رمضان اور قرآن کا باہمی ارتباط ۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ سیف الدین المحمدی، سپول بہار ۔
رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جسمیں سب سے عظیم معجزہ قرآن مقدس کا نزول ہوا ہے، ماہ رمضان تمام مہینوں میں افضل وخیر وبرکت والا مہینہ ہے اس مہینہ میں عظیم القدر وجلیل الشان کتاب ،دستور حیات ، معجزہ کبری قرآن مجید کا نزول ہوا اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے
شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِیۤ أُنزِلَ فِیهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدࣰى لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَـٰتࣲ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ
[البقرة ١٨٥]
قرآن اور رمضان دونوں توام ہیں۔
رمضان المبارک اور قرآن مقدس کا آپس
میں گہرا تعلق ہے۔ رمضان اور قرآن کا آپس میں چولی دامن کا تعلق ہے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے صحیح اور غلط کی تمیز کیلئے ،سیاہ وسفید کے مابین تفریق بتانے کے لیے ،اور حق و باطل میں فرق کرنے والے اور ہدایت و راہ نمائی کی واضح نشانیوں کے طور پر قرآن کو نازل کیاگیا۔
رمضان اور قرآن کے باہمی ارتباط کو واضح کرتے ہوۓ
صاحب تیسیر القرآن مولانا عبد الرحمن کیلانی لکھتے ہیں کہ تمام کتب سماوی اور اسی طرح قرآن کریم رمضان ہی میں نازل ہوئیں اور قرآن لیلۃ القدر کو سارے کا سارا آسمان دنیا پر نازل کردیا گیا۔ پھر تھوڑا تھوڑا کر کے حالات کے مطابق آپ پر نازل ہوتا رہا جو سراپا ہدایت اور حق و باطل میں تمیز کرنے والی کتاب ہے۔ اس آیت سے قرآن اور رمضان کا خصوصی تعلق معلوم ہوا۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں جبریل علیہ السلام سے قرآن کا دور فرمایا کرتے اور زندگی کے آخری رمضان میں دو بار دور فرمایا۔ مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ رمضان میں بطور خاص قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کریں۔ اسی لیے رمضان میں قیام اللیل کی خصوصی تاکید کی گئی۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه کہتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرےاس کے پہلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب تطوع قیام رمضان من الایمان) ۔
(دیکھئے تفسیر تیسیر القرآن عبد الرحمٰن کیلانی سورۃ
البقرہ 185)
صاحب تفسیر سراج البیان مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں کہ قرآن حکیم جو ساری دنیا کے لئے رحمت وہدایت ہے جس کے تمام مضامین دلائل وبراہین پرمبنی ہیں ‘ وہ ایام رمضان ہی میں نازل ہونا شروع ہوا ، اس لئے روزوں کی فضیلت اور بڑھ جاتی ہے اور اس میں باریک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ روزہ رکھنے سے قرآن حکیم کے حقائق ومعارف قلب پر زیادہ روشن ہوتے ہیں اور دل کلام الہٰی کے ذوق وشوق سے معمور ہوجاتا ہے اس لئے حضور (ﷺ) قرآن حکیم کی تلاوت ان دنوں میں کثرت سے فرماتے اور اس لئے تراویح میں قرآن شریف پڑھا جاتا ہے تاکہ لوگ سال میں ایک ماہ بالالتزام قرآن پاک سنیں اور اپنی زندگی کو قرآن حکیم کے موافق بنائیں ۔
(دیکھئے تفسیر سراج البیان سورۃالبقرہ 185)
محترم قارئین ۔
ماہ رمضان المبارک ایک ایسا مہینہ ہے جسمیں تقریباً تمام امہات العبادات جمع ہوگئیں ہیں اس مہینے کی ایک خاص عبادت تلاوت قرآن ،تدبر قرآن، ومدارسۂ قرآن ہے ،غور کیجئے تراویح وقیام اللیل میں مومن بندہ رات کی تنہائی میں کس دلسوزی واطمینان قلب ،ولذت ومٹھاس کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن کرتا جاتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہوجبکہ رمضان میں شیاطین باندھ دئیے جاتے ہیں نفسانی خواہشات اور شہوانی جذبات مدھم پڑجاتے ہیں اور نیک بندہ طاعت وبندگی ، وتلاوت قرآن کی طرف مائل ہوجاتا ہےاور موقع کو غنیمت جانتا ہے۔
اور ایسا کیوں نہ ہوں کیونکہ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جسمیں قرآن کریم، كلام رباني کا نزول ہوا
اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
{إنا أنزلناه في ليلة القدر}
(القدر:1)
. {إنا أنزلناه في ليلة مباركة}
(الدخان:3)
ماہ رمضان کی عظمت وفضیلت کی سب سے بڑی دلیل رب سبحانه وتعالى نے یہ دی ہے کہ اس مہینے میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔ جس میں قوموں کی رشدو ہدایت اور ان کی اصلاح اور فلاح کا نہایت ہی شاندار وجامع پروگرام دیا گیا ہے۔ یہ ہدایت اتنی واضح اور اس کے دلائل و براہین اس قدر روشن ہیں کہ اس سے بہتر راہنمائی کوئی اور نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی صحیح فلسفۂ حیات کی تائید کے لیے اس سے قوی دلائل پیش کیے جاسکتے ہیں۔ جونہی قرآن مجید کے دلائل فکری عملی میدان میں پیش کیے جاتے ہیں تو کوئی بھی ذی شعور اور سلیم الفطرت انسان قرآنی ہدایت اور اس کے دلائل کے سامنے سرجھکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے قرآن کو ” اَلْفُرْقَانَ“ بھی کہا گیا ہے۔ یعنی ایسی کتاب جو حق وباطل اور کھرے کھوٹے میں امتیاز پیدا کردے۔
محترم قارئین ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللّٰہ سبحانہ و
تعالٰی نے ماہ رمضان میں قرآن مجید نازل کرنے کا ذکر کرکے قرآن اور رمضان کا خصوصی تعلق بتا دیاہے ۔
نیز صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے اعمال وارشادات سے اسی ماہ مبارک میں کتاب مبارک کی تلاوت کو خاص اہمیت دی ہے ۔
جیساکہ حدیث ہے ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرئیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ کی سخاوت اور بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔ جبرئیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و بھلائی کے معاملے میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔
رواه البخاري (6) واللفظ له، ومسلم (2308))
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث رمضان المبارک میں قرآن کے مدارسہ (یعنی قرآن پڑھنے پڑھانے معانی و مفاہیم سمجھنے اور سمجھانے اور اس پر عمل کرنے )اور قرآن پر غور و تدبر کیلئے اکٹھا ہونے اور قرآن کو جو زیادہ تجوید ومخارج کے ساتھ ،اتقان کے ساتھ پڑھنا جانتا ہے اس پر قرآن پیش کرنے اور اس سے سیکھنے کے استحباب پر دلالت کرتا ہے ۔اور اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ماہ رمضان میں کثرت سے تلاوت قرآن مستحب ہے ۔
(بحوالہ ۔لطائف المعارف(ص:242-243
محترم قارئین ۔
اللّٰہ تعالٰی نے متعدد آیات میں تلاوت قرآن کا حکم بھی دیا ہے ۔
إِنَّمَاۤ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ ٱلۡبَلۡدَةِ ٱلَّذِی حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَیۡءࣲۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِینَ۔وَأَنۡ أَتۡلُوَا۟ ٱلۡقُرۡءَانَۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا یَهۡتَدِی لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلۡ إِنَّمَاۤ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُنذِرِینَ [النمل 91-92]
مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہوجاؤں
اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں، جو راہ راست پر آجائے وہ اپنے نفع کے لئے راہ راست پر آئے گا۔ اور جو بہک جائے تو کہہ دیجئے! کہ میں صرف ہوشیار کرنے والوں میں سے ہوں۔﴿وَٱتۡلُ مَاۤ أُوحِیَ إِلَیۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِهِۦ
وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدࣰا﴾ [الكهف،٢٧
تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا رہ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں تو اس کے سوا ہرگز ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہ پائے گا۔
ٱتۡلُ مَاۤ أُوحِیَ إِلَیۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَـٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَاۤءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ﴾ [العنكبوت -٤٥]
جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔
امام شوکانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے حکم دیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو(اور رسول کے امت بھی مخاطب ہیں )کہ جو کتاب وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت پر مداومت برتے
(دیکھئے ۔ تفسیر شوکانی ،سورۃ الکہف 27 نمبر آیت
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے سلف سے منقول بعض ان آثار کا ذکر کیا جس میں یہ منع ہے کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کیا جائے ، اور اسی عمل پر مداومت برتا جائے ۔ ان آثار کو ذکر کرنے کے بعد حافظ ابن رجب نے لکھا ہے کہ جہاں تک بات ہے اوقات فاضلہ جیسے رمضان المبارک کا مہینہ خاصکر رمضان کی وہ راتیں جس میں لیلۃ القدر طلب کیا جاتا ہے یا وہ بابرکت مکان وفضیلت والی جگہیں جیسے مکہ وغیرہ جو لوگ مکے کے باہر سے آتے ہیں ۔ تو ایسے بہترین اور فاضل اوقات اور اماکن میں کثرت سے تلاوت قرآن مستحب ہے زمان ومکان کو غنیمت جانتے ہوئے ۔ اور یہ بہت سارے ائمہ مثلا أحمد واسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے ۔ اور بہت سارے اسلاف کرام کا اسپر عمل ہے ۔ (بحوالہ ۔ لطائف المعارف ،ص:(246)
قرآن مجید اللّٰہ رب العزت کا کلام حمید ہے، جس کی تلاوت کرنے سے رب العزت کے ساتھ بندے کا تعلق مضبوط ہوتا ہے ، معرفت حق حاصل ہوتی ہے نفس کی گرہیں کھلتی اور اس میں موجود تمام آلائشیں، شبہات وشہوات کی گندگیاں دھل کر نفس پاکیزہ اور صاف ہو جاتا ہے۔ عمل کو نشاط اور بالیدگی ملتی ہے ، خواہشات و شہوات کے اڑیل گھوڑے کی پہچان تلاوت قرآن ہی سے حاصل ہوتی ہے نیز اس کو قابو میں لانے کا طریقہ پتا چلتا ہے اور اسے قابو میں لانا آسان بھی ہو جاتا ہے۔
ہمہ تن گوش ہوکر ،مکمل توجہ، یکسوئی، تنہائی ، دلسوزی ، تشویق و اخلاص سے قرآن حکیم کی تلاوت کرنا گویا ايسا ہے کہ خود صاحب کلام مجید کی زبان سے آیت کریمہ سن رہے ہوں۔
تلاوت قرآن زندہ دل انسان کی پہچان اور پاکیزہ دل وطہارت
قلب کی علامت ہے جیساکہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے
إغاثة اللهفان 1/52 میں فرمایا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے آپ فرماتے ہیں کہ
لَوْ طَهُرَتْ قُلُوبُكُمْ مَا شَبِعَتْ مِنْ كَلاَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
اگر آپ کے دل پاکیزہ ہو جائیں، تو اللّٰہ تعالٰی کے کلام (قرآن) سے کبھی سیر نہ ہوں گے
فضائل الصحابة للإمام أحمد (775))
معزز قارئین ۔
آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ تلاوت قرآن کی کتنی اہمیت ہے بلکہ تاکیدی حکم ہے۔
بعض سلف سے منقول ہے کہ اگر آپ اپنے آپ کو چیک کرنا چاھتے ھیں کہ آپ کا مقام ومرتبہ عند اللہ کتنا بلند ہے تو آپ یہ چیک کریں کہ آپ کا تعلق کلام اللّٰہ سے کتنا ہے ؟آپ کا کتنا لگاؤ اور شغف ہے قرآن مجید سے ؟ نتیجہ آپ کیلئے واضح ہے ۔
قابل غور بات ہے کہ صحابہ کرام اور اسلاف عظام کے اشتیاق تلاوت کا عالم یہ تھا کہ تیر جسم میں داخل ہوجاتے تو احساس تک نہ ہوتا ۔ اور خصوصاً جب رمضان آتا تو وہ بالکل مستعدی کے ساتھ تلاوت قرآن و تدبر قرآن میں
منہمک ہوجاتے تھے۔ محدث شہیر، امام شہاب الدین زہری رحمہ اللہ جو اپنے وقت کے امام اور حافظ الحدیث تھے، جب رمضان المبارک آتا تو کہتے
یہ قرآن حکیم کی تلاوت اور کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔
(لطائف المعارف از ابن رجب ص: ۲۴۵)
ابن عبد الحکم رحمہ اللہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی آمد سعید کے ساتھ ہی آپ حدیث کی مجلس اور اہل علم کی مجلس سے دور ہو جاتے اور مصحف کھول کر اسے دیکھ کر تلاوت کرنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ۔ (لطائف المعارف از این رجب، ص: ۲۴۵)
آداب تلاوت قرآن ۔
تلاوت قرآن کے چند آداب درج ذیل ہیں
آغاز میں ((أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیمِ)) پڑھاجائے۔ جیساکہ سورۃ النحل میں حکم ہے۔ (النحل 98:16)
سورۂ توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع کرنے سے پہلے بَسْمَلَہ، یعنی (( بِسْمِ اللّٰہِ الرحمٰنِ الرَّحِیمِ)) پڑھی جائے۔
مومن ہر وقت پاک ہی ہوتا ہے، اس لیے ہر حالت میں مومن مرد اور عورت اور بچے قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں ، چاہے بے وضو ہوں یا باوضو۔ باوضو ہونا بہترہے۔لیکن یہ لازمی شرط نہیں جیسا کہ بعض علماء کہتے ہیں ۔ بلکہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ہر وقت ہر حالت میں قرآن پڑھاجاسکتاہے، صرف ناپاک جگہوں میں پڑھنے سے اجتناب ضروری ہے۔ (اس کی تفصیل تفسیراحسن البیان، سورۃ الواقعہ:79:52کے حاشیے میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے)
قرآن کریم ترتیل اور تجوید سے پڑھا جائے۔ ترتیل کا مطلب ہے آہستہ آہستہ، ٹھہر ٹھہر کر آرام سے پڑھنا اور تجوید کا مطلب ہے، تجوید کے اصول وضوابط کا لحاظ رکھتے ہوئے پڑھنا، یعنی زِیر، زَبر، پیش کو کس طرح پڑھنا ہے، الف، واؤوغیرہ حروف کو کیسے پڑھنا ہے۔ کئی لوگ زَبر کو کھینچ کرالف اور الف کو بغیر کھینچے زبر کی طرح پڑھتے ہیں ، ’’ھا‘‘ کو ’’حا‘‘ اور ’’حا‘‘ کو ’’ھا‘‘پڑھتے ہیں ، علاوہ ازیں اس طرح کی اور کئی موٹی موٹی غلطیاں کرتے ہیں ۔ اس قسم کی غلطیوں سے معنی کچھ کے کچھ بن جاتے ہیں ۔ اس لیے معتبراستاذ سے قرآن کریم کا لہجہ اور تلفظ ضروردرست کرلیاجائے۔
حسن صوت کا اہتمام کیا جائے
آج کل ہمارے دن کا سورج اخبار پڑھنے یا موبائل پر اور ٹی وی پر خبریں سننے سے ہوتا ہے۔
اس عادت کو بدلنے کی شدید ضرورت ہے،ایک مسلمان کے یومیہ معمولات کاآغاز نمازِ فجر اور تلاوت کلام پاک سے ہونا چاہیے۔ روزانہ صبح سب سے پہلے قرآن مجید کی تلاوت کی جائے، اس کے لیے جتنا وقت وہ نکال سکے، نکالے۔
قرآن کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ زیادہ پڑھنے کا شوق رکھنے والا، ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 10پارے پڑھے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم کرنے سے منع فرمایاہے۔
قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت، اس کے معانی ومطالب پر بھی غوروتدبر کرے، تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کی جلالت وعظمت کا نقش قائم ہو اور اس پر خوف ورقت کی کیفیت طاری ہو۔
قرآن کریم کا جتنا حصہ کسی کویادہو، وہ اسے دُہراتا اور پابندی سے پڑھتا رہے تاکہ وہ یادرہے اور اسے بھول نہ جائے۔علاوہ ازیں قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ہر مسلمان کو ضرور یاد کرنا اور یادرکھناچاہیے، تاکہ وہ نمازوں میں اور قیام اللیل (نمازتہجد)میں پڑھ سکے۔ قرآن مجید کے یادشدہ حصوں کی یہ حفاظت اس لیے ضروری ہے کہ نسیان پرجو سخت وعید ہے، انسان اس سے بچ جائے۔
تدبر قرآن ومدارسۂ قرآن کی ضرورت ۔
اللّٰہ تعالٰی نے متعدد آیات میں تدبر قرآن اور غور وفکر کے ساتھ قرآن پڑھنے کی تشویق و ترغیب دلایا ہے ،
اسلئے جب بھی بندہ مومن قرآن کی تلاوت کرۓ تو اسے چاھئے کہ ویسے ہی نا گذار دۓ بلکہ تلاوت حروف ومعانی کا بھی اہتمام کرۓ ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو کلام اللّٰہ وکلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غورو تدبر کرۓ اور سچے دل سے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرۓ تو وہ اس تدبر وتفکر کی وجہ سے حلاوت اورمٹھاس محسوس کرۓ گا اور تلاوت قرآن کے برکت سے ہدایت پاۓ گا ،تلاوت قرآن مریض دلوں کو شفاء عطاء کرے گا اور برکت کا نزول ہوگا اور ایسے ایسے منافع و فوائد کا حصول ہوگا جو دوسرے کسی بھی کتاب کسی بھی نظم ونثر مِیں قطعاً نہیں پاۓ گا ۔
(بحوالہ ۔ اقتضاء الصراط المستقيم 2/270
علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللّٰہ تعالٰی کی کتاب قرآن مقدس پر غور و تدبر علوم ومعارف کیلئے چابی ہے اور تدبر قرآن وتفہم کلام اللّٰہ سے بہت سارے خیر و بھلائی کے دروازے کھلیں گے،اور اسی قرآن کو پڑھنے سمجھنے اور تدبر وتفکر اور اسکی تعلیمات پرعمل کرنے کی وجہ سے سارۓ علوم وفنون کا اکتشاف ہوگا ۔ اور سارۓ علوم میں تمکنت ورسوخ پیدا ہوگا۔ اور ایمان میں اضافہ ہوگا اور شجرۂ ایمان مضبوط وراسخ ہوجاۓ گا ۔
( بحوالہ تفسیر السعدی صفحہ نمبر 154)
لیکن ہاۓ افسوس آج ہم نے قرآن سےدوری بنا رکھا ہے بس نام کے مسلمان رہ گئے نہ تلاوت قرآن سے شغف نہ فہم قرآن کیلئے وقت میسر ،بس مادیت کا خمار ہے دنیاداری کا بھوت سوار ہے، اور کچھ قرآں پڑھتے بھی ہیں تو تدبر قرآن ومعانی قرآن کی سمجھ سے کوئی واسطہ نہیں اور عمل ندارد ۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ ۔
میں قرآں پڑھ چکا تو اپنی صورت ہی نہ پہچانی
مرے ایمان کی ضد ہے مرا طرزِ مسلمانی ۔
تدبر قرآن کے وسائل ۔
اخلاص و للہیت کے ساتھ قرآن پڑھنا اور ریا ونمود سے دوری بناۓ رکھنا ۔
کتب تفسیر کا مطالعہ کرنا خاصکر وہ کتب تفسیر جو صحیح احادیث پرمبنی ہوں موضوعات واسرائلیات سے دور ہو۔ یعنی تفسیر بالماثورکا مطالعہ کرے۔
عربی زبان جانتا سمجھتا ہوں اور عربی قواعد(نحو وصرف وغیرہ)سے واقفیت ہوں۔
کثرت سے قرآن کریم کو پڑھنا ۔
ایک ایک آیت پر رک کر غور و تدبر کرنا ۔
اچھی آواز اور قواعد و تجوید وترتیل کے ساتھ پڑھنے والے قراء کو زیادہ سے زیادہ سننا ۔
اور دل میں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ یہ قرآن آپ سے مخاطب ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے آپ کے نام پیغام ہے۔
محترم قارئین ۔
تلاوت قرآن کے لئے دل میں تڑپ پیدا کرنا ایک مسلمان بندہ کیلئے بہت ضروری ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی کتاب{قرآن} سے ایک حرف پڑھا اسکے لئے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔
رواہ الترمذی٢٣٢٧۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں قرآنی مسلمان بناۓ تلاوت الفاظ قرآن وتلاوت معانی قرآن کی توفیق دے اور ہم مسلمانوں کو رمضان وقرآن کے ارتباط و تعلق کو سمجھنے اور تعلیمات قرآن کو اپنی زندگی میں اتارنے کی توفیق عنایت فرمائے آمین ۔
اللهم اجعل القرآن العظيم ربيع قلوبنا، ونور صدورنا، وجلاء أحزاننا، وذهاب همومنا وغمومنا وسائقنا ودليلنا إلى جناتك، جنات النعيم۔
آمین یارب العالمین
تعليقات
إرسال تعليق