حوثی تحریک کا آغاز و ارتقاء مختصر تعارف ۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ۔
90 عیسوی کی دہائی کے آغاز میں حوثی تحریک ضلع " صعده یمن میں ظاہر ہوئی۔ ابتدا میں اس کا نام "الشباب المؤمن" رکھا گیا ۔ بعد میں چل کر یہ انصار الله" اور حوثی" کے نام سے مشہور ہوئی ، اس تحریک کا زعيم ومشرف بدر الدین حوثی نامی شخص تھے ۔ اوراس کے بیٹے حسین بدر الدین حوثی قائد اول ہے،آغاز میں فکری لحاظ سے اس جماعت کی سرگرمی مذہب زیدی کی تعلیم و تبلیغ اور نشر و اشاعت تھی، جو بعد میں عسکری تربیت اور فوجی مشقوں میں تبدیل ہو گئی
حوثی تحریک کے آغاز و ارتقا کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پہلا حصہ: فکری پس منظر (فکری ارتقا)
حوثی تحریک کے قائد حسین بدر الدین الحوثی کی پرورش اور نشو و نما ضلع صعدہ یمن میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ان دینی مدرسوں سے حاصل کیا جنہیں سنہ ۲۰۰۰ء میں ختم کر دیا گیا۔ حسین الحوثی کے بارے میں لکھنے والےبتاتے ہیں کہ انہوں نے سوڈان سے شرعی علوم میں ایم اے (ماسٹرز) کی ڈگری حاصل کیا ، لیکن اس نے ایم اے کی ڈگری کو یہ کہکر پھاڑ دیا کہ تعلیمی اسناد وسرٹیفکٹ سے عقل جامد ہوجاتا ہے،اوروہ مزید اپنےتعلیم کا سلسلہ منقطع کردیا ، یہ انکی تعلیمی حالت تھی جہاں تک ان کے عملِ سیاست کی بات ہے تو وہ سنہ ۱۹۹۰ء میں قائم ہونے والی شیعہ "حزب الحق" کے بانی واراکین میں شامل تھے، جس سے انہوں نے بعد میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ حسین بدر الدین الحوثی نے سنہ ۱۹۹۳ء کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور ان انتخابات میں انہیں سوشلسٹوں (Socialists) کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔
جہاں تک ان کی رافضی فکری تربیت کا تعلق ہے، تو ان کی پرورش ایک ایسے خاندان کے سائے میں ہوئی جو "جارودیہ" مذہب کا پیروکار تھا وہ فکر جو صحابہ کرام کی تنقیص وطعن وتشنیع کے معاملے میں رافضی اثنا عشری ،امامیہ سے جا ملتی ہے۔ ان کے والد، بدر الدین الحوثی، شیعانِ جارودیہ کے جلیل القدر علماء میں شمار ہوتے تھے۔ وہ شیخین (حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما) کے لیے "رضی اللہ عنہ" نہیں کہتے تھے، بلکہ انھیں گالیاں دیتے تھے طعن و تشنیع کرتے تھے، بدر الدین حوثی اپنی متعدد تصانیف میں الصحاح (صحیح بخاری و مسلم) اور کتبِ سنن پر شدید نقدووتعريض کے نشتر چلاتے تھے۔ نیز وہ امام بخاری اور امام مسلم پر رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے کا الزام بھی عائد کرتے تھے۔ اگرچہ ظاہری طور پر وہ خود کو زیدی مکتبِ فکر سے منسوب کرتے تھے، مگر ان کی تحریریں اور رسائل اسکی چھپی ہوئی حقیقت کو واضح کر دیتی ہیں کہ یہ انکا تقیہ تھا ۔
حسين کے والد بدر الدین الحوثی الجارودی اثنا عشری فکر سے دو بنیادی وجوہات کی بنا پر متاثر ہوئے:
۱۔ ان کا ایسے لٹریچر کا مطالعہ کرنا اور ایسے افراد سے زانوئے تلمذ طے کرنا جو شیعی جارودی فکر کے حامل تھے۔
۲۔ سنہ ۱۹۹۴ء میں ان کا ایران کا سفر اور وہاں (طهران ,قم)کچھ عرصے کا قیام، جس نے ان کے ذہن میں راسخ الجارودیہ عقائد کو اس اثنا عشری فکر کے ذریعے مزید پختہ کر دیا جو امت کی سب سے بہترین ہستیوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع، ان کی تکفیر، وتفسیق اور اس عقیدے کے لیے معروف ہے کہ خلافتِ علی پر نص موجود تھی، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت غیر شرعی تھی، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد امامت وولایت صرف ان کی حسنی و حسینی اولاد کا حق ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ یہ جارودیہ کا وہی عقیدہ ہے جسے علماء اور مؤرخین کے ایک بڑے گروہ نے نقل کیا ہے، جن میں امام مِزّی (تہذیب الکمال، ج ۹، ص ۵۱۹)، شہرستانی (الملل والنحل، ج ۱، ص ۱۵۳)، اور محمد شاکر الکتبی (فوات الوفیات، ج ۱، ص ۴۲۹) وغیرہ شامل ہیں۔
بدر الدین الحوثی کا عقیدہ و منہج ،فکر ونظر بالکل وہی ہے جو علماء نے جارودیہ کے عقائد کے بارے میں بیان کیا ہے، انہوں نے اپنے ایک رسالے "الزیدیۃ فی اليمن" میں لکھا ہے: (رسول اللہ ﷺ کے بعد بلافاصلہ امام، علی علیہ السلام ہیں، اور ان سے پہلے خلفاء کے حکم کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے؛ کچھ انہیں تکفیر کے بغیر علی علیہ السلام پر فضیلت دینے کے قائل ہیں، جبکہ کچھ تبرا یا ترضیہ کیے بغیر توقف (سکوت) کے قائل ہیں) [رسائل بدر الدین الحوثی، ص 9]۔
نیز انہوں نے اپنے رسالے "ارشاد الطالب" [ص 16] میں بیان کیا ہے: (رسول اللہ ﷺ کے بعد ولایت علی علیہ السلام کے لیے ہے اور ان سے پہلے خلفاءابو بکر، عمر اور عثمان (رضی اللہ عنہم)کی ولایت ثابت و صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی ان پر امت کا اجماع صحیح ثابت ہے۔ آپ کے بعد ولایت اہل بیت کے بہترین افراد یعنی حسن، حسین اور ان کی اولاد کے لیے ہے۔ اور ولایت اس کی ہے جس کے لیے اللہ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کی سنت میں حکم دیا ہے، خواہ لوگ اس پر راضی ہوں یا نہ ہوں؛ کیونکہ معاملہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، بندوں کو خود منتخب کرنے کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی اس رضا مندی میں شوریٰ کا کوئی دخل ہے، کیونکہ جس معاملے کا فیصلہ اللہ اور اس کا رسول کر چکے ہوں، اس میں لوگوں کے لیے کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ اور اسی طرح کی باتیں ان کے دیگر مختلف رسائل میں بھی شائع شدہ موجود ہیں۔ جب الحوثی کے انحرافات، کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ سے تجاوزات، اس کا اکثر رجحان مذہب اثنا عشری کی طرف ہونا اور اس کے عقائد و نظریات کی حمایت و دفاع کرنا، حتیٰ کہ مذهبِ زیدی کے بنیادی اصولوں سے ان کی ٹکراؤ ظاہر ہوئی، تو علماء زیدیہ نے ان کی شدت کے ساتھ مخالفت کیا اور ان سے براءت کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ زیدی علماء نے اس بات کی نفی کی کہ حوثی کے افعال و اعمال کا زیدی مذهب سے کوئی تعلق یا واسطہ ہی نہیں ہے۔ لہذا بدر الدين حوثی مجبوراً ملک چھوڑ کر ایران چلاگیا ایران میں انکی بڑی آو بھگت ہوئی وہ تو ایسے ہرکارے کی تلاش میں تھے ہی چنانچہ وہاں انکی خوب پذیرائی ہوئی۔
دوسرا حصہ: تنظیمی و سیاسی ارتقا۔
یہ مرحلہ دو ادوار میں تقسیم ہوتا ہے:
پہلا دور: "منتدى الشباب المؤمن" (مؤمن نوجوانوں کے فورم) کی تشکیل:
جب حسین بدر الدین الحوثی اپنے والد بدرالدین کے ساتھ ایران کی زیارت کیااور قم ميں قیام کیا، وہاں کے غلاظت کو اچھی طرح سمیٹ لیا، رافضیت میں پکے ہوگۓ اور اثنا عشری فکر میں پوری طرح رچ بس گۓ تو انہوں نے اپنے ارد گرد کے ماحول میں رافضیت کے جراثیم کو پھیلانا شروع کیا،ایرانی صفوی عقائد و نظریات کی تبلیغ میں لگ گیا۔ جیسے صحابہ کرام کو گالیاں دینا، انھیں کافر کہنا وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی ساتھ ضلع صعدہ کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے انھیں "قم " اور "نجف" کے شیعی درسگاہوں میں بھیجنے لگا۔ جہاں صفوی ملاؤں کے ذریعے سے ان کی مکمل تربیت اور ذہن سازی کی گئ ۔ اپنے باطل واسلام دشمن افکار ونظریات اور انحرافات کی ترویج و تنظیم کو آسان بنانے کے لیے انہوں نے ایک ایسے تنظیم و پلیٹ فارم کی بنیاد رکھا جو ان کے پیروکاروں کو جمع کر سکے اور ان کے ہمنوا وہم خیالوں کا ایک جتھ تیار ہوسکے۔ چنانچہ انہوں نے "منتدى الشباب المؤمن" کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ یہ تنظیم سنہ ۱۹۹۱ء میں اس فورم کے فریم ورک کے تحت وجود میں آئی، اور اس کے انتظامی امور حسین بدر الدین الحوثی کے بھائی، محمد بدر الدین الحوثی نے سنبھالے۔
"منتدى الشباب المؤمن" کے قیام کے پسِ پشت اہداف:
اس فورم کے بارے میں مطالعہ کرنے والے پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حسین بدر الدین الحوثی اس کے قیام کے ذریعے درج ذیل مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا:
۱- زیدی مکتبِ فکر کے علماء پر اپنا تسلط اور کنٹرول قائم کرنا، اور اپنی مقبولیت وپرسنالٹی کو فروغ دینا۔
۲- ایران سے در آمد شدہ اثنا عشری،امامیہ افکار کی بڑۓ پیمانے پر ترویج و اشاعت۔
۳- یمن اور بالخصوص صعدہ میں سلفی دعوت کیلئے زمین تنگ کرنا، اہل حق علماء کے خلاف سازش وپرپیگنڈہ کرنا، اور سلفیوں کی شدید مخالفت اور اس کے خلاف اشتعال انگیزی؛ کیونکہ وہاں شیخ مقبل الوادعی رحمہ اللہ تعالی کا مرکز قائم تھا جس کی دعوتی سرگرمیاں انتہائی فعال تھیں۔
۴- ایک ایسی مضبوط شیعہ تنظیم کا قیام جس کے ذریعے یمنی حکومت اور ساتھ ہی سعودی حکومت کا مقابلہ کیا جا سکے، اور اس مقصد کے لیے نجران کے قریب واقع اسماعیلی شیعوں کے ساتھ تعاون حاصل کیا جائے۔
"منتدى الشباب المؤمن" کے اہداف کے حصول کا عملی منصوبہ:
اس منصوبے کے دو مراحل ہیں۔
پہلا مرحلہ: فکری و ثقافتی مرحلہ: اس مرحلے میں حسین بدر الدین الحوثی نے "منتدى الشباب المؤمن" کے ذریعے تربیتی، ثقافتی اور فکری بیداری کا کام سرانجام دیا۔ اس فکری کام کی شکلیں درج ذیل تھیں:
نوجوانوں کے لیے مطالعاتی و تفریحی دورے (Youth Trips)
رافضی اثنا عشری امامیہ عقائد وافکار کی ترویج کرنے والی کتب، پمفلٹس اور رسائل کی مفت تقسیم۔
رات کے اوقات میں ڈرامائی تمثیلات (خصوصاً رمضان المبارک میں)
محاضرات (لیکچرز) اور سیمینارز
ملاقاتیں اور باہمی مذاکرے کا اہتمام ۔
سمر کورس (Summer Courses)
کا انعقاد ۔
کھیل کود کی سرگرمیاں۔
مساجد اور دیہی علاقوں میں تعلیمی مراکز اور حلقوں کا قیام۔
دوسرا مرحلہ: مسلح تصادم:
جب ان نوجوانوں کے ذہنوں میں جنہیں نہایت ہی چالاکی کے ساتھ- ذہن سازی کی گئ تھی اور منظم کیا گیا تھا اور تعلیم دی گئی تھی- منحرف اثنا عشری عقائد و افکار پوری طرح راسخ ہو گئے، اور حوثی اسکولوں، مراکز اور رافضی حسینیوں میں جو کچھ انہوں نے سیکھا تھا، ایرانی کتب و رسائل سے جو پڑھا تھا، اور نوجوانوں کے دوروں و تعلیمی وفود سے جو علم حاصل کیا تھا، اس پر انہیں کامل یقین حاصل ہو گیا، تو اس تمام تر تیاری کے بعد حسین بدر الدین الحوثی ان گمراہ کیے گئے نوجوانوں کے ساتھ ایک نئے شکل و روپ میں سامنے آیا، اور وہ روپ تھا: مسلح ملیشیاؤں کے ذریعے فوجی تصادم و جنگجوئی، امن و امان کو غارت کرنا، يمنب عوام كو پریشان کرنا، سعوديه اور بالخصوص حرمین شریفین پر میزائل داغنا، حجاج کو پریشان کرنا وغيره۔
(دیکھئے تفصیل کے لئے ۔ الحوثيون النشأة ,العقيدة, الأهداف للشيخ هدى المالكي صفحة 5-16,کشف حقائق الحوثیین حقائق ،وثائق صفحہ 2-10۔كشف أسرار الحوثيين ونهوض حمية المسلمين صفحة 8-28.)
حوثیوں کے عقائد ونظریات ۔:جہاں تک ان حوثیوں کے عقائد و نظریات کی بات ہے تو وہ بعینہ رافضی شیعوں کی طرح ہیں، روافض امامیہ اثنا عشریہ کی جو عقائد ونظریات ہیں وہی عقائد حوثیوں کے بھی ہیں بس نام کا فرق ہے۔ جیسے۔ صحابہ کرام پر لعن طعن کرنا، انھیں کافر کہنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد حضرت علی کو خلافت کا حقدار ماننا، شیخین ( ابو بکر و عمر ) کو برا بھلا اور کافر کہنا، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا، قرآن کو ناقص و مفسد قرار دینا,قراءت سبعه كو نه ماننا,نسخ قرآن كا انكار كرنا، احادیث نبویہ، عذاب قبر اور صفات الہی کا انکار کرنا, عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا كفار یہود نصاری ومجوس کے ملکوں کے فتح کرلینے کیوجہ سے حوثيوں رونا تکلیف کا اظہار کرنا,صلاح الدین ایوبی کو گالی دینا کیونکہ صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کوآزاد کیا اور صلیبیوں کو کھدیڑ کر بھگایا وغیرہ وغيره، ان کے جملہ عقائد میں سے ہیں۔
اہل سنت اور بالخصوص سعودی علماء سے ان کی دشمنی بالکل واضح ہے، تنظیم کے مؤسس بدرالدین حوثی نے سعودی علماء اور سابق مفتی اعظم شیخ ابن باز کے فتوؤں کے رد میں ایک مستقل کتاب لکھا جس کا نام "الإيجاز في الرد على فتاوى الحجاز و علی ابن باز۔ رکھا۔ مزید عقائد ونظریات کی وضاحت اس نے اپنی کتاب ”ارشاد الطالب“ میں کیا ہے۔
حوثیوں کے تین نہایت خطرناک عقیدہ ہے ۔
پہلا: رافضی جارودیہ کا عقیدہ،
دوسرا: خمینی کی "ولایتِ فقیہ" کا عقیدہ، (بدرالدين الحوثي خميني کو اپنا آئڈیل اور نمونہ مانتا تھااور یمن کو ایران جیسا بنانا چاہتاتھا)
تیسرا: اثنا عشریہ کا عقیدہ جو سبائیت اور صفویت کا عقائدی و تاریخی تسلسل ہیں.
ان کے عقائد وافکار میں یہ باتیں شامل ہیں:
قرآن مجید میں نقص وکمی اور تحریف کا قائل ہونا.
قرآن کے بعد ان کے ائمہ پر آسمانی کتب کا نازل ہونا.
ان کاائمہ کے اقوال کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی مانند سمجھنا.
یہ عقیدہ رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
شریعت کا ایک حصہ چھپا کر ان کے ائمہ کے سپرد کر دیا تھا.
ان کے ائمہ کا خطا اور نسیان سے معصوم ہونا اور غیب کا علم رکھنا.
اور تمام مسلمانوں، بالخصوص صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر
ازواجِ مطهرات کی تکفیر کرنا۔
ان کے بڑے بدر الدین حوثی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اپنے عقیدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
"جہاں تک میرا تعلق ہے، میں ان کی تکفیر پر ایمان رکھتا ہوں۔ نیز امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما پر زنا کی تہمت لگاتا ہے۔
عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے یہ جاننا انتہائی
ضروری ہے کہ یہ حوثی کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کے اس منصوبے کی تفسیر ان کا عقیدہِ "ولایتِ فقیہ"
کرتا ہے اور اس کی ترجمانی وہ نظریہ کرتا ہے جسے وہ "ظہور کے بعد کی تاریخ" کا نام دیتے ہیں۔ ان کے خود
ساختہ و مزعوم مہدی کے مشن اور حرکت کے بارے میں ان کے عقائد درج ذیل ہیں:
پہلا: ابو بکر، عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے انتقام لینا.
ان کے شیوخ نے صراحت کی ہے کہ ان کا منتظر مہدی
ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو زندہ کرے گا، پھر
انہیں کھجور کے تنے پر سولی دے گا اور ہر دن انہیں
ہزار بار قتل کرے گا۔ ان کے شیخ مجلسی نے اپنی کتاب
حق یقین میں لکھا: "جب مہدی ظاہر ہوگا تو وہ عائشہ
کو زندہ کرے گا اور ان پر حد قائم کرے گا"۔
حسین حوثی نے کہا: "اس امت میں ہونے والی ہر برائی، اس امت پر ہونے والا ہر ظلم، اور امت جس جس
مصیبت میں مبتلا ہوئی... اس کے ذمہ دار ابو بکر، عمر
اور عثمان ہیں... اور بالخصوص عمر، کیونکہ وہی اس
پورے عمل کے تھینکر اور انجینئر تھے"۔ وہ مزید کہتا ہے: "معاویہ، عمر کی
برائیوں میں سے ایک برائی ہیں... ابو بکر بھی عمر کی
برائیوں میں سے ایک ہیں، اور عثمان بھی عمر کی
برائیوں میں سے ایک ہیں"۔ وہ یہ بھی کہتا ہے:
"سلف صالحین ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے امت کے ساتھ
کھلواڑ کیا، وہی ہیں جنہوں نے امت پر ظلم کی بنیاد رکھی
اور امت میں تفریق ڈالی" ۔
دوسرا: عربوں پر تلوار چلانا:
ان کے شیوخ نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ پر یہ
بہتان باندھا کہ انہوں نے فرمایا: "ہمارے اور عربوں کے
درمیان ذبح کے سوا کچھ باقی نہیں رہا"اور اپنے ہاتھ سے
اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا
(اسے رافضی نعمانی نے اپنی کتاب الغیبۃ میں روایت کیا
بے)۔ خمینی کی عراق کے عوام پر بے دریغ جنگ بغیر کسی تفریق کے کہ وہ شیعہ ہیں یا سنی اسی اصول یعنی "عربوں کے قتل عام" کو نافذ کرنے کی
شروعات تھی۔ اور ان کا زعم کردہ مہدی عربوں پر
اپنی تلوار کیوں چلائے گا؟ کیا اس لیے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم عربی تھے، ان کے خلفائے راشدین عربی تھے، ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم عرب تھے، اور علی اور
ان کی اولاد رضی اللہ عنہم عرب نہیں تھے؟ کیا ان کا زعم کردہ مہدی خود عربی نہیں؟ یا پھر اس
لیے کہ ان کے عقیدے کا موجد ایک سبائی تھا؟
تیسرا: صفا اور مروہ کے درمیان حجاج کا قتلِ عام:
انہوں نے گھڑا کہ: "گویا میں حمران بن اعین اور میسرہ بن عبد العزیز کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ صفا اور مروہ کے
درمیان اپنی تلواروں سے لوگوں کو کاٹ رہے ہیں"
(اسے ان کے شیخ مجلسی نے بحار الانوار میں روایت کیا
ہے)۔ ان کے امام خمینی نےجو یہ مانتا تھا کہ شیعہ فقیہ ان کے غائب امام کا نائب
ہے اس مجوسی خواب کو مکہ مکرمہ کے بلدِ حرام میں
تعبیر دینے کی کوششیں کیں۔
3 ذو الحجہ 1406ھ کو انہوں نے جدہ کے شاہ
عبد العزیز رحمہ اللہ ایئرپورٹ کے ذریعے 51 کلوگرام
دھماکہ خیز مواد اسمگل کرنے کی کوشش کی تاکہ اسے
حرمین شریفین اور مشاعرِ مقدسہ میں استعمال کیا جا سکے۔
5 ذو الحجہ 1407ھ کو انہوں نے چاقو اٹھائے ہوئے جلوس
نکالے اور حجاج وعام شہریوں کو دھکیلا، جس سے
ہنگامے بپا ہوے امن وسلامتی غارت ہوا اور 402 افراد شہید ہوئے۔
6 ذو الحجہ 1409ھ کو انہوں نے دو دھماکے کیے: پہلا مسجدِ حرام کی طرف جانے والے ایک راستے میں، اور
دوسرا مسجدِ حرام کے متصل پل کے اوپر۔
26 محرم 1438ھ کو حوثیوں نے مکہ کی طرف ایک
بیلسٹک میزائل داغا، جسے اللہ کے فضل و کرم سے مکہ
پہنچنے سے 65 کلومیٹر پہلے ہی فضا میں تباہ کر دیا
گیا۔
چوتھا: مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور حجرهٔ نبوی کو منهدم و
مسمار کرنا:
انہوں نے بہتان باندھا کہ ان کا زعم کردہ مہدی کہتا ہے:
"میں یثرب (مدینہ) آؤں گا اور اس حجرے کو مسمار کر
دوں گا" (اسے ان کے شیخ ابن رستم نے اپنی کتاب دلائل
الإمامۃ میں روایت کیا ہے)۔ اور انہوں نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ پر جھوٹ باندھا کہ: "قائم (مہدی)
مسجدِ حرام کو مسمار کر دے گا یہاں تک کہ اسے اس
کی اصل بنیادوں پر لوٹا دے گا، اور رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی مسجد کو بھی اس کی بنیادوں تک لوٹا دے گا" (اسے ان کے شیخ طوسی نے اپنی کتاب
الغیبۃ میں روایت کیا ہے)۔
جب ان کے زعم کردہ مہدی کو اپنے غار سے نکلنے میں
تاخیر ہوئی، تو قرامطہ نے 317ھ کے حج کے موقع پر
خانہ کعبہ کا دروازہ اکھاڑ دیا، اس کا غلاف اتار لیا، اور
اللہ کے گھر کے حدود میں تقریباً تیس ہزار حجاج اور
مقامی لوگوں کو قتل کر دیا، اور حجرِ اسود اکھاڑ کر لے گئے جو بائیس (22) سال تک ان کے قبضے میں رہا۔
پانچواں: دینِ اسلام کو منسوخ کرنا اور آلِ داؤد کی
حکومت قائم کرنا:
ان کے شیخ کلینی نے اپنی مقدس کتاب الکافی میں باب قائم کیا: "اس بات کا بیان کہ ائمہ علیہ السلام جب ظاہر ہوں گے تو داؤد اور آلِ داؤد کے حکم کے مطابق فیصلہ
کریں گے اور گواہی کا مطالبہ نہیں کریں گے"۔ اور انہوں نے امام محمد بن علی بن حسین (امام باقر) رحمہ اللہ پر افترا باندھا کہ انہوں نے ان کے زعم کردہ مہدی کے بارے میں فرمایا: "خدا کی قسم! گویا میں انہیں رکن اور
مقامِ ابراہیم کے درمیان دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں سے
ایک نئی کتاب پر بیعت لے رہے ہیں، جو عربوں پر سخت ہوگی" (اسے نعمانی نے الغیبۃ میں روایت کیا ہے)۔
دیکھئے تفصیل کے لئے ۔ كشف حقائق الحوثيين حقائق،وثائق ،ماذا تعرف عن الحوثيين، اور، الحوثية: أصولها، ونشأتها، وعقائدها، وأهدافها، وسبل مواجهتها، في شبكة الألوكة نت تاريخ الزيارة 18/9/2026)
محترم قارئین ۔
حوثی تحریک کے عقائد ونظریات اہداف وعزائم اور حقیقت جان لینے کے بعد ہمارے لئے فیصلہ کرنا آسان ہے کہ یہ ایک اسلام دشمن تحریک ہے جسکا مقصد اسلام اور اہل حق مسلمانوں کو زک پہچانا ہے ۔
خلاصۃ الکلام یہ ہے کہ ۔
1. حوثی تحریک ایک رافضی، صفوی اور اثنا عشری تحریک ہے جس نے اپنے عقیدے کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی تکفیر (انہیں کافر قرار دینے) اور انہیں سب و شتم (برا بھلا کہنے) پر رکھی ہے۔
2. یہ اپنے مخالف مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور معروف و مشہور اسلامی مسالک (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے پیروکاروں میں سے کسی کو بھی قبول نہیں کرتے، یہاں تک کہ انہوں نے زیدی مکتبِ فکر کے ساتھ بھی مل جل کر رہنے کو برداشت نہیں کیا۔
3. مسلمانوں کے درمیان انتشار، قتل وغارت گری، بے گھر کرنااور خون خرابا برپا کرنا۔
4. بیرونی ایجنڈے کے لیے کارندے (ایجنٹ) بن کر کام کرنا تاکہ ملک کو تباہ کیا جا سکے اور لوگوں کے حالات میں ابتری پیدا کی جا سکے۔
5. اسلامی ورثے و علمی ذخیرے کو مسمار کرنا، چنانچہ وہ مختلف علوم میں لکھی گئی مسلمانوں کی کتب کو قبول نہیں کرتے۔
اور اس تمام بحث کے آخر میں کچھ ایسے سوالات ہیں جو جواب کے منتظر ہیں:
1. حوثیوں نے عملی میدان میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کیا اقدام کیا ہے؟ جبکہ وہ مدتوں سے الموت لأمريكا, الموت لإسرائيل , اللعنة على اليهود, النصر للإسلام كا نعره بلند کرتے رہے ہیں سچ ہے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دِکھانے کے اور
2. امریکہ نے حوثی جماعت کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا؟ اور دہشت گردی کے بہانے ان کے کسی قائد کی عدالت میں پیشی یا محاکمے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟
3. امریکی ڈرون طیاروں نے صعدہ کے علاقے "کتاف" میں القاعدہ کے کچھ افراد پر بمباری کی، لیکن وہاں موجود حوثیوں کے اجتماعات پر بمباری کیوں نہیں کی، باوجود اس کے کہ ان کا نعرہ "الموت لأمريكا" (امریکہ کی موت) ہے؟
6۔ حوثیوں کا حرمین شریفین مکہ ومدینہ طیبہ پر شب خونی کرنا کون سا جہاد ہے؟ کیا معصوموں کا خون بہانہ ، زمین میں فساد بپا کرنا حجاج ومعتمرین اور امن و امان سے رہنے والے مسلمانوں میں ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرنا كون سي انسانیت ہے؟
7۔ ابھی حالیہ دنوں میں ان حوثیوں کا جازان میں مسجد پر حملہ کرنا طائف میں اور ریاض وغیرہ کو بم دھماکے سے اڑانے کی دھمکیاں دینا کس اعتبار سے صحیح ہے؟
اللّٰہ تعالٰی بالخصوص حرمین شریفین نیز تمام عالم کی حفاظت فرمائے ان حوثیوں کی شرارت سے سارے عالم کو پاک رکھے اور انھیں کیفر کردار کو پہنچائے ۔ آمین
تعليقات
إرسال تعليق