التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 آئی لو محمد حقیقت یا فسانہ ۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔

محترم قارئین ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا جزء لاینفک ہے ، ہمارا ایمان مکمل ہی نہیں ہوگا جب تک کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اٹوٹ وبےلوث محبت نہ کرے ۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت نہ رکھے

اپنی جان ومال اپنے اعزہ واقارب اپنے باپ بیٹے اپنی اولاد اپنے بھائی اپنی بیوی اپنے مال اپنے تجارت اپنی پراپرٹی اور دنیا جہان سارے کے مقابلے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم زیادہ محبت نہ رکھیں ۔

اور ان محبتوں کو جو کہ فطری محبت ہے اور مذموم بھی نہیں ، تاہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اوپر غالب نہیں کر سکتے اور جو کریں گے ان کا ایمان خطرے میں ہوگا ۔ اللہ تعالی نے قرآن میں کہا: " النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ" (احزاب: 6) یہ جو نبی ہیں وہ ان مومنوں کی جانوں سے زیادہ حقدار ہیں ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بیٹے (اور بیٹیوں )،اپنے باپ (اور ماں ) اور سارے لوگوں سے بڑھ کر میرے ساتھ محبت نہ کرے ۔ ( رواہ مسلم ،کتاب الایمان باب وجوب محبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنه کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے میری ذات کے علاوہ باقی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ( تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے ) جب تک میرے ساتھ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہ کرو۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ۔  اللہ کی قسم ! اب تو آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر ! اب تم پورے وكامل

مومن ہو ۔( اسے بخاری نے کتاب الایمان والنذور میں روایت کیا ہے)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا سچا مومن ہوتا ہے جیساکہ صحیح مسلم میں ہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان کا مزا اس آدمی نے چکھا جو اللّٰہ کے رب ہونے پر راضی ہوا ،اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا ۔ (صحیح مسلم ،کتاب الایمان )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی لازم پکڑے ،سیرت طیبہ کو زندگی میں اتارۓ ، محبتِ رسول صرف زبانی جمع

خرچ کرنے کا نام نہیں ہے کہ  

عاشق رسول ، محبان رسول ، آئی لو محمد ، وی لو محمد کا بینر چسپاں کردۓ ،یارسول سلام علیک کا نعرہ لگاۓ اور احتجاج ومظاہرہ کرکے خود اپنے نفس و قوم کو بڑی بڑی مصیبتوں میں پھنسا دے ۔

سچی محبت تو یہ ہے کہ عملی طور پر محبت کا اظہار کرۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت پر عمل کرۓ تعلیمات رسول واخلاق رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی مظاہرہ کرے ، بلکہ رسول سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا  وہی ہوگا جو پیارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے  زیادہ اتباع کرنے والا ہوگا، آپ کی سیرت کو اختیار کرنے والا ہوگا ، آپ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے والا ہوگا ، آپ کی سنت کے اوپر سختی سے

چلنے والا ہوگا،احادیث رسول آجاۓ تو کسی امتی کے  فتویٰ کی کچھ حیثیت نہیں، احادیث رسول آجاے تو ہم اسے تسلیم کرے مسلک و امام نہ دیکھے ،رسول کی بات مفادات سے متصادم ہوجاۓ تو رسول کی بات کو مقدم کردے یہ ہے سچی وحقیقی محبت اور یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت کی حقیقی تصویر ورنہ دعویٰ محبت چیستاں یا افسانہ ہے۔  

عشق کا دعویٰ زبانی کرکے تھا میں مطمئن

درس عبرت دے گیا جل جل کے پروانہ مجھے۔

اور عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔

تَعصي الإِلَهَ وَأَنتَ تُظهِرُ حُبَّهُ

هَذا مَحالٌ في القِياسِ بَديعُ

لَو كانَ حُبُّكَ صادِقاً لَأَطَعتَهُ

إِنَّ المُحِبَّ لِمَن يُحِبُّ مُطيعُ

اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اُس کی محبت کوظاہر کرنا

یہ  عجیب غریب قیاس ہے۔اگر آپ کی محبت سچی ہوتی تو آپ اس کی ضرور اطاعت کرتے  

کیونکہ جو محبت کرتا ہے، وہ اپنے محبوب کا مطیع ہوتا ہے۔

لہذا اصول یہ ہے کہ جس کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے نمونے جتنے زیادہ پائے جائیں وہ شخص اتنی ہی زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے۔ [قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ  فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهَ ] ( آل عمران (31) کہہ دیجیے کہ اگر اللہ سے تم بہت زیادہ محبت کرتے ہو تو تم میری اتباع کرو۔“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو اور رسول تمہیں جو دیں اسے تم لے  لو اور جس سے روکیں اس سے تم رک جاؤ ، ادنیٰ سے ادنی، حقیر سے حقیر ،چھوٹی سی چھوٹی شی میں بھی سنت کے مطابق عمل کرنا، شریعت کی تعلیم کے  مطابق عمل کرنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی سی چھوٹی سنت کو اپنانا ، بسم اللہ کرکے کھانا، سامنے سے کھانا ،گرے ہوے لقمہ کو اٹھا لینا ،  کہیں داخل ہونا ہے بسم اللہ کرکے داخل ہونا ۔  گھر میں داخل ہونا ہے تو اس کی دعا پڑھنی ہے، یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم کی تعمیل ہے ۔ اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی علامت ونشانی ہے ۔

حقیقی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض نمونے ۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ کے

حوالے سے روایت کیا ہے، کہ

بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا

گھریلو گدھے کھائے گئے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر وہ شخص دوسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کیا

گھریلو گدھے کھائے گئے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ وہ شخص تیسری دفعہ پھر حاضر ہوا اور عرض کیا

گھریلو گدھوں کو ختم کر دیا گیا۔

تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کرنے والے کو حکم دیا، تو اس نے لوگوں میں

یہ اعلان کیا۔

إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهِيَائِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّة ۔  بے شک اللہ تعالی اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گھریلو

گدھوں (کے کھانے) سے روکتے ہیں ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اسی وقت ہانڈیوں کو ابلتے اور جوش مارتے ہوئے گوشت سمیت زمین پر انڈیل دیا گیا ۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی ،باب غزوۃ خیبر )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ شروع زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے سونے کی انگوٹھی بنائی تھی اور سونے کی انگوٹھی پہنی ،کچھ دنوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور اس کے بعد اس سونے کی انگوٹھی کو اپنے ہاتھ سے نکالا اور لوگوں سے کہا کہ سنو لوگو! میں یہ سونے کی انگوٹھی پہنا کرتا تھا، سونا مردوں کے لیے حرام ، اب آج کے بعد سے میں یہ سونے کی انگوٹھی کبھی بھی نہیں پہنوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکالا پھر اسے پھینک دیا۔ جو لوگ بھی اس مجلس کے اندر سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے سب لوگوں نے بلا تأمل فورا ہی اپنے اپنے ہاتھوں سے سونے کی انگوٹھی کو نکالا اور پھینک دیا ۔ ( صحیح بخاری7298)

شراب پینا شروع زمانے میں اسلام کے اندر حلال تھا، بلکہ مکہ کے اندر تو پیتے ہی تھے لوگ ۔ مدینے کے اندر بھی کچھ دنوں تک یہ شراب پینا حلال تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت نازل فرمائی

تو کیا ہوا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ، ابو عبیدہ بن جراح، اور ابی ابن کعب کی مجلس ابو طلحہ کے گھر میں جمی ہوئی تھی اور میں شراب کی جام ڈال ڈال کرکے ان حضرات کو پلا رہاتھا کہ اچانک ایک آواز دینے والے نے آواز دی [ أَلا إِنَّ الخَمْرَ قَد حرمت ] ( صحیح مسلم : 1980) ، سنو ،شراب حرام ہوگئ ہے ۔ تو انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فورا اسی وقت ابوطلحہ نے کہا : اے انس! اٹھو اور یہ شراب کا جام جو رکھا ہوا ہے اسے بہادو، شراب کے جتنے جام رکھے ہوئے تھے جتنی  بوتلیں رکھی ہوئی تھیں، میں نے انہیں بہا دیا اور جتنے مٹکے تھے سبھی کو توڑ دیا ۔ حدیث کا لفظ ہے کہ مدینے کی گلیوں کے اندر شراب بہہ پڑی، گویا شراب کا ایک طرح سے سیلاب آگیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے تقاضے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل طور سے ایمان لاۓ اور  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حددرجہ محبت کرے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے اور آپ کی  سنتوں کو لازم پکڑے اور بدعات ومحدثات سے کوسوں دور رہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی نصرت کرے ۔

اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا فایدہ ۔

ایمانی لذت ومٹھاس کا احساس ۔

مُحبّ کا آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامتیں ۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار اورصحبت کی شدید تمنا ۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جان اور مال نچھاور کرنے کے لئے ہمہ وقت کامل استعداد ۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب ۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حمایت و تائید اور آپ پر نازل کردہ شریعت کا دفاع ۔

موجودہ حالات میں ہمیں کرنا کیا چاہئیے ؟

اصل کام یہ ہے کہ  ان اشتعال انگیز بیانات و کاروائیوں کے جواب میں صبر وتحمل اور عفو ودرگذر سے کام لیا جائے  اور پر امن طریقے سے ماہر قانون وکیلوں اور نیک وماہر سیاسی کھلاڑیوں سے راۓ مشورہ کرکے ارباب قوم وملت کوئی قانونی طریقے سے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایں ۔

سڑکوں چوراہوں پر ہجوم کرکے ،چکا جام کرکے اور آمد و رفت کو روک کرکے ایک عجیب غریب جنونی کیفیت پیدا کرنے سے دور رہا جائے ، مصلحت اور مفسدت کا موازنہ کیا جاے۔

طیش و اشتعال میں آنے اور تصادم کی راہ اختیار کرنے سے بچا جائے اور اپی تمام تر توجہ غیرمسلموں میں محاسن اسلام ومحاسن رسول وسیرت رسول کی نشر واشاعت پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ موجودہ حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نشر واشاعت دعوت وتبلیغ کے مہم کو مقامی سطح سے لیکر عالمی سطح تک  مزید منظم اور تیز کیا جائے دینی جماعتیں اس کار خیر کی بجا آوری کے لئے طویل مدت کی منصوبہ بندی کریں اہل خیر دل کھول کر اس مہم کو کمک پہنچایں ۔ علماء ودعاۃ اس مقدس فریضہ کی انجام دہی میں اپنا کردار ادا کریں مساجد، مدارس اسلامی مراکز سے اپنے تعلق کو مستحکم کریں ملی مفاد کے لئے ذاتی رنجشوں و چپقلشوں کو کچل دے ۔مفادات ذات کو امت کیلئے قربان کر دے اور اپنے حصے کی شمع ضرور جلاے،  اسی طرح اہل ثروت متوجہ ہوں ۔ اور نشر واشاعت کے کام میں جمعیت وجماعت کا تعاون کرے ۔تاکہ مختلف زبانوں میں چھوٹی بڑی کتابیں ورسائل لکھ کر غیر مسلموں اور نفرت کی آگ جلانے والوں اور فرقہ پرستوں تک مفت پہنچایا جائے ،سوشل میڈیا میں سیرت رسول وتعلیمات رسول واخلاق رسول پرمتعدد عالمی زبانوں و مقامی زبانوں میں آڈیو ویڈیوز اور تحریروں کی شکل میں وائرل کیا جاے۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا، یوٹیوب، واٹساپ فیسبک وغیرہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے سیرت رسول اخلاق رسول و شمائل رسول کو پھیلایا جاۓ،اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو عام کیا جاۓ۔ نوجوان نسل بالخصوص ایگو کو ذرا کنٹرول کرۓ،جذبات کے سیلاب میں نہ بہے ،بلکہ سنجیدگی ومتانت کے ساتھ مصلحت ومفسدت کا موازنہ کرتے ہوۓ ہی کوئی قدم اٹھاۓ ، سامنے والے کو نفرت پھیلانے کا موقع بالکل ہی نہ دے اور علماء حق کی سرپرستی میں رہے۔

اسی طرح اخلاق وکردار کے ذریعے ،تعاملات وسلوک کے ذریعے خدمت خلق و رفاہی کاموں کے ذریعے غیر مسلموں کا دل جیتا جاے ،  ،غریبوں مسکینوں فقیروں کے لئے مفت دوا وعلاج و تعلیم فراہم کیا جائے ۔

ہمارا یہ ماننا ہے کہ ان فرقہ پرست اور ھندو مسلم کرنے والوں کیلئے یہ بہت اچھا جواب ہے کہ ہم انہیں حسن اخلاق وکردار اور تعلیمات رسول کا عملی نمونہ بنکر ثابت کردے کہ یہ ہے ہمارے رسول کی تعلیم

یہ ہے ہمارے رسول کا اخلاق ہم ان کفار ومشرکین کی عیادت کرنے جاے وہ اگر مصیبت میں ہوں تو ہم ان کا مالی تعاون کرے ممکن ہے نفرت کم ہو ، فرقہ پرستی کی آگ گل ہوجاے اور امن و شانتی کی فضاء قائم ہو جائے ۔

بعید نہیں کہ مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاق وسیرت وکردار سے متأثر ہوکر اور دعوت وارشاد کے نتیجہ میں اللہ سبحانہ وتعالی آج کے شر سے ہمارے لئے بھی اسی طرح خیر پیدا فرمادیں جس طرح تاتار کے شر سے خیر پیدا فرما دیا تھا ۔ یاد رہے 617ھ میں چنگیز خان نے ممالک اسلامیہ پر حملے شروع کئے اور مسلسل سات سال تک لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمانوں کا خون بہایا اس کے بعد اس کے پوتے ہلاکو خان (651ھ) نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا۔ اتنے وسیع قتل عام کے بعد کسی کو توقع نہ تھی کہ مسلمان دوبارہ کبھی سر اٹھانے کے قابل ہوں گے لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قدرت کاملہ ملاحظہ ہو کہ بعض مخلص علماء حق کی مسلسل شبانہ روز جد و جہد اور محنت سے ہلاکو خان کا پوتا نکودارا خان ( بن اباقاخان بن ہلاکو خان،  680ھ) مسلمان ہوا اور تخت نشین ہو کر اپنا نام احمد خان رکھا۔ سلطان احمد خان نے اپنی مملکت میں کافرانہ رسم و رواج ختم کر کے اسلامی آئین نافذ کیا۔ سلطان احمد خان کی دعوت پر بہت سے دوسرے مغل سردار بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ خراسان میں ہلاکو خان کا پوتا غازان خان ( بن ارغون خان بن اباقاخان بن ہلاکو خان ، 696ھ) نے شیخ صدرالدین حموی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور اپنا نام محمود خان رکھا محمود خان نے اسلام قبول کرنے کے بعد اشاعت اسلام کے لئے بہت جدو جہد کیا اور یوں فتنہ تاتار نہ صرف ختم ہوا بلکہ ایک بہت بڑے شر سے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی خیر پیدا فرمادی ۔ بقول علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ ۔

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ۔ 

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...