التخطي إلى المحتوى الرئيسي

المشاركات

عرض المشاركات من مايو, 2026
  قربانی سے قبل چند چیزوں کی یاددہانی۔ ازقلم ،محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔ قربانی کا لغوی معنی۔ ” قربانی ” عربی زبان کا لفظ ہے۔ اصل لفظ ’’ قُربان ‘‘ ہے جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک وقریب ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا ضد ’’ بُعد ‘‘ یعنی دوری ہے۔ قرب سے قربانی کا لفظ مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے۔ جیسے’’قراءت‘‘ کے معنی فقط ’’پڑھنا‘‘ ہے اور قرآن کے معنی اس کتاب کے ہیں جسے بار بار اور کثرت سے پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام حمید کا نام اسی وجہ سے قرآن رکھا ہے کہ کثرتِ قراءت کے اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب اس کے برابر نہیں ہے ۔ اسی طرح بھوکے پیاسے کے لئے عربی زبان میں لفظ "جوعان" ’’عطشان‘‘ استعمال ہوتا ہے۔جاع سے جوعان اور’’عطش‘‘ سے عطشان مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے جس کا مطلب ہے حد سے زیادہ بهوكا پیاسا۔ ان دون مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کوئی لفظ ’’فُعْلَان‘‘ (مبالغہ) کے وزن پر آئے تو یہ کثرت کے معنی دینے لگتا ہے۔ جانور کے ذبح کرنے کے عمل کو قربانی سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کا عمل بندے کو اللہ کے انتہائی قریب...