التخطي إلى المحتوى الرئيسي
 قربانی سے قبل چند چیزوں کی یاددہانی۔

ازقلم ،محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔

قربانی کا لغوی معنی۔

” قربانی ” عربی زبان کا لفظ ہے۔ اصل لفظ ’’ قُربان ‘‘ ہے جو ’’قرب‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’قرب‘‘ کسی چیز کے نزدیک وقریب ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا ضد ’’ بُعد ‘‘ یعنی دوری ہے۔ قرب سے قربانی کا لفظ مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے۔ جیسے’’قراءت‘‘ کے معنی فقط ’’پڑھنا‘‘ ہے اور قرآن کے معنی اس کتاب کے ہیں جسے بار بار اور کثرت سے پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام حمید کا نام اسی وجہ سے قرآن رکھا ہے کہ کثرتِ قراءت کے اعتبار سے دنیا کی کوئی کتاب اس کے برابر نہیں ہے ۔ اسی طرح بھوکے پیاسے کے لئے عربی زبان میں لفظ "جوعان" ’’عطشان‘‘ استعمال ہوتا ہے۔جاع سے جوعان اور’’عطش‘‘ سے عطشان مبالغے کے طور پر واقع ہوا ہے جس کا مطلب ہے حد سے زیادہ بهوكا پیاسا۔ ان دون مثالوں سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کوئی لفظ ’’فُعْلَان‘‘ (مبالغہ) کے وزن پر آئے تو یہ کثرت کے معنی دینے لگتا ہے۔ جانور کے ذبح کرنے کے عمل کو قربانی سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کا عمل بندے کو اللہ کے انتہائی قریب کر دیتا ہے،یعنی قربانی سے قربت الٰہی ورضاۓ الٰہی حاصل ہوتی ہے۔

قربانی کی اصطلاحی تعریف ۔ہر وہ چیز جس کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے۔ اسکی قربت تلاش کی جائے۔ خواہ ہو ذبیحہ ہو یا اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز۔

قربانی کی حکمتیں۔

اللّٰہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا ۔

زندگی کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔

قربانی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ زندگی کی عظیم نعمت پراللہ کا شکر و امتنان بجا لانے کا ایک ذریعہ ہے۔

خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کو زندہ کرنا ۔یہ اس تاریخی واقعے کی یادگار ہے جب اللہ عزوجل نے قربانی کے دن (یومِ نحر) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام کے فدیے کے طور پر ذبح کا حکم دیا تھا۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ مؤمن یاد رکھے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کا صبروثبات ، اور  جان ومال بیوی واہل وعیال کی محبت کے مقابلے میں اللہ کی اطاعت و محبت کو ترجیح دینا ہی قربانی  یا فدیے کی قبولیت اور مصائب وآزمائش کے ٹلنے کا سبب بنا تھا۔ چنانچہ جب مؤمن اس واقعے کو یاد کرتا ہے، تو وہ بھی اللہ کی اطاعت پر صبر کرنےاور استقامت وثبات قدمی کو اپنانے، اور نفس کی خواہش و چاہت کے مقابلے میں اللہ عزوجل کی محبت وطاعت کو مقدم رکھنے میں ان دونوں جلیل القدر ہستیوں کی اقتدا (پیروی) کرتا ہے۔

اپنے نفس، اہل و عیال، پڑوسیوں، مہمانوں اور فقراء کے ساتھ حسنِ سلوک۔  قربانی میں اہل و عیال، رشتہ داروں، پڑوسیوں دوستوں اور فقراء کے لیے وسعت و فراخی ہے، ​اور یہ عمل مسلمانوں کے مابین الفت اور محبت کو بڑھاتا ہے، کدورت ودشمنی کو ختم کرتاہے اور آپس میں مل جل کر محبت و اتحاد سے رہنا شریعتِ اسلامیہ کو مطلوب ہے۔

قربانی میں اپنے نفس اور اہل خانہ کے لیے (کھانے پینے میں) وسعت پیدا کرنے، پڑوسی اور مہمان کی تکریم کرنے، اور فقراء و مساکین پر صدقہ کرنے کا سامان موجود ہے۔ یہ تمام باتیں ان نعمتوں پر خوشی اور مسرت کے اظہار کے مظاہر ہیں جو اللہ نے انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ اور یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تذکرہ (اور شکرانہ) ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: "اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔" [الضحیٰ: 11]

اللہ تعالیٰ کے فرمان کی کامل تصدیق کا اظہار۔

قربانی کا خون بہانے میں اللہ عزوجل کی اس خبر کی عملی اور تاکید کے ساتھ تصدیق ہوتی ہے کہ اس نے مویشیوں کو انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے، اور انہیں ذبح کرنے اور نحر کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ انسان کی خوراک بن سکیں۔

حجة الله البالغة میں شاہ ولی اللہ الدھلوی رحمہ اللہ قربانی کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

والسر فِي الْهدى التَّشَبُّه بِفعل سيدنَا إِبْرَاهِيم عَلَيْهِ السَّلَام فِيمَا قصد من ذبح وَلَده فِي ذَلِك الْمَكَان طَاعَة لرَبه وتوجها إِلَيْهِ، والتذكر لنعمة الله بِهِ وبأبيهم إِسْمَعِيل عَلَيْهِ السَّلَام وَفعل مثل هَذَا الْفِعْل فِي هَذَا الْوَقْت، وَالزَّمَان يُنَبه النَّفس أَي تنبه.

إِنَّمَا وَجب على الْمُتَمَتّع والقارن شكرا لنعمة الله حَيْثُ وضع عَنْهُم إصر الْجَاهِلِيَّة فِي تِلْكَ الْمَسْأَلَة.

یعنی حج کی مناسبت پر ہدی (وہ جانور جو حرم میں ذبح کئے جاتے ہیں ) کی اصل حکمت وراز  یہ ہے کہ اس میں حضرت اِبراہیم خلیل اللّٰہ علیہ السلام کے اس عمل و فعل کی مشابہت اختیار کرنا ہے، جو انھوں نے اپنے رَب کے حکم بجا آورِی اور اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اس (مخصوص) مقام پر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے ارادے سے انجام دیا تھا یعنی اپنے بیٹے حضرت اِسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا چاہا تھا، ؛ نیز اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرنا ہے جو اس نے ان پر(مسلمان پر، اولاد اسماعیل پر)اور ان کے والد حضرت اسماعیل علیہ السلام پر فرمائی تھی۔ اور اس (خاص) وقت اور زمانے میں اس جیسے فعل کو دہرانا، نفس کو ایک زبردست بیداری اور تنبیہ فراہم کرتا ہے۔

​حج تمتع اور قران کرنے والے پر یہ (قربانی) محض اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے واجب کی گئی ہے، کیونکہ اللہ نے اس مسئلے میں ان سے جاہلیت کے بوجھ اور بندشوں کو ختم کر دیا۔

بحوالہ ۔ حجۃ اللہ البالغہ 2/94۔

قربانی کرنے سے قبل تین چیزیں ذہن میں رکھے۔

نیت کی درستگی ۔

قربانی ایک عظیم اور مہتم بالشان عبادت ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے ،ہر شرعی عمل کے قبول کیلئے اخلاص نیت کی شرط ہے تو قربانی کے لئے بھی اخلاص وللہیت بنیادی شرط ہے ، جیسا کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا۔ قربانی کرنا عبادت ہے اور اللہ سے قربت کا وسیلہ ہے یہ عبادت اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس میں اللہ کو راضی کرنے والی چیز نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اسی عبادت کو پسند کرتا ہے جس

میں دوشرطیں پائی جائیں :

اخلاص۔ عبادت گزارا اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص کرے، کسی بھی قسم کے ریاد نمود، عہدہ و شہرت اور

دنیوی کسی چیز کا طلب گار نہ ہو اور نہ ہی مخلوق میں قربت کی چاہ ہو۔

متابعت رسول ﷺ ۔عبادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس کے اندر آدم کے بیٹے کا جو قصہ ذکر کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا ،

۞ وَٱتۡلُ عَلَیۡهِمۡ نَبَأَ ٱبۡنَیۡ ءَادَمَ بِٱلۡحَقِّ إِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانࣰا فَتُقُبِّلَ مِنۡ أَحَدِهِمَا وَلَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ ٱلۡـَٔاخَرِ قَالَ لَأَقۡتُلَنَّكَۖ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِینَ﴾ [المائدة ٢٧]

آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو ان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر قبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی تو کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔گو تو میرے قتل کے لئے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف ہرگز اپنے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، میں تو اللہ تعالیٰ پروردگار عالم سے خوف کھاتا ہوں،

میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے ،اور دوزخیوں میں شامل ہوجائے ظالموں کا یہی بدلہ ہے،

مذکورہ بالا واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو انسان رب کی رضاء کیلئے اخلاص وللہیت و صدق قلب سے جانور کی قربانی دیتا ہے وہ اللہ کے لئے اپنی جان کی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرۓ گا ، جیسا کہ آدم کے بیٹے ہابیل نے اپنی جان کی قربانی دی ، آدم کے بیٹوں کے اس قصے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو مخلص ہونا چاہیے ،اور اپنی اس عبادت میں(قربانی) حقیقی معنوں میں مخلص ہو، علامہ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ نے اس آیت" لن ينال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناله التقوى منكم" كي تفسير وتشريح ميں لکھتے ہیں

یعنی ، قربانی دینے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ جانور ذبح کیا جائے اس لیے کہ اللہ کی ذات سرا پا بے نیاز ہے اس کو جانوروں کا گوشت پوست نہیں پہنچتا، بلکہ اسے تو محض قربانی کرنے والے کا اخلاص ، ثواب کی امید اور نیک نیت پہنچتی ہے مزید فرماتے ہیں کہ اس عمل میں ،قربانی میں اخلاص پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، یعنی قربانی کا واحد مقصد اللہ تعالی کی رضامندی اور خوشنودی ہو اس میں کسی قسم کا فخر و مباہات ، ریاء ونمود نہ ہو اور نہ ہی اس عمل کو عادۃ اوررسمی طور پر کیا جائے یہی حال ساری عبادتوں کا ہونا چاہیے، جن عبادات میں اخلاص اور اللہ کا تقوی ملحوظ خاطر نہ ہو وہ عبادتیں محض چھلکے کے مانند ہیں جس میں کوئی گودا ومغز نہ ہواور اس جسم کے مانند ہیں جسم میں روح نہ ہو

تیسیر الكريم الرحمان في تفسير كلام المنان صفحة نمبر

487 تا 488،

، آیت مذکورہ کی شرح میں علامه شوکانی رحمه الله لكهتے ہیں ۔

یعنی یہ کہ اللہ تعالی کے پاس تو صرف تمہارے دلوں کا تقوی واخلاص اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کی تمہاری چاہت پہنچتی ہے اور اسی چیز کو اللہ تعالی قبول کرتا ہے اور اسی پر اجر وثواب عطا فرماتا ہے،

[ فتح القدير: تفسير سورة الحج : ۳۷]

محترم قارئین : نیت کی درستگی،دل کی صفائی ،طہارت قلب و للہٰیت درحقیقت نفس امّارہ کى بدعنوانیوں، عمل میں در آئے ابلیسی وسوسوں نیز دنیوی اغراض وشوائب اور نفسانی خواہشات ومفادات سے دل کویکسر خالى رکھنے کا نام ہے۔ لیکن یہ بڑی کٹھن، صبر آزما کام ہے۔ بڑى ریاضت اور مجاہَدوں کے بعد ہى یہ بیش بہا دولت ہاتھ آسکتى ہے۔ کسى عمل کو انجام دیتے وقت رضائے الہى کا استحضار اور دل کو ریا ونمود سے خالى اور اخلاص سے لبریز رکھنا یہ محض اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہے ،سفیان ثورى رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ((ما عالجتُ شيئًا أشدّعَليَّ من نيتي؛ أنها تَقَلّبُ علي))- یعنی مجھے اپنی نیت کے سلسلے میں جو مشقت اٹھانی پڑی وہ کسی اور چیز میں نہیں کیونکہ یہ پلٹ جایا کرتی ہے۔ (الجامع لأخلاق الراوی 2/317)

اسى طرح بعض سلف کا کہنا ہے کہ: (تخليصُ النية من فسادها أشدُّ على العاملين من طول الاجتهاد)؛ يعنی نیت کو خراب ہونے سے بچانا عمل کرنے والوں کے لئے عمل کى طویل محنت ومشقت سے زیادہ شاق اور دشوار ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کسى نے پوچھا کہ عمل میں نیت کس طرح ہو؟ تو انہوں فرمایا: (يُعالِجُ نفسَه؛ إذا أراد عملاً، لا يريد به الناس)یعنی بندہ اپنے نفس پر غالب آنے کى کوشش کرے چناچہ جب وہ کسى کام کا ارادہ کرے تو اسے لوگوں کے لئے نہ کرے۔

ہمارے اسلاف ریا ونمائش ،دکھاوا اور واہ واہی لوٹنے سے کوسوں دور رہتے تھے ،نہ انہیں شہرت ،وجھوٹی پبلیسٹی کی خواہش تھی اور نہ وہ کسی کے مدح سرائی کو پسند کرتے تھے بلکہ وہ جو کرتے صرف اور صرف اللہ کے لئے کرتے تھے ،لیکن آج المیہ یہ ہے کہ چھوٹی سی کوئی خدمت بھی ہزاروں لائکس ،شئیرو کمنٹس کے منتظر ہوا کرتی ہے ، سچ کہا کسی شاعر نے ،

بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میں

یہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میں۔

سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ۔ نیت چاہے کتنی اچھی ہو لیکن عمل سنت کے مطابق نہ ہو تو وہ عمل مقبول ومردود ہے ۔ لہذا سنت رسول کے مطابق ہی قربانی کا فریضہ انجام دیجئے۔

درس توحید ۔

قربانی كرنے والے کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ  قربانی کے ذریعے ہمیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ہم ہر طرح کے شرک و کفر  کی گندگیوں سے دوری اختیار کرکے مؤحد ومستسلم  بن جائیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جب قربانی کا جانور ذبح کیا جاتا ہے تو جو دعا پڑھی جاتی ہے اس کے اندر یہ آیت بھی موجود ہے ۔ فرمانِ باری تعالی ہے:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ

الانعام – 162/163

آپ فرما دیجئے کہ یقینا میری نماز اور میری ساری عبادتیں اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمان قربانی بھی کرتے ہیں، قربانی کے جانور کے حلق پر چھری پھیرتے وقت یہ کہتے بھی ہیں کہ میرا جینا مرنا سب کچھ  اللہ کے لئے ہے مگر پھر بھی مگر اولیاء و مشایخ کو داتا ،پیر ومرشد کو خیر وشر سعادت و نحوست کا مالک سمجھتے ہیں ، غیر اللّٰہ سے نفع و نقصان کی امید لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ آج تو مسلمانوں کی اکثریت ایسی ہے جو قربانی کرنا تو جانتی بھی نہیں ہے مگر وہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا ، گیارہویں منانا پورے ذوق وشوق سے کرتی ہے بلکہ یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اگر پیر وولی کے نام سے جانور ذبح نہ کیا جائے تو پھر پورا سال ہمارا برباد ہو جائے گا ، ہم ہلاک و برباد ہو جائیں گے، کسی کام میں خیر وبرکت نہیں ہوگا ۔  جب کہ قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جانور ذبح کرو تو صرف اور صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اور اگر کسی نے غیروں کی رضا و خوشنودی چاہی تو پھر وہ ملعون و مغضوبِ الہی ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے :

لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ

مسلم – 1978

کہ جس کسی نے بھی غیراللہ کے نام سے جانور ذبح کی اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

محترم قارئین ۔  حسن ظن تو یہی ہے کہ آج بہت سارے

مسلمان عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی تو اللہ ہی  کے لیے کرتے ہیں لیکن شعوری وغیر شعوری طور پر شرک اصغر کے مرتکب ہو جاتے ہیں جن سے بچنا ہر مسلمان مومن کے لیے بہت ضروری ہے، ذیل میں کچھ ایسے امور پیش کیے جارہے ہیں جو قربانی میں اخلاص کے منافی ہیں جن سے گریز کرنا لازمی ہے ۔ رشتہ دار اور پڑوسیوں کی دیکھا دیکھی رسم ورواج کی طرح قربانی کرنا ، اولاد کی خوشی پوری کرنے کے لیے جانور خریدنا، جانور خریدنے کے بعد نمائش کے لیے گلی کوچوں میں لیے گھومنا، جانور کی تصاویر اور سیلفی لے کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا، اپنے قیمتی جانور کو لے کر دوست و احباب اور دیگر رشتہ داروں پر فخر و مباہات کرنا ، محض شہرت و ناموری کے لیے مہنگا جانور خریدنا ، اسی طرح قربانی کے جانوروں کے ساتھ بدعات وخرافات کرنا انہیں پھولوں کا ہار پہنانا ، ذبح سے پہلے جانور کو نہلانا ذبح کے بعد پورے گوشت پر سورہ فاتحہ ودرود پڑھنا وغیرہ وغیرہ ۔

قربانی کے جانور کے ذبح کےشرائط،

1 ۔ ذبح کرنےوالا عاقل ممیّزہو، لہذا مجنون ،پاگل، نشےکی حالت میں اورایسابچہ جوحالت تمییزکونہ پہونچا ہو(تميزکامطلب یہ ہے کہ جو قرآنی خطاب واحکام کو سمجھتا ہوں اور پوچھنے پر درست جواب دیتا ہو) کا ذبح کیاہوا جائز نہیں ہے۔

2 ۔ ذبح کرنےوالامسلمان (مرد، عورت، عادل، فاسق،طاہر، غیرطاہر سب کو شامل ہے)یا کتابی (یہودونصاری میں سے)ہو۔

3 – ذبح کی نیّت ہو۔

4 ۔ ذبح غیراللہ کےلیےنہ ہو،مثلا صنم ووثن کیلئے یا کسی مزار پہ ذبح کرۓ پیر کیلئے یا کسی رئیس ووزیر وبادشاہ کے نام پر ذبح کرۓ اگرچہ کہ بسم اللہ پڑھ کر ہی ذبح کیا گیا ہو ، حرام ہے، کیونکہ غیراللہ کےنام پرذبح کیاگیاجانور قطعًاحرام ہے۔

5 ۔ ذبح کےوقت غیراللہ کانام نہ لیاگیاہو، جیسے:باسم النبی یا باسم جبریل وباسم الحزب الفلانی ۔۔۔ وغیرہ۔

6 ۔ ذبح اللہ کےنام سےکیاگیاہو یعنی بسم اللہ کہ کرکیاگیاہو۔

7۔ جب جانور کو مذبح کی جانب لے جائے تو آرام سے لے جائے اور جانور کو کھینچ کر ، مار پیٹ کر کے نہ لے جائے ۔ جانوروں کے ساتھ احسان کا یہ لازمی تقاضہ ہے۔

8۔ ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کیا جائے ، تا کہ جانور نفسیاتی طور پر متاثر نہ ہوں۔

9۔ کسی دھاردارآلہ سےذبح کیاگیاہو(ہڈی، ناخن اوردانت ،پتھر ،لکڑی شیشہ وغیرہ سے سےذبح کرناجائزنہیں ہے،ارافع بن خدیج رضی للہ عنہ کی حدیث ہے کہ ،رسول صلی اللہ علیہ وسلمنےارشادفرمایا:"

ما أنْهَرَ الدَّمَ وذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عليه، فَكُلْ، ليسَ السِّنَّ والظُّفُرَ، وسَأُخْبِرُكُمْ عنْه: أمّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وأَمّا الظُّفُرُ فَمُدى الحَبَشَةِ.

(رواه البخاري 5498)

" جودھاردارآلہ خون بہادےاوراسے بسم اللہ کرکےذبح کیا گیاہوتواسےکھاؤ، ہاں اگرناخن اوردانت سےذبح کیاگیا ہےتومت کھاؤ کیونکہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے اوردانت ہڈی ہے "

10۔ ذبح کرنے پراس کاخون بہاہو,

(يعني إنهار الدم وإجراؤه)

11۔ ذبح کرنے والےکوذبح کرنےکاشرعی اختیارحاصل ہو، (أن يكون المذكي مأذونا في ذكاته شرعا )جن جانورں میں انسان کوشرعی اختیارحاصل نہیں وہ دوطرح کےہیں:

پہلا:جوجانوراللہ کاحق ہو،جیسے:حرم کاشکاریا حالت احرام میں(حدود حرم ) شکارکیا گیا،

دوسرا:جومخلوق کاحق ہو، يعني ذبح كرنے والے اس کا اصلی مالک نہ ہو ، جیسے:غصب کیاہوایا چوری کیاہواوغیرہ۔

بحوالة ،أحكام الأضحية والذكاة للشيخ ابن عثيمين ، صفحہ نمبر 259 تا 2720

ذبح کےآداب،

1 ذبیحہ پر احسان کرنا ،یعنی ذبح سےپہلےچھری کواچھی طرح سےتیزکرلیناچاہئےتاکہ جانورکوذبح کرنے میں کسی پریشانی کاسامنانہ کرناپڑےاورجانورکوبھی آرام ملے، شداد ابن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"إن اللّٰه كتب الإحسان على كل شئي،فإذاقتلتم فأحسنوا القتلة, وإذاذبحتم فأحسنواالذبحة,وليحدأحدكم شفرته وليرح ذبيحته"

(رواہ مسلم:الصید والذبائح /11(5/1955))

" اللہ تعالی نےہرچیزپراحسان کوواجب کررکھاہے، لہذاجب تم کسی کو قتل کروتواچھی طرح سے قتل کرواورذبح کروتواچھی طرح سےذبح کرو تم کو اپنی چاقو تیز کر لینی چاہئے اور ذبیحہ کوآرام پہونچاناچاہئے "

شيخ الإسلام علامه ابن تيميه رحمه الله نے فرمایا کہ " في هذا الحديث أن الإحسان واجب على كل حال حتي في إزهاق النفوس ناطقيها وبهيمها ،فعليه أن يحسن القتلة لآدميين والذبحة للبهائم ،

أحكام الأضحية والذكاة 2/283،

2– جس چاقو سے جانور کو ذبح کرنا ہو اسے اس کے سامنے تیز نہ کیاجائے، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک بکری کو پچھاڑنے کے بعد اپنی چھری تیزکرنےلگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:" أتريد أن تميتها موتات ؟ هلا أحددت شفرتك قبل أن تضجعها ؟ "(المصنف(4/393)المستدرک(4/257)سنن البیہقی (9/280)شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے دیکھیے:السلسلۃ الصحیحۃ (1/32)

" تم اس کو کئی موتیں دیناچاہتےہو، اپنی چھری کواسےلٹانےسےپہلےکیوں نہیں تیزکرلیا ؟ "

3 ۔ جانورکوذبج کرنےکی جگہ پرآرام سےلےجایاجائے۔امام أحمد رحمه الله نے فرمایا " تقاد إلى الذبح قودا رفيقا ،وتوارى السكين عنها ، ولا يظهر السكين إلا عند الذبح ،

أحكام الأضحية والذكاة 2/285،

4 ۔ جانورکو بائیں پہلو پر قبلہ رخ کرکے لٹاناچاہئے۔

5 ۔ اونٹ کے بائیں ٹخنے کوباندھ کراسےتیں پیروں پرکھڑاکرکےنحرکرنا سنّت ہے۔

6 - اپنادایاں پاؤں جانورکےدائیں مونڈھےپررکھ کربائیں ہاتھ سےاس کامنہ پکڑلےاورپھردائیں ہاتھ سےذبح کرے۔

7 ۔ اپنےہاتھ سےذبح کرے۔

قربانی کی چند بدعات ورسوم، وغیرمشروع اعمال ،

قربانی کےتعلق سےعوام الناس میں بہت ساری غلط رسمیں اوربدعات رائج ہیں، جوہماری عبادتوں کوناقابل قبول اورمردود بنادیتی ہیں، اورنہ صرف یہ کہ یہ عبادتیں غلط ہوجاتی ہیں بلکہ الٹاسبب گناہ بن جاتی ہیں، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهورد "(رواہ البخاری بخاري:البيوع /60(4/448) )

"جوکوئی ہمارےاس دین میں کوئی نئی چیزنکالےجواس میں سےنہ ہو تووہ مردودہے" اورفرمايا:" من أحدث في أمرناهذا ماليس منه فهورد"(رواہ البخاری :الصلح /6 (5/370)ومسلم:الأقضية /8(1718/17))

"جوکوئی ایساعمل کرےجوہمارےدین سےبیگانہ عمل ہوتووہ قبول نہ ہوگا" اورفرمايا:" إياكم ومحدثات الأمورفإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار "(ابو داؤد:السنة /6 رقم (4607)والترمذي:العلم /16 (2678)وابن ماجة:المقدمة /6(42)شیخ البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے:صحیح سنن الترمذی (2157))

" (دین میں)نئی چیزایجادکرنے سےبچو کیوں کہ (دین میں) ہرایجادکی گئی نئی چیزبدعت ہےاورہربدعت گمراہی ہےاورہرگمراہی جہنم میں لے جانےوالی ہے"

ذیل میں ہم قربانی کےتعلق سےرائج چندبدعات کاتذکرہ کرتےہیں تاکہ ہم ان سےواقف ہوکراوران سےبچ کراپنےایمان و عمل کودرست کرلیں اللہ تعالی ہمیں خالص سنت کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائےآمین،

1 – جانوروں کی نمائش:آج کل جانوروں کی نمائش، ایک دوسرے سے مقابلہ، جانوروں کومہندی لگانااورانہیں سجاناسنوارنامسلم معاشرہ میں ایک عام بات ہوچکی ہے جوکہ اخلاص وللہیت اورمقصد قربانی کے یکسرمنافی ہے، موٹے، تروتازہ اورتندرست جانورکاانتخاب ایک مستحب عمل ہے لیکن ان کی نمائش وتزئین کتاب وسنت اورآثارصحابہ سےثابت نہیں، بلکہ دیکھاجائےتویہ چیزخاص طورسےبرصغیرمیں ہندورسم ورواج سےمتأثر عمل ہےجوکہ وہ جانوروں کی بلی کےوقت کرتےہیں(نعوذباللّٰه من ذلک )

2 ۔ ذبح کےوقت جانورکےپیٹھ وسرکوتیل لگانا اور چھونا،

۔3 – ذبح سے پہلے جانورکووضوء کرانا

۔4 ۔ ذبح سےپہلےجانورکوغسل دینا۔

5۔ ذبح سےپہلےجانورکوکچھ کھلانا،پلانا ،

6 - نبی أكرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےقربانی کرنا جس کاکتاب وسنت سے کوئی ثبوت نہیں ہے، اگراس کاکوئی ثبوت ہوتاتودرودوسلام کے فضائل کی طرح اس کابھی بیان نصوصِ قرآن وسنت میں ضرورہوتا۔

7۔ قربانی سےپہلےجانورکوکسی قبریامزارکاطواف کرانا، یہ سب سے بدترین بدعتوں میں سےایک ہے،

8۔ قربانی کی جگہ کی خوب تزئین اور اسے قابل تبرّک سمجھنا۔

9۔ بعض لوگ میت کےپہلےسال میں جس میں وہ مراہےاس کی طرف سےقربانی اس اعتقادکےساتھ کرتےہیں کہ اس کےثواب میں کسی کی شرکت جائز نہیں ہے، ایسی قربانی کویہ لوگ (أضحية الحفرة)کانام دیتےہیں۔

10 ۔ عید کی رات میں اور ذبح سے کچھ دیر قبل اس کے سرسےلیکردم تک چھونا۔

11۔ اس کاخون گھر کے دروازے اور سواریوں پر لگانا۔

12 – اس کاخون چھوٹےبچوں کی پیشانی پرلگانا۔

13 ۔ قربانی کرتے وقت درودپڑھنا، کیوں کہ اس کاثبوت نہیں ہے اور تعبدللہ کےاندربغیرثبوت کےعمل بدعت ہے۔

14۔ کسی قبریا مزار کے پاس ذبح کرنا، یہ شرک اکبرکےدرجہ میں آتاہے اگر ایسا کوئی ذبیحہ ہے تو اس کاکھانا قطعًا حرام ہے، اسی طرح قبر یا مزار پر رکھی ہوئی کسی بھی چیزکا استعمال حرام ہے،

۔15 ۔قربانی کا جانور کسی امام یا بزرگ یا مولوی صاحب سے ذبح کروانا ، اور اگر وہ معذرت کرۓ یا کسی وجہ سے نہ آۓ تو چھری میں ان سے دعاء پڑھکر پھونک دلوانا ،

16۔ ذبح کرنےوالےمولوی کوضروری یا اس کاحق سمجھ کرقربانی کے جانور کاسر اور پیر یا ان کی قیمت دینا(البتہ اگراس کو قربانی کامشروع و مسنون ہدیہ یاصدقہ کے بطور بلا کسی عضو کی تخصیص کے دیاجائے تویہ مستحب ومسنون ہے )،

17۔ قربانی کے جانور کے ذبح وغیرہ کی قیمت قربانی کے گوشت سے دینا ،یعنی قصائی کو اجرت قربانی کے گوشت سے دینا ،

18۔ قربانی کے جانور کے ذبح کے بعد فضلات کو نہ ہٹانا اور گندگیوں کوصحیح سے صاف نہ کرنا ،

19۔ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے اور اس کے گوشت وغیرہ کو کھانے و پکانے ،کباب وقیمہ بنانے کے چکر میں فرائض کا ترک کردینا ، یا اس میں اس طرح مشغول ہوجانا کہ نماز مسبوق ہوجائے ،وغیرہ وغیرہ

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بصیرت و بصارت کے ساتھ عبادت وبندگی کی توفیق دے اور قربانی کے احکام ومسائل کی معرفت عطا فرمائے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دۓ آمین ۔

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...