التخطي إلى المحتوى الرئيسي

المشاركات

عرض المشاركات من مارس, 2025

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...

علا كا سفر

 محمد محب الله المحمدي كا سفر علاء مدائن صالح ،وجبل الفيل ..  ۔ سفر عُلا کے کچھ خواطر ۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی  سیر و سیاحت ،جولان جہاں ، زیارت ہفت اقلیم سے دلوں میں نشاط ،بجھے قلب، وحزیں دل میں حرکت ، غم وہم حزن وملال کے فضاء میں ارتعاش اور کارخانۂ حیات میں ایک خوشگوار تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے ۔ اگر دل بجھ گیا ہوں ،مشاکل زیست اور متاعب حیاۃ سے دل مکدر ہوگیا ہوں تو لطف انجمن ،سیم وزر نعمت کشور کشائی سب پھیکا،تیکھا ،وبے مزہ لگتا ہے ۔ ع ۔  دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب  کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو ۔  انسانی زندگی کی عزیز متاع خود اس کی دلی زندگی ہے ۔ دنیا جہاں کی ساری دلچسپیاں ، ساری رونقیں اور ساری نیرنگیاں اسی وقت تک ہیں جب تک خود اس کے قلب و جگر میں شادابی کی کوئی امنگ اور زندگی کی کوئی رمق باقی ہو ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ تم باغ میں جاتے ہو سبزہ کو دیکھتے ہو ، لہلہاتے کھیت اور جھومتے درختوں کا نظارہ کرتے ہو ، ٹھنڈی اور خوشگوار ہواؤں سے لطف اندوز ہوتے ہو ، ننھی کلیوں اور بہاروں بھرے گلوں سے اپنی مشام جان معطر کرتے...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...
 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته  المحن في طياتها المنح  فكم من أناس يعانون مرارة العيش ونكد الحياة،وكم من نفر يقاسون شدة البلاء وحدة المصيبة ،وكم من صالحيين تكدرت أنفسهم ومهجهم من المخالفة والتحديات التي يلاقون في سبيل الصلاح والخير والبر ، وكم من علماء أجلاء محترقين في سبيل الدعوة والمضطهدين لأجلها ،ولكن المتحمس المتحري. والمتيقن المستسلم والراضي بقضاء الله وقدره والناظر الفاحص إلى أمور الآخرة لا يبالون من الهمجيين والرعاع الناعقين النابحيين كالكلاب ،ولا يرون من يريد النيل منهم،ومن يحاول إسقاطهم ،فإنه يعتقد اعتقادا لا يخالطه شك ،أن المعز والمذل الله هو الله القاهر فوق عباده ،،هو العزيز فلا يرام جنابه ، فلا يلتفت أبدا مين يتبجح ، مين يترفع ويتعالى ،ومن يتعالى على أكتاف العلماء فيندق يوما ما ،هذه تجربة شاهدة عادلة ناطقة . نعم يتورط العلماء في المشاكل ،تعتريه المحن ،،ولكن أهل الحق يعلوون ويفوزون وإن طالت مدة المحن ،  فأثبت في سبيلك أيها الداعية ،استقم أمرك ،ولا تروغوا روغان الثعالب ،المحن تخرج لك الخيرالكثير ما أنت تحسب ،ف الله الله . أبشر ولا تبتئس ولا تقنط من رحمة ا...

رمضان تلاوت قرآن كا مهينه ہے

  رمضان المبارک تلاوت قرآن  کا مہینہ ہے ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی۔ الحمدللہ رب العالمین! ہماری خوش قسمتی ہے کہ ماہ رمضان المبارک آرہا ہے ،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کی توفیق پائیں گے ۔  علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’جی ہاں! یہ مہینہ ایک بار پھر آگیا تاکہ ہمارے پاس احساس وشعور کی کوئی رمق باقی رہ گئی ہو تو ہم اپنی سال بھر کی بے حسی، لاشعوری اور خودفریبی پر اشک ندامت کے قطرے بہائیں ،ہمارے پاس محاسبۂ نفس کی صلاحیت کاکوئی ذرہ باقی رہ گیا ہو تو ہم اپنی کج روی، غلط کاری اور شر نوازی کو توبہ وانابت سے دھلنے کی کوشش کریں۔ ہمارے پاس خیر وشر کاکوئی امتیاز باقی رہ گیا ہو تو داعیٔ خیر کی ندائے غیبی پر لبیک وسعدیک کہتے ہوئے پیش رفت کریں، ہمارے اندر انسانیت کاکوئی گوشہ باقی رہ گیا ہو تو دنیا پرستی سے نکال کر اخوت وہمدردی اور جود و سخا کادروازہ کھولیں ۔ ہمارے اندر عبدیت کا کوئی حصہ باقی رہ گیا ہے تو عصیاں وطغیاں اور بغاوت وسرکشی کی راہ چھوڑکر اطاعت وعبادت کے ذریعہ اسے مکمل کریں۔ اور ہمارے اندر اپنے ا...