطابق بھی یہ چیزیں نہیں پاتے۔

نمبر 2 ۔

اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کا کھانا پینا حرام کیا ہے ان حرام چیزوں کو کھانا پینا حرام ہے ۔ اور اللّٰہ تعالٰی نے واضح طور پر حرام اشیاء کا ذکر فرمایا ہے اور حلال وپاکیزہ چیزوں کو کھانے کا حکم دیا ہے ۔جیساکہ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا ۔

فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَـٰلࣰا طَیِّبࣰا وَٱشۡكُرُوا۟ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ إِیَّاهُ تَعۡبُدُونَ ۝١١٤ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡكُمُ ٱلۡمَیۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِیرِ وَمَاۤ أُهِلَّ لِغَیۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغࣲ وَلَا عَادࣲ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ۔

(1سورہ النحل 114-15)

ترجمہ ۔

جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں ۔ پھر اگر کوئی بے بس کردیا جائے نہ وہ خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزر جانے والا ہو تو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

﴿حُرِّمَتۡ عَلَیۡكُمُ ٱلۡمَیۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِیرِ وَمَاۤ أُهِلَّ لِغَیۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّیَةُ وَٱلنَّطِیحَةُ وَمَاۤ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّیۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسۡتَقۡسِمُوا۟ بِٱلۡأَزۡلَـٰمِۚ ذَ ٰ⁠لِكُمۡ فِسۡقٌۗ ٱلۡیَوۡمَ یَىِٕسَ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ مِن دِینِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِۚ ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰاۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِی مَخۡمَصَةٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفࣲ لِّإِثۡمࣲ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ﴾ [المائدة ٣]

ترجمہ ۔

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو، اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو،  اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو، جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو، لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں،  اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو، اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری ہو،یہ سب بدترین گناہ ہیں، آج کفار دین سے ناامید ہوگئے، خبردار ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا نام بھرپور کردیا اور تمہارےدین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا نام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بیقرار ہوجائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے۔

نمبر 3 ۔

بسم اللہ پڑھ کر کھانا پینا ۔

یعنی بسم اللہ کہکر کھانے پینے کا آغاز کرے اور کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا واجب ہے ،بسم اللہ پڑھے تاکہ کھانے پینے میں برکت ہوں ۔ اور شیطان سے محفوظ رہیں ۔ اگر انسان بسم اللہ پڑھ کر کھانے پینے کا آغاز کرتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور برکتیں نازل ہوتی ہیں اورانسان  شکم سیر ہوجاتا ہے ،اور صرف بسم اللہ کہنا کافی ہے الرحمن الرحیم کا اضافہ حدیث سے ثابت نہیں ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا بھول جاۓ تو جب یاد آے پڑھ لے لیکن بسم اللہ فی أولہ وآخرہ کہے ۔ ( جیساکہ بخاری ومسلم وابوداود وغیرہ کی حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے دیکھئے بخاری شریف حدیث نمبر 5376, ومسلم حدیث نمبر 2022، 2017-2018،وسنن ابوداودحدیث نمبر ۔3767۔ ۔3764۔)

نمبر 4۔

جب کھانے پینے سے فارغ ہوجاۓ تو اللّٰہ کا حمد بیان کرۓ اسلئے کہ اگر بندہ ایسا کرتا ہے تو اللّٰہ تعالٰی اس سے خوش ہوتا ہے ۔جیساکہ صحیح مسلم میں انس بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالی اپنے بندے سے راضی ہوتا ہے جب وہ ایک لقمہ کھائے تو اللہ کی تعریف کرے، یا پانی کا گھونٹ بھی پئے تو اللہ کی تعریف کرے" مسلم (2734)  ۔

شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ نے فرمایا کہ احادیث میں کھانے پینے کے بعد اللہ تعالٰی کا حمد کیسے بیان کرۓ اس سے متعلق متعدد دعائیں مختلف صیغوں کے ساتھ موجود ہیں اگر انسان ان ساری صحیح دعاؤں کو یاد کرلے اور ان دعاؤں کو الگ الگ وقت پر پڑھیں تو یہ زیادہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اس میں کامل طور پر اتباع سنت ہے ۔ البتہ اگر کوئی ان دعاؤں کو یاد نہیں کر پاتا ہے تو کم از کم وہ کھانے پینے سے فراغت کے بعد الحمدللہ کہنا بالکل ہی نہ چھوڑۓ ۔ اسلئے کہ الحمدللہ نہایت ہی عظیم بابرکت اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ کلمہ ہے ۔

وہ دعائیں یہ ہیں ۔

الحمدُ للهِ الذي أطعَمَني هذا الطَّعامَ ورَزَقَنيه من غيرِ حولٍ مِنِّي ولا قوةٍ۔

الحمدُ للهِ حمدًا كثيرًا طيِّبًا مُبارَكًا فيه غيرَ مَكفيٍّ ولا مودَّعٍ ولا مستغنًى عنه ربَّنا۔

اللهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ، وَأَغْنَيْتَ، وَأَقْنَيْتَ، وَهَدَيْتَ، وَاجْتَبَيْتَ، فَلَكَ الْحَمْدُ على ما أَعْطَيْتَ۔

محترم قارئين ۔  غور کرنے کی ضرورت ہے آج  بہت سارے افراد کھانا تناول کرنے کے بعد اللّٰہ کا حمد نہیں بیان کرتے ہیں بلکہ ادھر ادھر کی بے فایدہ گفتگو میں مشغول ہو جاتے ہیں یا کھانا بنانے والے کی تعریف کرنے لگتے ہیں (ماشاءاللہ کیا لذیذ کھانا ہے ،کس نے بنایا واہ کیا کہنے وغیرہ )لیکن منعم اور معطی کی حمد وثناء میں غفلت برتتے ہیں ۔ اور رب کا حمد وثناء بھول جاتے ہیں ۔

بحوالہ۔ أحاديث الأخلاق 368 ۔

نمبر 5 ۔

اہل طعام کیلئے دعاء کرنا ۔

یعنی اگر کسی کے یہاں مہمان بن کر گئے اور کھاۓ پئے تو میزبان کیلئے دعاء کرنا مستحب ہے ۔ یہ دعائیں میزبان کیلئے کہہ سکتے ہیں ۔

اللهم أطعم من أطعمني واسق من سقاني۔

اللهم بارك لهم في ما رزقتهم،واغفر لهم وارحمهم ۔

نمبر 6 ۔

دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔

اپنے داہنے ہاتھ سے کھانا کھانا واجب اور بائیں ہاتھ سے کھانا کھانا حرام ہے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو جیسے کوئی بیماری یازخم وغیرہ ہے تو رخصت ہے۔

چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(تم میں سے کوئی بھی بائیں ہاتھ سے نہ کھائےپیئے، اس لئے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے) مسلم ( 2020 )

سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا۔ لہذا آپ نے اس سے کہا : "اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ"۔ لیکن اس نے جواب دیا : میں (دائیں ہاتھ سے) کھا نہیں سکتا۔ اس پر آپ ﷺ نے (اس کے حق میں بد دعا کے طور پر) کہا : "تو ایسا کر بھی نہیں سکتا"۔ دراصل اس نے محض تکبر کی وجہ سے آپ کی بات کو ٹھکرایا تھا۔ راوی حدیث کہتے ہيں : چنانچہ وہ شخص اپنا ہاتھ اپنے منہ تک کبھی نہ لے جا سکا۔ [صحيح مسلم - 2021

ابن الجوزی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب بایاں ہاتھ کو استنجاء اور نجاست (بوقت ضرورت چھونے) کیلئے بنایا گیا ہے اور دایاں ہاتھ غذا وغیرہ تناول کرنے کے لئے بنایا گیا ہے تو ان میں سے ایک کو دوسرے کے کام میں استعمال کرنا صحیح اور مناسب نہیں ہے اسلئے کہ اس میں فضیلت والے کی فضیلت میں نقص وکمی اور غیر فضیلت والے کو فضیلت وعظمت ،بلند مقام ومرتبہ دینا ہے ،لہذا جس نے بھی حکمت ومصلحت کے تقاضے کے بر خلاف کام کیا اس نے شیطان کی موافقت کیا ۔

دیکھئے ۔كشف المشكل من حديث الصحيحين 2/595)(

محترم قارئین ۔

اتنی سخت ممانعت وتحذیر اور شدید وعید و زجروتوبیخ کے باوجود بہت سارے افراد نوجوان خصوصا اسکول و کالج کے طلباء کینٹن اور شہر کے ریسٹورنٹ وغیرہ میں بالخصوص کثرت سے دونوں ہاتھوں سے کھاتے پیتے ہیں ۔جیسے ایک ہاتھ میں سموسہ اور دوسرے ہاتھ میں پانی یا کوئی مشروب وغیرہ کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے اور یہ ایک عام بیماری کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ بلکہ بائیں سے کھانا پینا ماڈرن اور مہذب ومتمدن ہونے کی علامت سمجھا جارہا ہے ۔ چنانچہ آپ مشاہدہ کریں گے ایک گھونٹ دائیں ہاتھ سے تو دوسرا گھونٹ بائیں ہاتھ سے بلکہ بعض افراد دائیں ہاتھ سے موبائل چلاتے ہیں اور بائیں ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے ہیں ۔ اللہ انھیں ہدایت نصیب کرے۔ بعض لوگ  دائیں ہاتھ سے گلاس پر ٹیک لگا کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بائیں ہاتھ سے پانی نہ پینے کی ممانعت کی خلاف ورزی سے بچ گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث کی صریح خلاف ورزی ہے، بائیں ہاتھ سے پیتے ہوئے محض گلاس پر داہنے ہاتھ سے ٹیک لگا دینا داہنے ہاتھ سے پینے کے حکم کی تعمیل نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اگر کبھی ایک ہاتھ سے برتن پکڑنا کافی نہ ہو تو دوسرے ہاتھ سے ٹیک لگانے میں حرج نہیں لیکن ایسی صورت میں وہ

ہاتھ جس سے برتن کو پکڑا گیا ہے داہنا ہونا چاہئے اور وہ ہاتھ جس سے ٹیک لگایا گیا ہے بایاں ہونا چاہئے کیونکہ جس ہاتھ سے برتن پکڑا گیا ہے اس ہاتھ سے پینا مانا جائے گا نہ کہ اس ہاتھ سے جس سے ٹیک لگایا گیا ہے۔

نمبر 7 ۔

کھانے کے پلیٹ سے قریب ترہو جانا ۔

عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا، آپ نے فرمایا: ”بیٹے! قریب ہو جاؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ“۔

أخرجه البخاري5376. ومسلم2022 والنسائي )

6722(

نمبر 8 ۔

اپنے سامنے موجود کھانے میں سے کھانا ۔

مسلمان کیلئے مسنون ہے کہ اپنے سامنے موجود کھانے میں سے کھائے، اور دوسروں کے سامنے سے ہاتھ بڑھا کر نہ اٹھائے، اور نہ ہی کھانے کے درمیان میں سے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا تھا: (لڑکے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھاؤ)  ۔ بخاری (5376 ) ومسلم ( 2022 ) نسائی (6722)

اپنے سامنے اور پلیٹ کے کنارے سے کھانا یہ اس وقت ہے جب ایک ہی قسم کا کھانا ہوں البتہ اگر  دسترخوان میں متعدد انواع و اقسام کے کھان پکوان ہوں

تو متعدد انواع کےڈشیں اور کھان پکوان تک ہاتھ بڑھا سکتے ہیں ۔

نمبر 9 ۔

ایک ساتھ مل بیٹھ کر ایک ہی پلیٹ میں کھانا ۔

یعنی سب مل کر کھانا کھائیں۔

مسند احمد وابوداود وغیرہ میں روایت ہے کہصحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے (اللہ کا نام لے کر) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی“

«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأطعمة 17 (3286)، (تحفة الأشراف: 11792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/501) (حسن) (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 25 /486، والصحيحة للألبانى رقم: 664)۔

بنابریں مل کر کھانا برکت کا باعث ہے تاہم الگ الگ کھانا بھی جائز ہے۔

ارشادباری تعالیٰ ہے:

﴿لَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَأكُلوا جَميعًا أَو أَشتاتًا﴾  

(النور: 24: 61)

تم پر اس میں بھی کوئی گناه نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ ۔

نمبر 10 ۔

اگر گرم کھانا ہوں تو تھوڑا انتظار کرلیا جاۓ تاکہ اسکی حرارت اور بھانپ وغیرہ ختم ہوجاۓ ۔

جیساکہ حدیث ہے ۔ اسماء بنت ابی بکر – رضی اللہ عنہا – جب ثرید (ایک قسم کا کھانا )بناتی تھیں تو اسے کسی چیز سے ڈھانپ دیتی تھیں تاکہ اس کا ابال ختم ہو جائے، پھر کہتی تھیں: "میں نے رسول اللہ – صلی اللہ علیہ وسلم – سے سنا ہے کہ یہ برکت کا باعث ہے۔"

رواه أحمد 26958,وابن حبان 5207۔

نمبر 10 ۔

کھانا میں نا پھونکنا ۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔

أخرجه ابن ماجه (3288) باختلاف يسير مطولاً، )وأحمد (2817) بلفظ مختلف والمعنی واحد)۔

لہذا اگر کھانا یا مشروب زیادہ گرم ہو تو انتظار کرلے اور ٹھنڈا کرکے کھائے پئے۔اسی طرح اگر کوئی تنکا وغیرہ اس میں گرا پڑا ہوتو ہاتھ سے نکال لے پھونک نہ مارے۔

اسی طرح پانی دودھ یا کوئی اور مشروب پیتے ہوئے سانس لینے کی ضرورت ہو تو برتن منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے پھر دوبارہ حسب ضرورت پی لیا جائے۔

جیساکہ حدیث ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے والی چیز میں پھونک مارنے سے منع فرمایا تو ایک آدمی نے کہا میں بعض دفعہ برتن میں تنکے وغیرہ دیکھتا ہوں تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس میں سے کچھ پانی انڈیل دو ، اس نے کہا میں ایک سانس سے سیراب نہیں ہوتا ؟ آپ نے فرمایا پھر اس وقت تم اپنا منھ برتن سے ہٹا لو ۔

أخرجه الترمذي في جامعه (1887)

نمبر 11 ۔

گرۓ ہوۓ لقمے کو کھانا ۔

اگر کوئی لقمہ یا کھانا نیچے گر جاۓ تو اسکو نہ چھوڑۓ بلکہ اس کو اٹھاۓ اور کچھ مٹی یا گندگی وغیرہ اگر ہوں تو صاف کرلے اور کھالے اور شیطان کیلئے مت چھوڑے، کیونکہ یہ کسی کو نہیں پتہ کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے، اس لئے یہ ممکن ہے کہ اسی لقمے میں برکت ہو جو گر گیا تھا، چنانچہ اگر لقمے کو چھوڑ دیا تو ہوسکتا ہے کہ اس سے کھانے کی برکت چلی جائے ۔ اسی طرح انگلی چاٹ لے ہاتھ دھونے سے پہلے ۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا لے اور اس پر جو ناپسندیدہ چیز (تنکا، مٹی) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کر لے اور اسے کھا لے، اس لقمے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے، اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“

(أخرجه مسلم 2033,تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5301]

نمبر 12 ۔

پیٹ کے بل بیٹھ کر یا ٹیک لگا کر نا کھاۓ ،اور نا تکبر و غرور کا اظہار کرۓ بلکہ تواضع اختیار کرۓ ۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے: ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے،یا پیٹ کے بل لیٹ کر کھانا کھاۓ۔

(أخرجه أبوداود 3774،واللفظ له وابن ماجة 3370،وحسنه الألباني )

اور کہا جاتاہے کہ جو اوندھے منھ چہرے کے بل کھاتا پیتا ہے اس سے معدہ و جگر وپھیپھڑا وغیرہ کو نقصان پہنچتا ہے اور اس سے فطری وطبعی شکل وصورت بھی بگڑ جاتی ہے اور وہ قبیح ہئیت دیکھنے میں اچھا نہیں لگتا ہے ۔

اسی طرح کھانا بہتر طریقہ سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے جس سے کہ بہت سارے امراض جنم لیتے ہیں ۔

بہر کیف ٹیک لگا کر کھانا مکروہ و ناپسندیدہ ہے ، جیساکہ حضرت ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔(أخرجه البخاري 5399,)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ٹیک لگا کر کھانے کے مکروہ و ناپسندیدہ ہونے کی علت کے سلسلے میں اختلاف ہے اور اس کے متعلق سب سےبہتر وقوی امر یہ ہے کہ جیسا کہ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم نخعی کے طرق سے روایت کیا ہے کہ "وہ لوگ ٹیک لگا کر کھانے کو نا پسند کرتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں ان کے پیٹ نہ بڑۓ ہو جائیں (اور چربی وغیرہ زیادہ نہ ہوجاۓ )

بحوالہ ۔فتح الباری 9/542۔

اور مزید ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں کہ: "ٹیک لگانے کی کیفیت میں اختلاف کیا گیا ہے ، کچھ کہتے ہیں : کھانے کیلیئے کسی بھی طرح سے زمین پر پسر جانا اس میں شامل ہے ، اور کچھ کہتے ہیں کہ : کسی ایک طرف ٹیک لگا کر بیٹھنا ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : بائیں ہاتھ کو زمین پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا کر بیٹھنا ۔

فتح الباری 9/541۔

ڈاکٹر عبد الرحمن فریوائی صاحب لکھتے ہیں کہ

ٹیک لگا نے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں

کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا۔

زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے،

یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پربیٹھے۔

[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث: 1830]

نمبر 13 ۔

کھانے پر ناک بھوؤں نہ چڑھاۓ یعنی کھانے کی عیب نا نکالے اگر دل چاہے تو کھالے ورنہ چھوڑ دۓ مگر عیب نا نکالے ۔

چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر وہ کھانا پسند ہوتا تو کھا لیتے ، اور پسند نا ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے۔ بخاری ( 3563 ) اورمسلم

۔  ( 2064 )

اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انھوں نے کہا ہمارے پاس سرکے کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو آپ نے وہی منگوایا اور (اس کے ساتھ ) کھانا شروع کر دیا اور فرمانے لگے سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے ۔

(أخرجه مسلم 2052)

نمبر 14 ۔

کھانے پینے سے فراغت کے بعد ہاتھ وغیرہ صاف کرلے صابن وغیرہ سے دھولے کھانے کا بقایا اگر ہاتھ میں لگا ہوا ہو۔  خصوصا اگر کھانے کے بعد سونے کاارادہ ہوں۔

کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا مستحب ہے چاہے انسان باوضو ہی کیوں نہ ہو۔

جیساکہ حدیث ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3297

اس ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ چکنائی کی بو کی وجہ سے چیونٹیاں بستر پر آسکتی ہیں ان سے سونے والے کو نقصان یا تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہے۔

بعض اوقات چوہا وغیرہ بھی کاٹ لیتا ہے جو خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو بہت اچھی طرح دھولو،

کیوں کہ نہ دھونے سے کھانے کی بوہاتھوں میں باقی رہے گی،

جو جن وشیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی،

اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہوسکتا ہے،

اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھناچاہیے

[سنن ترمذي، مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1860]

نمبر 15 ۔

ڈکار روکنے کی کوشش کرۓ یا کم سے کم ہی ڈکار نکالے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے ڈکار لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سے اپنا ڈکار روک کے رکھو، کیونکہ دنیا کے

اندر زیادہ آسودہ رہنے والے زیادہ پیٹ بھرنے والے) بروز قیامت زیادہ لمبی بھوک میں مبتلا ہوں گے ۔ (ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے حسن کہا ہے)۔

نمبر 16 ۔

اعتدال و میانہ روی سے کھاۓ پئے اور بسیار خوری سے اجتناب کرۓ ۔

بسیار خوری اور کثرت سے کھانے پینے کی خواہش یہ اچھی  بات نہیں ہے ،اس سے سستی کاہلی پیدا ہوتی ہے ،اور دل میں سختی آجاتی ہے ۔

میانہ روی سے کھانا کھانا اور مکمل طور پر پیٹ نہ بھرنا بھی کھانے کے آداب میں شامل ہے، اس کے لئے ایک مسلمان کو اپنے پیٹ کے تین حصے کرنے چاہئیں، ایک تہائی کھانے کیلئے، ایک تہائی پانی کیلئے اور ایک تہائی سانس لینے کیلئے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے: "کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے، تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے مختص کر دے" ترمذی ( 2380 ) ابن ماجہ ( 3349 ) البانی نے اسے صحيح ترمذی ( 1939 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

جسم کو ہلکا پھلکا اور معتدل رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے، کیونکہ زیادہ کھانے سے بدن بھاری ہوجاتا ہے، جس سے عبادت اور کام کرنے میں سستی آتی ہے، اور "تہائی " سے کھانے کی وہ مقدار مراد ہے جس سے انسان مکمل پیٹ بھر لے اسکا تیسرا حصہ ۔

دیکھئے۔ الموسوعة الفقہیہ الکویتیہ" ( 25 / 332 )

اللّٰہ تعالٰی ہمیں تمام اسلامی تعلیمات و احکامات نیز کھانے پینے کے آداب واحکام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...