التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 مثالي استاذ کی علامتیں ۔

از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے۔

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر۔

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں۔

مثالی استاذ کے چند اوصاف ذکر کئے جارہے ہیں۔

مخلص ہو۔  ایک مثالی استاذ کی صفت یہ ہے کہ وہ مخلص ہوتا ہے ، تدریسی بوجھ  اتارنے اور کورس ختم کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت ہی اخلاص ورب کی رضاجوئی کیلئے تدریس کرتا ہے ۔

احساس ذمہ داری۔

مثالی استاذ وہ ہے جنھیں تدریس سے والہانہ لگاؤ ہو،اسطور پر کہ اسے تدریس میں مزہ آتا ہو۔

مثالی استاذ کے اندر مسلسل اسٹڈی ومطالعہ، بحث وتحقیق کا مزاج ہوتا ہے، وہ کثیر المطالعۃ ہوتا ہے ،وہ اپنے سابقہ معلومات کو تجدید کرتے رہتا ہے ، اور مطالعہ وبحث میں وسعت لاتے جاتا ہے اسلئے کہ استاذ کی ثقافت عامہ جتنی بہتر ہوگی اسکی تدریس اتنی ہی کامیاب ہوگی ۔

مثالی استاذ اپنے سینئر جونئر حتی کہ اپنے شاگردوں سے بھی استفادہ کرتاہے ۔

مثالی استاذ نہایت ہی شفیق ومہربان ہوتا ہے،رفق ونرمی ان کے تعامل وسلوک میں نمایاں اور واضح ہونا چاہیے ۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ گوشت آپکا ھڈی ہماری۔ یہ بالکل ہی غلط ہے ۔ شاعر کہتا ہے ۔

کوئی کارواں سے ٹُوٹا، کوئی بدگماں حرم سے

کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی۔

مثالی استاذ طریقہ تدریس میں ارتقاء کرتے رہتا ہے ، مؤثر انداز میں پڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اور اسےطریقہ تدریس میں مہارت ہوتی ہے ۔

مثالی استاذ کے اندر جدت اور اختراع وابتکار کی صفت ہوتی ہے ۔

مثالی استاذ اپنے شاگردوں کی نفسیات پر بھی نظر رکھتا ہے ، علم نفسیات کابھی مطالعہ کرتاہے۔

مثالی استاذ کے اندر صبر وتحمل کی صفت ہوتی ہے، کسی طالب علم سے مایوس نہیں ہوتا ہے۔

مثالی استاذ اپنے کلاس روم اور درجہ پر کنٹرول رکھتاہے سارۓ طلباء کو اپنے طرف متوجہ رکھتا ہے ۔

مثالی استاذ عدل وانصاف کرتاہے تمام بچوں کے ساتھ عدل وانصاف کرتاہے ، سارے طلباء پر یکساں توجہ دیتا ہے ، غلط ترجیحات کو وہ قطعی اختیار نہیں کرتا ہے۔

اپنی فرائض کو ایمانداری سے ادا کرتاہے ۔

مثالی استاذ اپنے طلباء کے لئے ماڈل ونمونہ ہوتا ہے ۔

مثالی استاذ نظم و ضبط اور ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے ۔

مثالی استاذ اپنے طلباء کی تربیت بھی کرتا ہے ۔

مثالی استاذ اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے اللّٰہ سے دعاء بھی کرتا ہے ۔

مثالی استاذ چاپلوسی سے دور ہوتا ہے نیز مدراء کی جھولیاں نہیں اٹھاتا ہے وہ اپنے موقف میں پکا ہوتا ہے، حق وباطل کی تمییز کرتاہے،حکمت ودانائی سے کام لیتا ہے۔

مثالی استاذ یہ سوچتا ہے کہ

ایک کامیاب استاذ،اور مدرس کی ذمہ داری صرف اتنی نہیں ہے کہ وہ اپنا درس  پڑھا دے یا گھنٹہ کی تکمیل کردے؛ بل کہ استاذ دوسرے معنی میں مربی ہے جو اپنے تدریسی عمل سے پوری نسل تیار کرتا ہے، وسیع النظر اور کثیر المعلومات عالم تیار کرتا ہے۔اسی لئے وہ نہایت ہی محنت ومحبت سے پڑھاتا ہے ۔

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...