التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 المحن في طياتها المنح

بقلم: محمد محب الله بن محمد سيف الدين المحمدي

وإذا ابتليتَ بمحنةٍ لا تبتئسْ ... فلعلَّ تلك النونُ تسبقُ حاءَها

​الدنيا دارُ الأكدارِ والمنغصات، موطنُ الابتلاءِ وتغيّرِ الأحوال، فالمؤمن الحقُّ هو من يستقبلُ أقدار الله بصدرٍ منشرح، وصبرٍ جميل، طمعاً فيما وعد الله به الصابرين من حسن الجزاء ورفعة الدرجات.

​وكيف لا يصبرُ المؤمن وهو يسمعُ بشارة النبي ﷺ حين قال: "إنَّ العبدَ إذا سبقت له من اللهِ عز وجل منزلةٌ لم يبلُغْها بعمله، ابتلاه الله في جسده، أو في ماله، أو في ولده، ثم صبَّره على ذلك حتى يبلُغَه منزلتَه التي سبقت له من الله تعالى" .( رواه أبو داود 3090. )

​وصدق الشاعر حين جادت قريحته بوصف هذا اللطف الخفي!

كم نعمةٍ مطويةٍ لكَ ... بين أنيابِ النوائب

ومسرّةٍ قد أقبلت ... من حيثُ ترتقبُ المصائب

حكمةُ البلاء ولطفُ القضاء

​إن الله سبحانه وتعالى عليمٌ حكيم، لا يقضي قضاءً إلا وفيه تمامُ العلمِ وكمال الحكمة وسعة الرحمة، فكم في طيِّ البلايا من عطايا، وكم في رَحِم المحنِ من مِنح!

​إننا نرى في واقعنا أُناساً يتجرعون مرارة العيش، ونفراً يقاسون شدة البلاء، وصالحين تكدرتْ نفوسهم بما يلاقونه في سبيل البر والصلاح من تحديات، ونبصرُ علماءَ أجلاءَ قد احترقت شموعُ أعمارهم في سبيل الدعوة، فتعرضوا للاضطهاد والنيل من كرامتهم.

​ولكنَّ الداعيةَ المتيقن، والراضيَ المستسلمَ لقضاء الله وقدره، والناظرَ بعين البصيرة إلى مآلات الآخرة، لا يبالي بنعيق الرعاع ولا بظلمِ الهمجيين الذين ينبحون خلف قافلة المجد، فهو يعتقدُ اعتقاداً لا يخالطه شكٌ أن المعزَّ والمذلَّ هو الله، القاهر فوق عباده، العزيز الذي لا يُرامُ جنابُه.

​لذا، تجده لا يلتفتُ إلى متبجحٍ متغطرس، ولا إلى من يحاول التعالي على أكتاف العلماء؛ فالتاريخُ مدرسةٌ عادلة ناطقة، تخبرنا أنَّ من تطاول على أهل العلم انكسرت هامتُه وانذلَّ شأنه.

رسالةٌ إلى القابضين على الجمر

​نعم، قد يتورط العلماء في المضايقات، وتعتريهم المحن، وتكتنفهم الهموم، ولكنَّ أهل الحق في نهاية المطاف هم الأعلون، وهم الفائزون وإن طال أمدُ البلاء.

​فيا أيها الدعاةُ إلى الله: اثبتوا على نهجكم، واستقيموا على أمركم، ولا تروغوا روغان الثعالب. إن المحنَ هي المحكُّ الذي يستخرجُ منكم خبايا الخير التي لم تكن تخطر لكم على بال.

​انظروا في سِيَرِ العلماء الأعلام وفطاحل الصالحين ومحنهم ، وكيف صُهروا في بوتقة الابتلاء؟ فكانت النتيجة أن خلّد الله ذكرهم، وأعلى شأنهم، وباد أعداؤهم في مزابل التاريخ.

تسليةُ الصابرين

​تأملوا قول العلامة السعدي -رحمه الله- في عبارةٍ تُكتب بماء الذهب:

كلما ضاق الأمر اتسع.. فهكذا من قام بالحق فإنه يمتحن فكلما اشتدت عليه وصعبت، إذا صابر وثابر على ما هو عليه، انقلبت المحنة في حقه منحة، والمشقات راحات، وأعقبه ذلك الانتصار على الأعداء وشفاء ما في قلبه من الداء.

​إنها البشرى الإلهية: {أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ}. فاصبروا صبراً جميلاً، وتذكروا دائماً:

اصبرْ قليلاً فبعد العسرِ تيسيرُ ... وكلُّ أمرٍ له وقتٌ وتدبيرُ

وللمهيمنِ في حالاتنا نظرٌ ... وفوق تدبيرنا للهِ تقديرُ

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...