فرشتوں پر ایمان ایمان کا ایک عظیم رکن۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔
لفظ ملائکہ یہ مَلَك کی جمع ہے مطلب ہے فرشتہ۔
ملائکہ یا فرشتوں پر ایمان لانا ، ایمان کا ایک عظیم رکن ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارکان ایمان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا
تم اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، یوم آخرت اور تقدیر کی اچھائی وبرائی پر ایمان رکھو۔)۔(صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1)
ایمان بالملائکہ کا منکر کافر ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِفَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا۔( سورة النساء.13 )
ایمان بالملائکہ سے مراد یہ ہے کہ ایک انسان اس بات پر ایمان رکھے کہ ملائکہ اللہ تعالی کی مخلوق میں سے (عباد مکرمون ) یعنی باعزت ومکرم بندے ہیں۔
وہ کسی غیبی طاقت کانام نہیں ہے بلکہ فرشتوں کا وجود ہے اور وہ ایک مستقل مخلوق ہے ۔ یہ ایمان بالملائکہ کا وجوبی مقدار ہے جس کا اعتقاد رکھنا ہر مسلمان کے لئے ابتدائی طور پر لازم ہے اور اس سے عاری شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ مثلا اگر کوئی کہے کہ مجھے نہیں معلوم اللہ تعالی کی مخلوق میں سے فرشتے بھی ہیں تو ایسا شخص ایمان بالملائکہ سے عاری ہونے کی وجہ سے مسلمان نہیں ۔ لیکن یہ عمومی اور مطلق حکم ہے اس سے بالتعیین کسی شخص کو کافر کہنا صحیح نہیں ۔تکفیر ایک الگ مسئلہ ہے اس کے کچھ شروط وموانع ہیں وہ کبار علماء کا میدان ہے ہر کس و ناکس کو اسمیں ہاتھ پاؤں مارنا نہیں چاہیے۔
محترم قارئین ۔
فرشتوں پر ایمان لانا بر وتقوی میں سے ہے
لَّیۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ وَٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ وَٱلۡكِتَـٰبِ وَٱلنَّبِیِّـۧنَ وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِی ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡیَتَـٰمَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِینَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِیلِ وَٱلسَّاۤىِٕلِینَ وَفِی ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُوفُونَ بِعَهۡدِهِمۡ إِذَا عَـٰهَدُوا۟ۖ وَٱلصَّـٰبِرِینَ فِی ٱلۡبَأۡسَاۤءِ وَٱلضَّرَّاۤءِ وَحِینَ ٱلۡبَأۡسِۗ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ ٱلَّذِینَ صَدَقُوا۟ۖ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ﴾ [البقرة ١٧٧]۔
ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے، تنگ دستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔
فرشتوں پر ایمان لانا مؤمنین کی صفات ہیں ۔
ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَاۤ أُنزِلَ إِلَیۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰۤىِٕكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ أَحَدࣲ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُوا۟ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَیۡكَ ٱلۡمَصِیرُ . [البقرة ٢٨٥-]
رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
فرشتوں کا کفر و انکار ضلالت وگمراہی ہے
وَمَن یَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰۤىِٕكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَـٰلَۢا بَعِیدًا﴾ [النساء ١٣٦]
اور جو شخص اللہ، اور اس کے فرشتوں، اور اس کی کتابوں، اور اس کے رسولوں، اور یوم آخرت کا انکار کردے گا، وہ گمراہی میں بہت دور چلا جائے گا۔
فرشتوں کی قدر ومنزلت کو گھٹانا یا ان کی تنقیص کرنا آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے کا شیوہ ہے ۔
إِنَّ ٱلَّذِینَ لَا یُؤۡمِنُونَ بِٱلۡـَٔاخِرَةِ لَیُسَمُّونَ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةَ تَسۡمِیَةَ ٱلۡأُنثَىٰ [النجم ٢٧]
بیشک لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں۔
جو فرشتوں سے دشمنی رکھے یا کسی بھی ایک فرشتہ سے دشمنی کرے تو اس نے اللہ تعالیٰ سے دشمنی کیا ۔
مَن كَانَ عَدُوࣰّا لِّلَّهِ وَمَلَـٰۤىِٕكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبۡرِیلَ وَمِیكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوࣱّ لِّلۡكَـٰفِرِینَ [البقرة ٩٨]
جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے۔
ایمان بالملائکہ چار چیزوں کو شامل ہیں ۔
فرشتوں کے وجود پر ایمان لانا ۔
ان کے وجود کی تصدیق کرنا ،اور یہ کہ ان فرشتوں کی تعداد کا علم سواۓ اللّٰہ کے کسی کے پاس نہیں ہے ۔
فرمان باری تعالی ہے۔(وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ)
ترجمہ۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
فرشتوں پر اجمالی وتفصیلی طور پر ایمان لانا
جن فرشتوں کے نام معلوم ہے ان کے نام کے ساتھ ایمان لانا جیسے جبریل ،میکائیل ،اسرافیل،مالک (خازن النار )، ھاروت وماروت،منکر ونکیر۔
فرشتوں کے کچھ عام القاب ہیں ۔ ملأ اعلیٰ
لَّا یَسَّمَّعُونَ إِلَى ٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰ(سورہ صافات 8)
جنود الرب ۔وَمَا یَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِیَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ ٣١﴾ [المدثر ٣١]
الأشهاد۔ وَیَقُولُ ٱلۡأَشۡهَـٰدُ هَـٰۤؤُلَاۤءِ ٱلَّذِینَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ أَلَا لَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِینَ﴾ [هود ١٨] ۔
فرشتوں کی جو صفات قرآن وحدیث میں ہیں ان صفات کے ساتھ ایمان لانا ۔ جیسے۔ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں ۔فرشتوں کو مختلف شکلیں اختیار کرلینے کی قدرت دی گئی ۔
فرشتوں کے 600پر ہیں ، فرشتے کھاتے پیتے نہیں ہیں اور نہ شادی بیاہ کرتے ہیں ،فرشتے مؤنث نہیں ہیں بلکہ وہ عباد الرحمٰن ہیں ۔فرشتوں کو اسکی اصلی وحقیقی صورت میں دیکھنا یہ انبیاء علیہم السلام کیلئے ممکن ہے ، فرشتے بھی وفات پا جائیں گے ۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بیماری ، دکھ ، سستی ، کابلی ، تھکاوٹ اور اکتاہٹ وغیرہ سے محفوظ رکھا ہے اور وہ دن رات اپنے کاموں میں مصروف و مشغول ہیں ۔ اس کی وضاحت قرآن مجید کی درج ذیل آیت سے ہوتی ہے
وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ . يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتَرُونَ ﴾ [ الانبياء -۱۹-۲۰]
آسمانوں اور زمین میں جو ہے اسی اللہ کا ہے اور جو اس کے پاس (فرشتے ) ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ دن رات ( اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذراسی بھی سستی نہیں کرتے ۔
فرشتوں کے اعمال ووظائف پر ایمان لانا ۔
اللہ تعالیٰ نے بعض فرشتوں کو بارش برسانے بعض کو روح نکالنے بعض کو روح ڈالنے بعض کو آسمانوں اور بعض کو زمین پر ہونے والے امور طے کرنے اور بعض کو کائنات میں ہونے والی دیگر تبدیلیوں میں عمل دخل پر مامور کر رکھا ہے ۔ یہ تمام کام اللہ تعالی ہی کے حکم سے فرشتے کرتے ہیں اور اپنی مرضی اور اختیار سے کچھ نہیں کرتے۔ گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل تو کرتے ہیں مگر اس کے نظام میں ہمسری، برابری اور شراکت کا اختیار نہیں رکھتے ۔ اس لیے نہ انہیں مدد کے لیے پکارا جا سکتا ہے اور نہ ان کی پرستش اختیار کی جاسکتی ہے بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں اور اسی سے ہی مدد طلب کریں ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی ہماری مدد کے لیے براہ راست توجہ فرمائیں ، یا فرشتوں کو نازل کریں یا کوئی اور ذریعہ منتخب کریں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ فرشتوں کے بہت سارے علوم و احوال عزائم وارادے اور بہت سارے کام اور ڈیوٹیاں،ذمہ داریاں ہیں جن کا شمار اور علم صرف اللّٰہ تعالٰی ہی کے پاس ہے ۔
بحوالہ ۔ مجموع الفتاوی لابن تیمیہ 4/121
فرشتوں کے بعض وظائف واعمال یہ ہیں ۔
بعض فرشتے اس کام میں لگے ہوۓ ہیں کہ وہ اللّٰہ تعالٰی کا پیغام (وحی) رسولوں کے پاس لاتے ہیں اور وہ جبریل علیہ السلام ہے۔
بعض فرشتے بارش برسانے اور سبزہ اگانے پر مامور ہیں اور وہ میکائیل ہے ۔
بعض فرشتے صور میں پھونک مارنے کی ذمہ داری لئے ہوۓ ہیں اور وہ اسرافیل ہے ۔ جیساکہ علامہ قرطبی نے کہا کہ وہ اسرافیل ہے اس بات پر امت کا اجماع ہے ۔
بعض فرشتے روح قبض کرنے پر مامور ہیں اور وہ ملک الموت ہے ، لفظ عزرائیل جو موت کے فرشتے کیلئے کہا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے ،کتاب وسنت میں لفظ عزرائیل ملک الموت کیلئے مستعمل نہیں ہے ۔
اسی طرح بعض فرشتے ملک الجبال ہیں بعض فرشتے حملۃ العرش ہیں بعض جہنم کے داروغہ ہیں بعض فرشتے رحم مادر کے لئے ہیں ۔
سردار فرشتے تین ہیں ۔
جبریل ،میکائل اسرافیل ۔امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اسکی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ،یہ تینوں فرشتے کسی نہ کسی طور حیات یعنی زندگی بہم پہنچانے پر مقرر ومامور ہیں چنانچہ جبریل مامور وحی ہیں جو حیات قلوب کا پیغام ہے ،جبکہ میکائیل بارش برسانے پر مامور ہے جو زمین اور اس پر بسنے والے جانداروں اور پودوں وغیرہ کی حیات ہے اور اسرافیل کی ڈیوٹی نفخ صور پر ہے ،جسکے دوبارہ پھونکے جانے کے بعد تمام مخلوق کو موت کا شکار ہو چکی تھی زندہ ہوجاۓ گی ۔
فرشتوں کی تعداد ۔
فرشتوں کی تعداد بہت زیادہ ہیں جنکا احصاء وشمار اللّٰہ تعالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتا ،انکی کثرت تعداد کا اندازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ہوتا ہے ۔ بیت المعمور (جو ساتویں آسمان پر فرشتوں کی مسجد ہے) میں ہر روز 70 ھزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک دوبارہ داخل نہ ہوسکیں گے ۔(صحیح بخاری 3207 صحیح مسلم 259)
فرشتوں کی صفات خلقیہ ۔
ملائکہ کی جو صفات خَلقیہ کتاب وسنت سے ثابت ہوتی ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ نور سے پیدا ہوۓ ہیں ،اور ان کی تخلیق آدم علیہ السلام جو ابو البشر ہیں سے مقدم ہے ،وہ انتہائی خوبصورت ہیں عظیم الھیکل اور قوی الجثہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو آسمان سے اُترتے ہوئے دیکھا ،انھوں نے تمام افق سماوی کو ڈھانپ رکھا تھا ۔
فرشتوں پر ایمان لانے کے ثمرات۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی ۔اس کی قوت اور اس کی سلطنت کا علم کیونکہ مخلوق کی عظمت درحقیقت خالق کی عظمت کی دلیل ہے۔
بنی آدم پر عنایات و انعامات کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا کہ اس نے ان فرشتوں کو بنی آدم کی حفاظت ،ان کے اعمال لکھنے اور دیگر مصلحتوں پر مامور فرمایا ہے۔
ایمان میں زیادتی کا سبب چونکہ ملائکہ ایک غیبی مخلوق ہیں جنکے موجود ہونے کی اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے لہذا غیب کی اس خبر پر ایمان لانے سے بندۓ کا ایمان مسلسل بڑھتا رہے گا اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا۔
وَمَا جَعَلۡنَاۤ أَصۡحَـٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَـٰۤىِٕكَةࣰۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةࣰ لِّلَّذِینَ كَفَرُوا۟ لِیَسۡتَیۡقِنَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ وَیَزۡدَادَ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِیمَـٰنࣰا وَلَا یَرۡتَابَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِیَقُولَ ٱلَّذِینَ فِی قُلُوبِهِم مَّرَضࣱ وَٱلۡكَـٰفِرُونَ مَاذَاۤ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا مَثَلࣰاۚ كَذَ ٰلِكَ یُضِلُّ ٱللَّهُ مَن یَشَاۤءُ وَیَهۡدِی مَن یَشَاۤءُۚ وَمَا یَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِیَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ ٣١﴾ [المدثر۔٣١]
ہم نے دوزخ کے دروغے صرف فرشتے رکھے ہیں اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لئے مقرر کی ہے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور ایماندار ایمان میں اور بڑھ جائیں اور اہل کتاب اور مسلمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟ اس طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پندونصیحت ہے۔
ایمان بالملائکہ اللّٰہ تعالٰی کے امتثال امر کا بہترین نمونہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے بلکہ اسے ایمان کا دوسرا رکن قرار دیا ہے ۔
ایمان بالملائکہ اللّٰہ تعالٰی کی ایک عظیم مخلوق کی معرفت کا موجب ہے نیز ملائکہ کے اعمال وصفات کی معرفت بھی اضافۂ علم کا باعث ہے ۔
ملائکہ کی صفات کی معرفت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جن امور سے فرشتوں کو محبت ہے ان امور کو اختیار کرنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے ،نیز جن چیزوں سے فرشتوں کو نفرت و کراہت ہے ان سے اجتناب برتنے کی توفیق ارزاں ہوتی ہے جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جس شخص نے کچا لہسن یا پیاز کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آۓ کیونکہ فرشتے ہر اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے اولاد آدم تکلیف محسوس کرتی ہے (متفق علیہ)
فرشتوں کا اللّٰہ تعالٰی سے ڈرتے رہنا اور اسکی مستقل اطاعت کرتے رہنا اور کبھی نافرمانی نہ کرنا ،ہم انسانوں کے لئے بہت بڑی نصیحت ہے ایک انتہائی عظیم اور قوی مخلوق کے خوف واطاعت کا یہ عالم ہے تو ہمیں کس قدر اپنے رب کا خوف اور اطاعت اپنے اندر پیدا کرنا ہے ۔
وہ حقیقی مومن جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے میدان میں موجود ہے اسکے لئے انتہائی صبر واستقامت اور ثبات واستقلال کا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس میدان میں اسکے ہم رکاب ہیں اور جہادی مہم میں شانہ بشانہ شریک ہیں ۔
فرشتوں کے حقوق ۔
فرشتوں پر ایمان لانا
فرشتوں کو برا بھلا نہ کہنا
نماز میں دائیں جانب تھوکنے سے اجتناب کرنا۔
جن چیزوں سے لوگ نفرت کرتے ہیں ان سے احتیاط کرنا ۔
اللہ کی نافرمانی اور کارِ گناہ سے پرہیز کرنا ۔
اللّٰہ تعالٰی ہمارے ایمان میں اضافہ فرمائے اور ایمان بالملائکہ سے متعلق جو غلط چیزیں رائج ہیں اس کا خاتمہ فرمائے آمین ۔
تعليقات
إرسال تعليق