التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 عقیدہ توحید کی اہمیت ۔

از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔

توحید باب تفعیل سے مصدر ہے ،وحد یوحد توحیدا ۔ اس کا ماخذ احد ہے ۔

توحید کا لغوی معنی ۔ کسی شئی کو ایک کرنا یا ایک جاننا ،یا اکیلا اور بے مثال ہوناہے ۔ اس معنی کی رو سے اللّٰہ تعالٰی کی توحید کا معنی ہوگا : اللّٰہ تعالٰی کو ایک ماننا یعنی اسکے ایک ہونے کا عقیدہ رکھنا ۔یعنی اللّٰہ تعالٰی اپنی ذات اور صفات میں اکیلا اور بے مثال ہے کوئی دوسرا اس جیسا نہیں جو اس کی ذات اور صفات میں شریک ہو۔

عقیدہ عقدہ سے ہے ،جو گرہ لگانے کے معنی میں مستعمل ہے ،اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کے عقیدے سے مراد یہ ہے کہ دل میں اس کی وحدانیت کے تعلق سے ایک مضبوط گرہ لگا دی جائے ،ایسی گرہ کہ جسے دنیا کی کوئی بھی سپر پاؤرطاقت کھول نہ سکے اور ایسی گرہ کہ زبان بھی اس کے ایک ہونے کا اقرار کرۓ،دل بھی اس کے ایک ہونے کا اعتراف کرے اور ہر ہر عمل اس کے ایک ہونے کی گواہی دے ۔

توحید کا شرعی معنی شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:إفراد الله تعالى بما يختص به من الربوبية والألوهية والأسماء والصفات۔ یعنی ربوبیت الوہیت اور اسماء وصفات جو اللّٰہ تعالٰی کے ساتھ مخصوص ہیں،میں اللہ تعالیٰ کو ایک جاننا اور ماننا ۔

(القول المفيد لابن عثيمين صفحه نمبر 11)

محترم قارئین ۔

عقیدہ توحید اس کائنات کی سب سے بڑی عالمگیر سچائی ہے ، جبکہ شرک کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔عقیدہ توحید ہی اصل اور فطرت کی آواز ہے جبکہ شرک فطرت سے بغاوت ہے ،دخیل اور باہری گندگی ہے ۔ عقیدہ توحید کے منکر زندگی کے ہر محاذ پر ہمیشہ مضطرب ومتذبذب وپریشان خاطر رہتا ہے جبکہ موحد وعقیدۂ توحید پر ایمان رکھنے والا شخص اپنی نظریاتی وعملی زندگی میں کبھی اضطراب ،تضاد شکوک وشبہات کا شکار نہیں ہوتا ہے ۔

انسان صرف اپنی ذات پر اگر غور کرے تو توحید باری تعالیٰ کے بہت سارے دلائل و نشانیاں انھیں مل جاۓ گی ۔اور اگر کائنات میں نظر دوڑائیں تو کائنات کا ذرہ ذرہ عقیدہ توحید کی تصدیق اور تائید کرتا ہوا ملے گا۔

فَيا عَجَباً كَيفَ يُعصى الإِلَهُ

أَم كَيفَ يَجحَدُهُ الجاحِدُ

وَفي كُلِّ شَيءٍ لَهُ آيَةٌ

تَدُلُّ عَلى أَنَّهُ واحِدُ

وَلِلَّهِ في كُلِّ تَحريكَةٍ

وَتَسكينَةٍ أَبَداً شاهِدُ۔

عقیدہ توحید سب سے افضل وعظیم اطاعت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت میں اللہ تعالی کو ایک تسلیم کرنا اور اللہ کے علاوہ تمام معبودان باطلہ کا انکار کرنا ہے۔ اس توحید کے لئے اللہ تعالی نے جن وانس کی تخلیق فرمائی، انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور کتا بیں نازل کیں، کیونکہ اگر انسان کا عقیدہ توحید سلامت رہا تو دیگر امور بھی اس کے تابع ہوں گے اور اگر توحید میں خلل آگیا تو دیگر اعمال واقوال کچھ نفع نہ پہنچا سکیں گے۔ اور اللہ تعالی نے حقیقی موحد سے چاہے اس کا گناہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔

محترم قارئین ۔ مسئلہ توحید وشرک انتہائی اہم ،دقیق اور نہایت ہی نازک مسئلہ ہے ۔

اہم اسطرح کہ کمالِ توحید دخول جنت کی اساس ہے ،جبکہ شرک کاذرہ بھی دائمی جہنم کا باعث ہے ۔

دقیق اس طرح کہ ۔ ماشاءاللہ وشاء فلان۔ جو اللّٰہ چاہے اور فلاں چاہے ۔ شرک ہے ۔

اور ماشاءاللہ ثم ما شاء فلان ۔

جو اللّٰہ چاہے پھر جو فلاں چاہے ،توحید ہے ، یعنی واؤ اور ثم کے فرق سے توحید وشرک کا فرق ہوجاتا ہے ۔

نازک ،اسطرح کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے "لا تطروني كما أطرت النصارى ابن مريم إنما أنا عبد فقولوا عبد الله ورسوله" ۔ مجھے میرے حد سے آگے نہ بڑھاؤ جیساکہ نصاریٰ نے عیسی بن مریم علیہما السلام کو ان کی حد سے بڑھا دیا تھا ،میں تو صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں لہذا تم مجھے اللّٰہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔

عقیدہ توحید کی اہمیت۔

عقیدہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے جن وانس کی تخلیق کی گئی یعنی توحید باری تعالیٰ ہی مقصدِ تخلیق جن وانس ہے ۔

﴿وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِیَعۡبُدُونِ ۝٥٦ مَاۤ أُرِیدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقࣲ وَمَاۤ أُرِیدُ أَن یُطۡعِمُونِ ۝٥٧﴾ [الذاريات ٥٦-٥٧]

2 ۔

توحید باری تعالی ہی ایسا اہم ترین مسئلہ ہے جسےسمجھانے کے لئے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت ہوئی ،

﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِی كُلِّ أُمَّةࣲ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُوا۟ ٱلطَّـٰغُوتَۖ ۔  [النحل 36]

ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبر دار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔

علامہ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں

"يخبر تعالى أن حجته قامت على جميع الأمم، وأنه ما من أمة متقدمة أو متأخرة إلا وبعث الله فيها رسولا وكلهم متفقون على دعوة واحدة ودين واحد، وهو عبادة الله وحده لا شريك له"

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی حجت تمام قوموں پر قائم ہے، اور کوئی بھی قوم خواہ پہلے کی ہو یا بعد کی، ایسی نہیں ہے جس میں اللہ نے رسول نہ بھیجا ہو۔ اور سارۓ رسول کی دعوت ایک  ہی دعوت ہےکہ دین حق ایک ہی ہے  اور سارے انبیاء ورسل متفق ہیں  اور ان کی دعوت ایک دین کی طرف ہے اور وہ ہے صرف ایک ہی اللہ کی عبادت کرنا جو کہ معبود برحق ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ۔

(دیکھئے تفسیر السعدی سورۃ نحل )

ڈاکٹر لقمان سلفی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تیسیر الرحمٰن میں لکھتے ہیں کہ :جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں آیت (36) میں بیان فرمایا ہے کہ ہم نے ہر قوم کے لیے ایک رسول بھیجا جس نے انہیں اس بات کی تعلیم دی کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان اور بتوں کی عبادت سے دور رہو، اس لیے کسی مشرک کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم غیروں کی عبادت نہ کرتے، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خیر و شر اور جنت و جہنم کے دونوں راستے بتا دیئے، خیر کی راہ پر چلنے کا حکم دیا اور شر کی راہ سے منع فرمایا، بلکہ اس سے زیادہ یہ کیا کہ مشرکوں کو دنیا میں ان کے شرک کی سزا دی، تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ ان کے شرکیہ اعمال سے راضی نہیں ہے، آیت (36) کے آخر میں یہی بات کہی گئی ہے، خیر و شر کی اس وضاحت و صراحت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب اور مشیت کونی کے مابق جسے چاہا خیر کی توفیق دی اور جسے چاہا بھٹکتا چھوڑ دیا۔

3 ۔

اسی  دعوت کو عام کرنے کے لئے کتب اور صحیفے نازل ہوئے اور سب سے آخری رسول سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر آخری کتاب قرآن کریم نازل ہوا۔ جس کا مقصد وحید بھی یہی ہے کہ دعوت توحید کو پھلایا اور عام کیا جائے ۔ ارشاد باری تعالی ہے۔

هَـٰذَا بَلَـٰغࣱ لِّلنَّاسِ وَلِیُنذَرُوا۟ بِهِۦ وَلِیَعۡلَمُوۤا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَـٰهࣱ وَ ٰ⁠حِدࣱ وَلِیَذَّكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلۡأَلۡبَـٰبِ ۝٥٢﴾ [إبراهيم 52]

یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لئے اور بھیجا گیا ہے اس لئے کہ انسانوں کو اس کے ذریعہ سے

خبر دار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں معبود برحق ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ

ہوش میں آجائیں۔

4 ۔

انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی جو بڑی بڑی تکلیفوں اور مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑا اس کا سبب بھی یہی دعوت توحید تھی ۔ فرمانِ الہی ہے

﴿كَذَ ٰ⁠لِكَ مَاۤ أَتَى ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا۟ سَاحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٌ ۝٥٢ أَتَوَاصَوۡا۟ بِهِۦۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمࣱ طَاغُونَ ۝٥٣﴾ [الذاريات ٥٢-٥٣]

اسی طرح ہی ہوتا رہا ہے۔ جب بھی ان سے پہلے لوگوں کے ہاں کوئی رسول آیا انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے یا پاگل ہے۔کیا یہ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے آرہے ہیں۔ بلکہ یہ سب باغی ہیں۔

5 ۔

توحید ہی دین قیم ہے یعنی ایسا دین جو انسانوں کے سارۓ امور کو سنبھالنے والا ہے ۔

أَمَرَ أَلَّا تَعۡبُدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِیَّاهُۚ ذَ ٰ⁠لِكَ ٱلدِّینُ ٱلۡقَیِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا یَعۡلَمُونَ﴾ [يوسف ٤٠]

اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دین(قيم) برحق ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ باتیں جانتے نہیں۔

6 ۔

توحید اور صحیح ایمان ہی استحکام معیشت اور امن و سلامتی کی بنیاد ہے ۔ فَلۡیَعۡبُدُوا۟ رَبَّ هَـٰذَا ٱلۡبَیۡتِ ۝٣ ٱلَّذِیۤ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعࣲ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ ۝٤﴾ [قريش۔

پس انھیں چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر و خوف میں امن وامان دیا ۔

7 ۔

توحید ہی محور نجات ومدارِ فلاح ہے ۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔"من قبل مني الكلمة التي عرضتها على عمي فردها فهي له نجاة "۔ مسند أحمد27647 ۔

جو شخص میری طرف سے وہ کلمہ توحید قبول کر لے جو میں نے اپنے چچا خواجہ ابوطالب پر پیش کیا تھا اور انہوں نے وہ کلمہ کہنے سے انکار کر دیا تھا، وہ کلمہ ہی ہر شخص کے لئے نجات کا راستہ اور سبب ہے۔“

توحید ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اول وآخر دعوت تھی۔

﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ ۝١ قُمۡ فَأَنذِرۡ ۝٢ وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ ۝

اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہوجا اور آگاہ کردے

اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں(توحید) بیان کر۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری لحظہ تک توحید کی دعوت وتبلیغ اور شرک کی تردید وتفنید فرمائی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے چند لمحات قبل فرمایا تھا "لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيائهم مساجد "

نيز فرمايا "اللهم لا تجعل قبري وثنا يعبد "اۓ اللّٰہ! میری قبر کو وثن یعنی پوجاگاہ نہ بنادینا کہ جسے لوگ پوجنے لگیں ۔

صحیح بخاری 436 ۔

8 ۔

توحید کی طرف دعوت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کا شیوہ ہے جو کہ دعوت وتبلیغ وعظ ونصیحت میں ان کے سچے جانشین ہیں جیساکہ ارشاد ہے ۔

﴿قُلۡ هَـٰذِهِۦ سَبِیلِیۤ أَدۡعُوۤا۟ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِیرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِیۖ وَسُبۡحَـٰنَ ٱللَّهِ وَمَاۤ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِینَ﴾ [يوسف ١٠٨]

آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے، میں اور پیروکار اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ  اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں۔

صاحب تفسیر احسن البیان لکھتے ہیں

یعنی توحید کی راہ ہی میری راہ ہے بلکہ ہر پیغمبر کی راہ رہی ہے اسی کی طرف میں اور میرے پیروکار پورے یقین اور دلائل شرعی کے ساتھ لوگوں کو بلاتے ہیں۔

9 ۔

توحید پر ہی دنیا کی بقاء ہے ، جب دنیا سے توحید ختم ہوگی فورا قیامت آجاۓ گی ۔

لا تقوم الساعة حتى لا  يقال في الأرض الله الله .

رواه مسلم 357 . ۔

اسوقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک اس زمین میں اہلِ توحید موجود ہیں ۔

10۔

توحید ہی کی بدولت آپس میں بگڑۓ ہوۓ دل ملیں گے ،بغض حسد اور کینہ سے صاف ہوں گے جیساکہ فرمایا ۔

﴿قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةࣱ فِیۤ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ إِذۡ قَالُوا۟ لِقَوۡمِهِمۡ إِنَّا بُرَءَ ٰۤ⁠ ؤُا۟ مِنكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَیۡنَنَا وَبَیۡنَكُمُ ٱلۡعَدَ ٰ⁠وَةُ وَٱلۡبَغۡضَاۤءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤۡمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥۤ إِلَّا قَوۡلَ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ لِأَبِیهِ لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَمَاۤ أَمۡلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَیۡءࣲۖ رَّبَّنَا عَلَیۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَإِلَیۡكَ أَنَبۡنَا وَإِلَیۡكَ ٱلۡمَصِیرُ﴾ [الممتحنة ٤]

مسلمانو! تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگئی ۔ لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی ۔کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے ۔  اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

11۔

توحید ہی سے امت کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم رہتا ہےاور لوگ شیر و شکر ہوکر مل جل کر اکٹھے رہتے ہیں اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے ۔

﴿۞ شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّینِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحࣰا وَٱلَّذِیۤ أَوۡحَیۡنَاۤ إِلَیۡكَ وَمَا وَصَّیۡنَا بِهِۦۤ إِبۡرَ ٰ⁠هِیمَ وَمُوسَىٰ وَعِیسَىٰۤۖ أَنۡ أَقِیمُوا۟ ٱلدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِیهِۚ كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِینَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَیۡهِۚ ٱللَّهُ یَجۡتَبِیۤ إِلَیۡهِ مَن یَشَاۤءُ وَیَهۡدِیۤ إِلَیۡهِ مَن یُنِیبُ﴾ [الشورى ١٣]

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ  ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے  اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا  ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح راہنمائی کرتا ہے

یعنی

صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت (یا اس کے رسول کی اطاعت جو دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے) وحدت وائتلاف کی بنیاد ہے اور اس کی عبادت واطاعت سے گریز یا ان میں دوسروں کو شریک کرنا، افتراق وانتشار انگیزی ہے، جس سے (پھوٹ نہ ڈالنا) کہہ کر منع کیا گیا ہے۔

12 ۔

توحید ہی سے عمل صالح کی طرف رغبت ہوتی ہے کیونکہ ایک اللہ پر ایمان رکھنے سے دوسروں کا خوف دل سے نکل جاتا ہے اور جن سے اُمیدیں وابستہ تھیں وہ ختم ہو جاتی ہیں پھر یہ دو یعنی وجہیں خوف اور اُمید عمل صالح کے لئے دل میں رغبت اور میلان پیدا کرتی ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو صحیح طور پر نہیں جانتے جس طرح کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اپنی شان بیان فرمائی ہے، وہ دراصل اللہ تعالی اور اس کے غیر میں کوئی فرق اور امتیاز نہیں کر سکتے ہیں۔ اسی طرح غیر اللہ کو مددگار یا مشکل کشا جاننے والے، یا ان کے توسل سے نجات یا حاجت روائی یا ان امراض سے شفاء حاصل کرنے کا عقیدہ رکھنے والے اللہ تعالیٰ سے بالکل بے خوف ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے بناوٹی معبودوں یا وسیلوں کا خیال رہتا ہے، وہ اُن ہی کی بد دعا سے  ڈرتے اور ان کی سفارش کے اُمیدوار رہتے ہیں۔ اسی طرح ان کے لئے گناہوں اور برائیوں کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور ان کے پاؤں راہ حق سے پھیلتے رہتے ہیں۔ توحید ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی بدولت ایک مومن نیکی عمل صالح ، اخلاق حسنه ایمانداری اور راست بازی پر قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے

فمن يكفر بالطاغوت ويؤمن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى لانفصام لها۔  اور جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ۔ (البقرۃ:۲۵۶)۔

13 ۔

عزت نفس اور خودی کا تحفظ۔

شرک انسانوں کو بے شمار خیالی اور وہمی قوتوں کے خوف میں مبتلا کر دیتا ہے، دیوی اور دیوتاؤں کا خوف، مظاہر قدرت کا خوف ، بھوت پریت اور جنات کا خوف، زندہ اور مردہ انسانوں کے آستانوں کا خوف، جابر اور قاہر حکمرانوں کا خوف، اسی خوف کے نتیجے میں انسان ایسی اخلاقی اور مذہبی پستیوں میں گرتا چلا جاتا ہے کہ آدمیت اور انسانیت منہ چھپانے لگتی ہے جبکہ عقیدہ توحید انسان کو ایسی تمام وہمی اور خیالی قوتوں کے خوف سے بے نیاز کر کے روح اور جسم کو آزادی عطا کرتا ہے انسان کو عزت نفس اور احترام آدمیت کا احساس دلاتا ہے۔ ہر آن اسے "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنی آدم (یعنی ہم نے بنی آدم کو بزرگی عطافرمائی ہے ) اور۔ لقد الإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِیم " (یعنی ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے ) کا  فرمان الہی یاد دلاتا رہتا ہے۔ یہی عقیدہ توحید انسان کو خودی کے مقام بلند پر لا کھڑا کرتا ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال رحمہ اللہ نے اس نکتے کی ترجمانی درج ذیل شعر میں بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے:

خودی کا سر نہاں لا اله الا الله

خودی ہے تیغ فشاں لا اله الا الله

(دیکھئے ۔ توحید حقیقت ضرورت اہمیت فضیلت صفحہ 30 ۔ و۔توحید کے مسائل ،کیلانی، صفحہ ،24)

محترم قارئین ۔

عقیدہ توحید ہی شریعتِ اسلام کی اساس و بنیاد ہے ،عقیدہ توحید ہی سب سے پہلا فرض ہے جس کا اقرار و اعتراف کرنا اور اسے قلب وقالب سے قبول کرنا اور اس کے تقاضے پر عمل کرناہر مومن پر واجب ہے ،عقیدہ توحید ہی وہ چیز ہے جس کے بغیر کوئی انسان دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا ،عقیدہ توحید ہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں۔ اور بیشمار مسلمانوں نے  بہت ساری قربانیاں دیں مصیبتوں کو برداشت کیا ،عیش وراحت اور تفرغ وتنعم کی زندگی سے دور ہوگئے اور اسی عقیدۂ توحید کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے شہید ہوے، عقیدہ توحید ہی وہ حد امتیاز اور خط فاصل ہے جس سے کافر مشرک ملحد و زندیق اور موحد و صحیح العقیدہ مسلمان کے درمیان فرق کیا جاتا ہے ۔

آپ ذرا صحابہ کرام وتابعین عظام واسلاف امت کی سیرت طیبہ کو پڑھ کر دیکھئے یا قرن اول کے موحد وجان نثار مسلمانوں کے قصص و واقعات پڑھئے کہ

توحید کی حقانیت جب ان لوگوں کے دلوں میں بیٹھنے لگی تو ہر آنے والی مصیبت ان کے لئے سہل ہونے لگی۔ سیدنا بلال حبشی رضی اللہ کا گرم پتھروں اور کوئلوں پر احد احد پکارنا ، سید نا خبیب  رضی اللہ کا شہادت سے قبل دو رکعت پڑھنے کی اجازت طلب کرنا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بوقت وفات شہادت کی حسرت میں رونا حالانکہ ان کے جسم کا ہر حصہ اللہ کی راہ میں دشمن کے وار کا نشانہ بن چکا تھا۔ اسی طرح غزوہ تبوک میں مالی و معاشی مشکلات پر صبر و استقامت سے رہنا، نیز صحابیات کا اپنے بیٹوں کی شہادت پر صبر کرنا بلکہ خوش ہونا اور اس قسم کے بیشمار واقعات جو تاریخ اسلام کے شاہکار ہیں سب اس حقیقت پر دلالت کناں ہیں کہ وہ تو حید کو دل کی گہرائیوں سے جان چکے تھے اور اس کی عاقبت محمودہ پر ایمان رکھتے تھے یہی وہ حلاوۃ الایمان (ایمان کی مٹھاس)ہے جس کا ذکر صحیحین کی روایات میں موجود ہے کہ وہی شخص ایمان کی لذت کو پا سکتا ہے جو تین صفات کا حامل ہو، ان میں سے ایک صفت یہ ہے

ويكره ان يعود في الكفر بعد ان انقذه الله منه كما يكره ان يلقى في النار۔

جب اللہ نے اس کو کفر کی حالت سے نکال دیا تو وہ اس میں دوبارہ جانے کو اس طرح برا سمجھے جس

طرح کہ آگ میں ڈالنے جانے کو برا سمجھتا ہے۔

عقیدہ توحید کے فوائد و ثمرات ۔

عقیدہ توحید کے ثمرات و فوائد بہت زیادہ ہیں بس اتنا جان لیجئے کہ دنیا وآخرت کی سعادت پاکیزہ زندگی اور سکون واطمینان عقیدہ توحید کے اپنانے پر ہی منحصر ہے ۔

1 ۔

دنیا و آخرت میں امن وامان اور سعادت و خوشحالی عقیدہ توحید کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

﴿ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَلَمۡ یَلۡبِسُوۤا۟ إِیمَـٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ﴾ [الأنعام ٨٢]

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔

علامہ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نہیں ملایا انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم“ یعنی ایمان کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ ﴿أُولَـٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴾ ” یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ یعنی وہ ہر قسم کے خوف سے مامون ہوں گے، عذاب اور شقاوت وغیرہ میں سے کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی سے نوازے جائیں گے۔ اگر انہوں نے اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم سے ملوث نہ کیا ہوگا یعنی انہوں نے شرک کیا ہوگا نہ گناہ، تو انہیں امن کامل اور ہدایت تام نصیب ہوگی اور اگر انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے تو پاک رکھا مگر وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتے رہے تو انہیں اگرچہ کامل امن اور کامل ہدایت تو حاصل نہ ہوگی تاہم انہیں اصل ہدایت اور امن حاصل ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں یہ دو امور حاصل نہیں وہ ہدایت اور امن سے محروم رہیں گے بلکہ ان کے نصیب میں بدبختی اور گمراہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

2 ۔

اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے نصرت ومدد، ، سلطنت و تمکنت کیلئے بنیادی شرط یہ ہے کہ بندہ کا عقیدہ توحید مضبوط ہوں شرک کی نجاستوں میں ملوث نہ ہوں ۔

جیساکہ اللّٰہ تعالٰی کا فرمان ہے ۔

﴿وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمۡ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِی ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَیُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِینَهُمُ ٱلَّذِی ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنࣰاۚ یَعۡبُدُونَنِی لَا یُشۡرِكُونَ بِی شَیۡـࣰٔاۚ وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَ ٰ⁠لِكَ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡفَـٰسِقُونَ﴾ [النور ٥٥]

ترجمہ ۔

تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ انھیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کو وہ امن امان سے بدل دے گا  وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے  اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں ۔

صاحب تفسیر تسہیل البیان لکھتے ہیں کہ ۔

اس آیت سے بعض نے اس وعدہ الٰہی کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ یا خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ساتھ خاص قرار دیا ہے۔ لیکن اس کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔ قرآن کے الفاظ عام اور عمل صالحہ کے ساتھ مشروط ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ عہد خلافت راشدہ اور عہد خیر القرون میں اس وعدہ الٰہی کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زمین میں غلبہ عطا فرمایا، اپنے پسندیدہ دین اسلام کو عروج دیا اور مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دیا، پہلے مسلمان کفار عرب سے ڈرتے تھے، پھر اس کے برعکس معاملہ ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیش گوئی فرمائی تھی وہ بھی اس عہد میں پوری ہوئی۔

چنانچہ صحیح بخاری میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ حیرہ سے ایک عورت تن تنہا چلے گی اور بیت اللہ کا آکر طواف کرے گی، اسے کوئی خوف اور خطرہ نہیں ہوگا۔ کسریٰ کے خزانے تمہارے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ (بخاری: ۳۵۹۵)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: ’’اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا، پس میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصے دیکھے، عنقریب میری امت کا دائرہ اقتدار وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی۔(مسلم: ۲۸۸۹)

حکمرانی کی یہ وسعت بھی مسلمانوں کے حصے میں آئی اور فارس وشام اور مصر و افریقہ اور دیگر دور دراز کے ممالک فتح ہوئے اور کفر وشرک کی جگہ توحید وسنت کی مشعلیں ہر جگہ روشن ہوگئیں اور اسلامی تہذیب وتمدن کا پھریرا چار دانگ عالم میں لہرایا، لیکن یہ وعدہ چونکہ مشروط تھا، لہٰذا جب مسلمان ایمان میں کمزور اور عمل صالح میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے تو اللہ نے ان کی عزت کو ذلت میں، ان کے اقتدار اور غلبے کو غلامی میں اور ان کے امن واستحکام کو خوف اور دہشت میں بدل دیا۔

بحوالہ ۔ تسہیل البیان فی تفسیر القرآن ۔

3 ۔

قبر میں ثبات قدمی عقیدہ توحید ہی کی وجہ سے ممکن ہے ۔ جیساکہ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا ۔

﴿یُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِی ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا وَفِی ٱلۡـَٔاخِرَةِۖ وَیُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّـٰلِمِینَۚ وَیَفۡعَلُ ٱللَّهُ مَا یَشَاۤءُ﴾ [إبراهيم ٢٧]۔

ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی  ہاں ناانصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔

محترم قارئین ۔ یہاں قولِ ثابت سے مراد کلمہ شہادت اور عقیدۂ توحید ہے۔ وَ فِي الْاٰخِرَةِ ۔  اس سے مراد قبر میں سوال و جواب ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِيْ قَبْرِهِ أُتِيَ ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، فَذٰلِكَ قَوْلُهُ : ﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ﴾)) [إبراہیم : ۲۷ ] ’’جب مومن کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، پھر وہ شہادت دیتا ہے: ’’أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ‘‘ چنانچہ اللہ کے اس فرمان : ﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ﴾ کا یہی مطلب ہے۔‘‘ [ بخاري ، الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر : ۱۳۶۹ ] صحیح بخاری ہی میں اس کے بعد والی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں اتری۔

  اللّٰہ تعالٰی ہمیں عقیدہ توحید پر استقامت وثبات قدمی عطا فرمائے، شرک وبدعت سے دور رکھے اور ہمارے خاتمہ عقیدہ توحید پر ہی ہو ۔آمین ۔ 

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...