شرک اکبر و اصغر کے درمیان فروق وامتیازات۔
از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔
شرک وکفر، زندقہ والحاد رب تعالیٰ سے بغاوت، دنیا کا سب سے بڑا جرم اور سب سے زیادہ سنگین معاملہ ہے،دین اسلام دین فطرت ہے اور اس کی اساسی و بنیادی تعلیم توحید ہے۔ اسلام نے شرک وکفر زندقہ والحاد کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا تھا، لیکن آج شرک وکفر زندقہ والحاد کی اس میں اس حد تک آمیزش کر دی گئی ہے کہ اصل دین پس پردہ چلا گیا اور خود ساختہ دین، نام نہاد صوفی بزرگوں والا دین بہت سارے لوگوں میں رواج پا گیا ہے۔ جو کام اسلام میں باعث ضلالت و گمراہی تھے ، آج وہ راہ ہدایت ہیں حتی کہ توحید شرک ہوگئی اور شرک توحید بن گیا ، اسلام کفر ہو گیا اور کفر نے اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا۔ سنت بدعت کہلائی جانے لگی اور بدعت سنت کے روپ میں سامنے آگئی گویا باطل حق بن گیا اور حق باطل وقابل تردید ،امت مسلمہ کی طرف اپنی نسبت کرنے والے بہترے لوگ کفر وشرک کی غلاظتوں میں بری طرح ڈوبے ہوئے ہیں ظلمات بعضھا فوق بعض کا منظر ہے ۔
شرک کی حقیقت :
شرک " مجرد سے اسم مصدر ہے ، اور مزید فیہ سے ” أَشْرَكَ آتا ہے۔ بمعنی حصہ، کہا جاتا ہے" بيعَ شِرْكٌ مِنْ دَارِہ “ اس کے گھر کا ایک حصہ بیچ دیا گیا ۔
قرآن مجید سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكِ ) (سبا : ۲۲)
اور نہیں ہے ان دونوں ( زمین و آسمان ) کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ۔“
دوسرے مقام پر فرمایا :
أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَواتِ (فاطر : ٤٠)
کیا ہے ان کے لئے آسمانوں کی پیدائش میں کوئی حصہ ؟“
اور موسیٰ علیہ السلام کی اللہ سے دعا ہارون علیہ السلام کو بطور معین مانگنے کے ) بھی اس معنی پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ سورۃ طہ (آیت : ۳۲) میں ہے کہ موسیٰ السلام نے دعا فرمائی:
وَأَشْرِكُهُ فِي أَمْرِى )
اور میری دعوتی مہم میں اس کو میرا حصہ دار بنا دے۔“
الشركة " دو یا دو سے زیادہ حصوں کو اس طرح ملانا کہ ایک دوسرے سے امتیاز
مشکل ہو، اور " شراك “ جوتے کے تسمے کو کہتے ہیں ۔
ہر سہ معانی کے اعتبار شرک کا شرعی مفہوم یہ ہوگا کہ " اللہ کی ذات، صفات اور عبادت میں کسی غیر کو حصہ دار سمجھنا۔“۔
شرکِ اکبر کی تعریف ۔
امام طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: «یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ اس کی عبادت اور اطاعت میں کسی کو شریک ٹھہرائیں۔»
بحوالہ ۔ تفسیر الطبری 13/162۔
شیخ سلیمان بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تعریف میں فرمایا: «یہ کہ انسان اللہ کا کوئی شریک (مد مقابل) بنا لے اور اس کی ایسی عبادت کرے جیسے اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔»
بحوالہ ۔ تیسیر العزیز الحمید ص 27۔
شیخ محمد بن عبد الوهاب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: «یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارے، یا عبادت کی کسی دوسری قسم کے ساتھ اس کا قصد کرے۔»
بحوالہ ۔مجموعة رسائل في التوحيد والإيمان ( مطبوع ضمن
مؤلفات الشيخ محمد بن عبد الوهاب، 1/381۔
شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: «یہ کہ انسان اللہ کا کوئی ایسا شریک بنا لے جسے وہ اس طرح پکارے جس طرح وہ اللہ کو پکارتا ہے، یا اس سے اس طرح ڈرے، اس سے اُمید رکھے، یا اس سے ایسی محبت کرے جیسے اللہ سے محبت کی جاتی ہے، یا اس کے لیے عبادت کی کوئی سی بھی قسم خاص کر دے۔»
بحوالہ ۔ القول السدید شرح کتاب التوحید صفحہ 31۔
شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: «شرکِ اکبر یہ ہے کہ: عبادت یا اس کا کچھ حصہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے پھیر دیا جائے۔»
بحوالہ ۔ مجموع فتاویٰ ابن باز 1/43۔
یہ تمام تعریفیں برحق ہیں، حقیقت میں ان کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، شرک کی سب سے بہترین تعریف وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «یہ کہ تو اللہ کے لیے کسی کو اس کا شریک (مد مقابل) ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔
شرک اصغر کی تعریف ۔
اہلِ علم کا شرکِ اصغر کی تعریف میں دو اقوال ہیں ۔
پہلا قول: شرکِ اصغر وہ ہے جسے شریعت کی نصوص میں شرک کا نام دیا گیا ہو، لیکن وہ شرکِ اکبر کے درجے تک نہ پہنچا ہو؛ جیسا کہ آپ ﷺ کا یہ فرمان: «جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے شرک کیا۔» یہاں شرک سے مراد شرکِ اصغر ہے؛ کیونکہ نصوص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ محض غیر اللہ کی قسم کھانا دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتا، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
دوسرا قول: شرکِ اصغر ہر اس ذریعہ اور واسطے کو کہتے ہیں جو شرکِ اکبر تک پہنچائے— خواہ وہ ارادوں، اقوال یا افعال میں سے ہو— بشرطیکہ وہ عبادت کے مرتبے کو نہ پہنچا ہو۔
شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "یہ تعریف پہلے والے قول سے زیادہ بہتر وجامع ہے؛ کیونکہ پہلی تعریف اس بات سے منع کرتی ہے کہ کسی چیز پر شرک کا اطلاق کیا جائے الا یہ کہ اس بابت آپ کے پاس کوئی (صریح) دلیل موجود ہو، جبکہ دوسری تعریف ہر اس عمل کو شرک قرار دیتی ہے جو شرک کا ذریعہ بنتا ہے۔"
بحوالہ ۔ دراسات فی علم العقیدہ للدکتور ناصر القفاری 2/80۔
شرک میں یہ چیزیں داخل ہیں۔
آپ اعتقاد رکھیں کہ اللہ بھی الہ ہے اور اسکے ساتھ یہ مخلوق بھی الہ ہیں۔
کسی مخلوق کو انسانی زندگی کے لئے شارع و قانون ساز مانیں ۔
کسی مخلوق کو پرستش کا مستحق سمجھیں ، اولاد دینے والا ، اور روزی رساں بھی اس کو مانتے رہیں ۔
کسی مخلوق کو خالق کائنات کا بیٹا ، بیٹی ،ماں ، باپ یا بیوی شوہر ، قرار دیں ۔
کسی مخلوق کے بارے میں تصور ہو کہ وہ عالم الغیب ہے۔
کسی مخلوق کو خالق ، روزی رساں ، زندگی بخشنے والا اور مارنے والا سمجھیں۔ (اس کا نام شرک فی التصرف ہے۔)
کسی مخلوق کو اللہ عز وجل کے اسماء و صفات سے کسی اور کو متصف ماننا۔ (اس کا نام شرک فی الاسماء والصفات ہے۔ )
غیر اللہ کے بارے میں یہ تصور ہو کہ وہ فوق الطبعی (Supernatural) قوتوں کا مالک و مختار ہے۔۔
بحوالہ ۔ شرک کے چور دروازے صفحہ 122۔
شرکِ اکبر اور شرکِ اصغر کے درمیان امتیاز کے ضوابط۔
نصوص (قرآن و حدیث) میں شرکِ اصغر کو شرکِ اکبر سے الگ پہچاننے کے بہت سے ضوابط ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
اول: کسی نص (قرآن واحادیث) کا اس بابت صریح ہونا؛ جیسا کہ حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم پر مجھے جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے۔" صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! شرکِ اصغر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "ریاکاری۔"
دوم: لفظِ شرک کا نکرہ (بغیر الف لام کے) آنا۔ اگر لفظِ شرک "ال" کے ساتھ (معرفہ) آئے تو اس سے مراد وہ شرکِ اکبر ہوتا ہے جو انسان کو ملت (اسلام) سے خارج کر دیتا ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ [لقمان: 13] (بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے)۔ اور اگر یہ نکرہ آئے تو اس سے مراد شرکِ اصغر ہوتا ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا؛ جیسا کہ فرمانِ نبوی ہے: "بے شک جھاڑ پھونک (منتر)، تمائم (تعویذ گنڈے) اور توِلہ (محبت کا جادو) شرک ہیں۔"
سوم: نصوص کے افہام وتفہیم میں صحابہ کرام کا منہج ۔ صحابہ کرام کتاب و سنت کے معانی کو اِس امت میں سب سے بہتر سمجھنے والے ہیں۔ اس کی مثال یہ ارشادِ گرامی ہے: "عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3910]
صحیح وراجح قول کے مطابق حدیث کا آخری حصہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے، اور اس کا معنی یہ ہے: "ہم میں سے ہر ایک کے دل میں بدشگونی کا کوئی نہ کوئی خیال آہی جاتا ہے"، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ شرکِ اصغر ہے۔
چہارم: سیاق و سباق کا اس بات پر دلالت کرنا کہ اس سے مراد شرکِ اکبر سے کم درجے کا شرک ہے۔ اس کی مثال حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر رات کو ہونے والی بارش کے بعد، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ انہوں نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (آج) میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لانے والا اور (کوئی میرے ساتھ) کفر کرنے والا ہو گیا۔ جس نے یہ کہا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے (کے غروب و طلوع ہونے) کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 231]
اور اس شرک کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ یہ شرکِ اصغر ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا، امام مسلم کی روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: "(بارش کے بعد) لوگوں میں سے کچھ شکر کرنے والے بنے اور کچھ کفر کرنے والے۔ تو بعض نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے، اور بعض نے کہا: فلاں ستارے کی بات سچی نکلی۔" پس کفر کو شکر کے مقابلے میں لانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کفر سے مراد کفرِ اصغر ہے، اکبر نہیں۔
پنجم: دوسری نصوص کا اس بات پر دلالت کرنا کہ یہ شرکِ اصغر میں سے ہے۔ اس کی مثال یہ فرمانِ نبوی ہے: "میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں کاٹنے لگیں۔" یہاں دیگر دلائل ونصوص (مثلاً قرآن مجید کے ارشاد: ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا...﴾ [الحجرات: 9] "اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں..." جہاں باہم قتال کے باوجود دونوں کے لیے ایمان کا وصف ثابت کیا گیا ہے) کے پیشِ نظر مراد کفرِ اصغر ہے۔
ششم: مرتکب پر حدِ ردّت (مرتد کی سزا) کا جاری نہ ہونا، درآنحالیکہ اس سے صفتِ ایمان کی نفی کی گئی ہو؛ جیسے زانی اور چور کا معاملہ۔
شرکِ اکبر اور شرکِ اصغر کے درمیان بنیادی فروق۔
مغفرت کا حکم: شرکِ اکبر کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ توبہ کے بغیر ہرگز معاف نہیں فرماتا، جبکہ شرکِ اصغر (کی معافی) اللہ کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے—(اگرچہ اس میں اہلِ علم کا کچھ اختلاف ہے)۔
اعمال کی بربادی : شرکِ اکبر انسان کے تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے، جبکہ شرکِ اصغر صرف اسی مخصوص عمل کو باطل وضائع کرتا ہے جس کے ساتھ وہ(شرک اصغر) شامل ہوا ہو۔
ملت سے خروج: شرکِ اکبر اپنے مرتکب کو ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے، جبکہ شرکِ اصغر انسان کو اسلام سے خارج نہیں کرتا۔
آخرت کا انجام: شرکِ اکبر کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا اور اس پر جنت حرام ہے، جبکہ شرکِ اصغر کا مرتکب جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔
دنیاوی و شرعی احکام: شرکِ اکبر کے مرتکب کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ نہیں کیا جاتا؛ چنانچہ نہ وہ کسی کا وارث بنتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بنتا ہے، نہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جاتی ہے، نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے، اور نہ ہی اس کا ذبیحہ حلال ہے—اسی طرح مشرکین کے دیگر احکام اس پر لاگو ہوتے ہیں۔
جبکہ شرکِ اصغر کے مرتکب کے ساتھ تمام معاملات مسلمانوں جیسے ہی کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ اس کے اہل خانہ اس کے وارث بنتے ہیں اور وہ ان کا وارث بنتا ہے، وفات پر اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جاتی ہے، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے، اور اس کا ذبیحہ بھی کھایا جاتا ہے—اسی طرح کے دیگر تمام اسلامی احکام اس پر جاری ہوتے ہیں۔
بحوالہ ۔ دراسات فی العقیدہ للدکتور ناصر القفاری 2/85۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں شرک وکفر کے درمیان فروق وامتیازات کی معرفت عطاء فرمائے تاکہ ہم شرک وکفر کے تمام انواع و اقسام سے دور رہیں۔
تعليقات
إرسال تعليق