التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 بچوں کی تربیت: سیرتِ نبوی کی روشنی میں

اردو ترجمانی: محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ظاہری و باطنی نعمتوں کا دریا بہا دیا ہے اور فیضان و نوال کا چشمہ جاری فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ان تمام انعام و اکرام میں سے ایک عظیم ترین نعمت اولاد و احفاد کی نعمت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے تمہاری بیویاں بنائیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے۔"

(سورۃ النحل: 72)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ خبر بھی دی ہے کہ اولاد اس کے بندوں کے لیے ایک خاص ہبہ (عطیہ) ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

"اور ہم نے انہیں اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب (پوتے کے طور پر) مزید؛ اور ہم نے ہر ایک کو صالح بنایا۔"

(سورۃ الأنبیاء: 72)

حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

"ہم نے ان کی دعا قبول فرما کر انہیں یحییٰ (علیہ السلام) عطا فرمائے اور ان کی بیوی کو ان کے لیے درست کر دیا۔ یہ بزرگ لوگ نیک کاموں میں پیش پیش رہتے تھے اور ہمیں امید و خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔"

(سورۃ الأنبیاء: 90)

اور حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

"اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، وہ بہترین بندے تھے اور بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔"

(سورۃ ص: 30)

اولاد: فرحت و مسرت کے باعث اور والدین کیلئے خوشخبری ہے ۔

اولاد والدین کے لیے خوشخبری، فرحت، مسرت اور سعادت کی بات ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

"پس ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔"

حضرت زکریا علیہ السلام سے فرمایا:

"ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔"

حضرت سارہ علیہا السلام کے متعلق فرمایا:

پس ہم نے انہیں اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔"

اور فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام سے فرمایا:

"بے شک اللہ تمہیں اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے۔"

یہ اولاد و احفاد دنیاوی زندگی کی زینت اور اس کی رونق ہیں، گھر کے پھول اور بچوں کی قلقاریاں ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بھی اور اچھی امید کے لحاظ سے بھی زیادہ بہتر ہیں۔"

(سورۃ الکہف: 46)

ان کی عظیم الشان اہمیت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی، چنانچہ فرمایا"اور قسم ہے (انسانی) باپ کی اور اس کی اولاد کی۔" (سورۃ البلد: 3)

والدین کی ذمہ داری اور انبیاء علیہم السلام کا اسوہ۔

اولاد والدین کے پاس ایک عظیم امانت ہے۔ ان کے دین کی حفاظت و صیانت، ان کے اخلاق و کردار کی تعمیر، ان کے رویوں کی رہنمائی، ان کی فطرت کی صحیح و درست تربیت اور ان کو ہر قسم کے کجی و بگاڑ سے محفوظ رکھنا والدین کا بنیادی فریضہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی ماتحت رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی۔"

(متفق علیہ)

انبیاء علیہم السلام نے اولاد کے اس دنیا میں آنے سے قبل ہی ان کی اصلاح و درستگی اور انہیں نیک و مطیع بنانے کے لیے اللہ کی طرف رجوع کیا اور دعائیں کیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا:

﴿رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ "اے میرے رب! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔" (سورۃ الصافات: 100)

حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا کی:"اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔" (سورۃ آل عمران: 38)

فطرتِ سلیمہ اور عقیدہ توحید کی آبیاری۔

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے بچوں کی فطرت اور سرشت میں ایمان و اسلام کی قبولیت کا داعیہ ودیعت فرما دیا ہے، جو ان کی تربیت کے لیے ایک بہترین معاون عنصر ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں؛ جیسے ایک جانور کامل الاعضاء بچے کو جنم دیتا ہے، کیا تمہیں اس میں کوئی عضو کٹا ہوا نظر آتا ہے؟"پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

"یہ اللہ کی عطا کردہ فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔"

(صحیح مسلم: 6755)

تربیتِ اولاد کی پہلی اینٹ عقیدہ توحید کو راسخ کرنا اور کلامِ الٰہی کی تعلیم سے ان کے ایمان کو تقویت دینا ہے۔

جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم طاقتور نوجوان تھے۔ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارا ایمان اور زیادہ بڑھ گیا۔" (سنن ابن ماجہ: 61)

امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"بچوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم دینا اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے تاکہ ان کی پرورش فطرتِ سلیمہ پر ہو، اور اس سے قبل کہ ان کے دلوں پر نفسانی خواہشات غالب آئیں یا گناہوں کی سیاہی ان کے قلوب کو آلودہ کرے، حکمت کے انوار و تجلیات ان کے دلوں میں راسخ ہو جائیں۔"

حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو شرک سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ "اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔" (سورۃ لقمان: 13)

خالق سے تعلق، نماز کی پابندی اور حقوق العباد۔

بچوں کے دلوں کو ان کے خالق سے جوڑنا اور اللہ پر توکل سکھانا ہی ان کی کامرانی کا راز ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اے لڑکے! میں تمہیں چند اہم باتیں سکھاتا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ کے حقوق کا خیال رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب مانگنا ہو تو صرف اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہیے ہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو۔ یہ بات اچھی طرح جان لو کہ اگر پوری امت مل کر بھی تمہیں کوئی نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سب مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔"

(سنن ترمذی: 2516، حدیث حسن صحیح)

نماز اسلام کا ستون ہے اور یہی بچوں کو اللہ سے جوڑتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مُرُوا أَبْنَاءَكُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ» "اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔" (مسند احمد)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى﴾

"اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر قائم رہو، ہم تم سے رزق نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تمہیں رزق دیتے ہیں، اور بہترین انجام پرہیزگاری کا ہی ہے۔"

(سورۃ طٰہٰ: 132)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یعنی جب تم نماز قائم کرو گے تو رزق تمہارے پاس ایسی جگہ سے آئے گا جہاں سے تمہارا گمان بھی نہ ہوگا۔"

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو نوافل اور سنن پر بھی ابھارتے تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا:

"عبداللہ بہت اچھا لڑکا ہے، کاش! وہ رات کو (نمازِ تہجد) پڑھا کرتا۔"

راوی کہتے ہیں کہ اس فرمان کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 1122)

اسی طرح بچوں کو حقوق العباد اور آدابِ زندگی کی تعلیم دی جائے، جن میں سب سے اہم والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔

ارشادِ الٰہی ہے:

﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ﴾

"اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے—اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور اس کا دودھ چھوٹنا دو سال میں ہے—کہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا شکر ادا کر، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔"

(سورۃ لقمان: 14)

بچوں کی تربیت میں بلند ہمتی، عالی ظرفی اور عظیم مقاصد کا شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ جیسا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا:

﴿يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا﴾ "اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو، اور ہم نے انہیں بچپن ہی سے حکمت و دانائی عطا فرما دی تھی۔" (سورۃ مریم: 12)

سیرتِ نبوی سے شفقت، عزت اور نفسیاتی تربیت کی مثالیں۔

عظیم لوگوں کا اخلاق جتنا بلند ہوتا ہے، وہ بچوں اور نوجوانوں سے اتنی ہی تواضع اور انکساری کا برتاؤ کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ساتھ شفقت و نرمی کا معاملہ فرماتے؛ کبھی ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، کبھی ان کے شانے پر ہاتھ رکھتے، اور جب بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام فرماتے (متفق علیہ)۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا استقبال کرتے، فرماتے: "پیاری بیٹی! خوش آمدید"، اور ان پر رحم و شفقت لٹاتے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کو اٹھایا، انہیں چوما اور سونگھا۔" (متفق علیہ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو کھانے کے آداب سکھاتے تھے۔ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

"اے لڑکے! اللہ کا نام لو (بسم اللہ پڑھو)، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔" (متفق علیہ)

آپ بچوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر ان کی درست رہنمائی فرماتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (جن کی عمر پندرہ سال سے کم تھی) کی تحریری صلاحیت دیکھی تو انہیں کاتبانِ وحی میں شامل فرمایا، اور ان کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے انہیں عبرانی و سریانی زبانیں سیکھنے کا حکم دیا تاکہ وہ خطوط کا ترجمہ کر سکیں۔ (سنن ابو داؤد)

آپ بچوں کے عقیدے اور بنیادی معلومات کا امتحان بھی لیتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔ آپ نے ایک لونڈی سے پوچھا: «أَيْنَ اللَّهُ؟» (اللہ کہاں ہے؟) اس نے کہا: "آسمان میں"۔ فرمایا: «مَنْ أَنَا؟» (میں کون ہوں؟) اس نے کہا: "آپ اللہ کے رسول ہیں"۔ آپ نے فرمایا: «أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ» "اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔" (صحیح مسلم)

اکابر صحابہ کی موجودگی میں بھی آپ بچوں کا احترام فرماتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نوشیدنی لائی گئی، آپ کے دائیں جانب ایک کمسن لڑکا (ابن عباس) تھا اور بائیں جانب عمر رسیدہ صحابہ تھے۔ آپ نے لڑکے سے اجازت مانگی: "کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ یہ میں ان بڑوں کو دے دوں؟" لڑکے نے عرض کیا: "نہیں واللہ! میں آپ کے مبارک جھوٹن سے ملنے والے اپنے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔" چنانچہ آپ نے وہ پیالہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ (متفق علیہ)

بچوں کی خوبصورتی اور اچھے کاموں کی سراہنا بھی سیرت کا حصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سالم مولى ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خوبصورت آواز میں تلاوت سنی تو فرمایا:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَكَ» "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں تم جیسا شخص بنایا۔" (مسند احمد)

اگر کوئی بچوں پر سختی کرتا تو آپ کو ناگوار گزرتا۔ حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے بکری کے بھیڑیے کے ہاتھوں ضائع ہونے پر اپنی لونڈی کو تھپڑ لگ گیا، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید ناگواری کا اظہار فرمایا۔ (صحیح مسلم)

آپ بچوں کو صبح و شام کے مسنون اذکار کے ذریعے شیاطین اور نظرِ بد سے محفوظ رکھتے تھے۔ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ سے دم فرماتے:

«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ»

"میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ ہر شیطان، زہریلے کیڑے اور ہر نقصان دہ بری نظر سے پناہ مانگتا ہوں۔" (صحیح بخاری)

اسلاف کا اندازِ تربیت اور دعا کی اہمیت

بچہ قدرتی طور پر اس شخص سے محبت کرتا ہے جو اس پر شفقت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو بچے خوشی سے آپ کے استقبال کے لیے نکلتے تھے۔ (متفق علیہ)

والدین کا اپنا کردار بچوں کی تربیت کے لیے عملی نمونہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امت کے عظیم اسلاف کے واقعات اور سیرت سنانا بچوں میں بلند ہمتی پیدا کرتا ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سلف صالحین اپنے بچوں کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی محبت اس طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھائی جاتی ہے۔"

تربیت میں سب سے کارگر ہتھیار دعا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی:

﴿رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي﴾ "اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔" (سورۃ ابراہیم: 40)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے بچپن میں دعا فرمائی:

«اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ» "اے اللہ! اسے کتاب (قرآن) کا علم عطا فرما۔" (صحیح بخاری)

زوجہ عمران علیہ السلام نے دعا کی:

﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ "اور میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔" (سورۃ آل عمران: 36)

رحمن کے بندوں کی دعا قرآن میں یوں مذکور ہے:

﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ﴾ "اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔" (سورۃ الفرقان: 74)

نیک اولاد کا ثمرہ: دنیا و آخرت میں

والدین جب بڑھاپے کو پہنچتے ہیں یا بسترِ مرگ پر ہوتے ہیں، تو نیک اولاد ان کے لیے سب سے بڑا اطمینانِ قلب ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت یحییٰ و یعقوب علیہم السلام کے قصوں میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے:

﴿أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي...﴾ (سورۃ البقرہ: 133)

صالح اولاد کا نفع والدین کو ان کے انتقال کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"

(صحیح مسلم)

فرزند کے استغفار سے والدین کے درجات جنت میں بلند ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اللہ عزوجل اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں بلند فرماتا ہے، تو بندہ عرض کرتا ہے: اے میرے رب! یہ مجھے کہاں سے ملا؟ اللہ فرماتا ہے: تیرے بچے کے تیرے لیے استغفار کرنے کی وجہ سے۔"

(مسند احمد)

اور آخرت میں اللہ تعالیٰ صالح والدین اور اولاد کو جنت میں اکٹھا فرما دے گا:

﴿جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ﴾ (سورۃ الرعد: 23)

حاصلِ کلام

اولاد دل کا پھل اور جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے۔ اگر ان کی تربیت صحیح ہو تو وہ اپنے والدین کے لیے بہترین صدقہ جاریہ اور شاندار تاریخ چھوڑ جاتے ہیں۔

تربیتِ بچوں کے معاملے میں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ سب سے کامل اور روشن نمونہ ہے۔ آپ نے بچوں کے ساتھ عاجزی فرمائی، ان سے گفتگو کی، ان کی دل جوئی کی، انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا اور ان کے حوصلوں کو بلندی عطا کی، جس کے نتیجے میں دنیا کی بہترین اور تاریخ ساز نسل تیار ہوئی۔

پس جو شخص بھی اپنی نوخیز نسل کا روشن مستقبل چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت میں اسوۂ نبوی کو مضبوطی سے تھام لے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اولاد کی بہترین اسلامی و ایمانی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...