التخطي إلى المحتوى الرئيسي

 قائدِ تحریکِ حوثی حسين الحوثي کے عقائد ونظریات 

از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔

یقیناً ایک مسلمان پر سب سے اہم جو چیز واجب ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ دلائل و براہین کے ساتھ حق کو پہچانے، ناموں، نعروں ،اشتہاروں اور پروپیگنڈوں سے دھوکہ نہ کھائے، اور کسی جماعت یا گروہ کے بارے میں اپنا فیصلہ صرف اس کے مخالفین کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر نہ کرے؛ بلکہ اس کے اصولوں، ان کے اصلی مصادر ومراجع میں موجود افکار ونظریات اور اس کے قائدین و رہنماؤں کے ان ارشادات و تحریرات کا جائزہ لے جو انہوں نے خود اپنے قلم و زبان سے بیان کیے ہیں۔ اس لیے کہ اعتبار حقائق کا ہوتا ہے نہ کہ ناموں وٹائٹلوں کا، اور عقائد ونظریات کا اعتبار ہوتا ہے نہ کہ نعروں، وہنگاموں کا۔جب ہم حوثیوں کی کارستانیاں ،اعداءات ان کی چیرہ دستیاں، مظالم کے اوراق پلٹتے ہیں اور یمن میں  انکی جنگوں ان کے کارناموں ، اور بلاد الحرمین الشریفین میں ان کے اسلام دشمن کارگزاری دہشت گردی اور جرائم کا ذکر کرتے ہیں، تو بعض سادہ لوح مسلمان یہ  گمان کرتے ہیں کہ یہ ان کے آپس کے سیاسی معاملات ہیں ، اور یہ کہ حکومت اور منصب کی خاطر یمنیوں کے مابین باہمی جنگ اور محض ایک دنیاوی اور سیاسی کشمکش سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، اور حوثی بھی دوسرے فریقوں کی طرح ایک مسلم یمنی فریق ہیں جو اقتدار اور مفادات کی جنگ میں حکومت یا دیگر فریقوں سے اختلافِ رائے رکھتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے جسپر دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں حوثی باغی جتھہ کی وجود ہی اسلام مخالف طاقتوں کی کمک اور اسلام و مراکز اسلام کو ڈائنامائٹ کرنے ،اسلامی حرمتوں کی پامالی، مقدسات اسلامیہ ومشاعر مقدسہ کی حیثیت گرانے یہودی فارسی اور ایرانی ایجنڈے کی تکمیل کےلئے ہوئی ہیں ۔ ان کے یہاں نعرے اور شور ہنگامے بہت ہیں" امریکہ کی موت اسرائیل کا خاتمہ یہود ومجوس پر لعنت " لیکن حقیقت یہ ہے کہ حوثیوں کی ساری دشمنی حقیقی اسلام اور حقیقی مسلمان سے ہیں بلکہ یہ اہل سنت وجماعت کیلئے عدو لدود اور خصیم مبین ہیں۔ حوثیوں کے ماضی اور حال کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے صرف اور صرف اسلام مخالف طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور مسلمانوں کو نقصان ہی نقصان پہنچایا، محدث دیار یمنیہ شیخ مقبل الوادعی کے اس شاندار علمی قلعہ جو دماج میں تھا یعنی  دار الحدیث کو کیسے نیست ونابود کیا!  دارالحدیث کی مسجد کو کس بے دردی کے ساتھ منہدم کیا! طلباء کو کس بے رحمی کے ساتھ قتل کیا!  قرآن مجید ومصاحف کی بے حرمتی کیا۔۔۔۔۔۔۔ قناۃ الاخباریہ میں "مساجد اليمن تحت نيران الحوثي"  کے تحت بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے  یمن کے مختلف ضلعوں میں جنوری 2015 سے اگست 2026

تک تقریباً 5 ھزار مساجد پر بم برسایا میزائل داغا،مصلی امام و مقتدی کو شہید کیا بعض کو زخمی کیا، بعض کو لنگڑا لولا وبیکار کیا، 423  مساجد کو حوثیوں نے فوجی اڈہ میں تبدیل کرلیا،394 مساجد میں تالے ڈال دئیے اور مقفل کرکے عبادت سے روک دیا،اور اسی طرح ھزاروں بچوں کو جبراً ان کے سرپرستوں سے چھین کر جنگ کیلئے محاذ پر بھیج دیا گیا کتنی ماؤوں کو اولادوں سے محروم کردیا، کتنوں کو بیوہ بنا دیا کتنوں کو یتیم بنادیا کتنوں کو ذلت و نکبت کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا کتنوں کے آشیانے گراۓ, کتنوں کی جوانیاں چھین لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنے کتنے ستم ڈھاۓ ۔ کس کس کا ذکر کرے، یہ حوثيين ابرہہ کی سنت کو تازہ کرتے ہو‎ۓ  مکہ ومدینہ پر میزائل داغ رہے ہیں بم برسا رہے ہیں ، قبلۃ المسلمین کے راہ کو مسدود کرنے حجاج ومعتمرین میں خوف ودہشت کا ماحول بنانے کی سعئ مذموم ہورہی ہے،یہ روافض کی جائز اولادیں ایسا اسلۓ بھی کرتی ہے کہ ان کا کعبہ وقبلہ تو کوفہ وکربلا ہے، اہل عرب اور ان کے درمیان صرف ذبح ہے،  لیکن افسوس کہ بہتیرے لوگ اس فاسد ومفسد  ظالم وباغی جماعت کے خطرناک پلاننگ عزائم اور اہداف ان کے عقائد ونظریات  سے بے خبر ہیں بلکہ بعض حضرات تو ایک لفظ میں سیاسی جنگ اور مصلحتی جنگ کا نام دے کر معاملہ کو معمولی کرلیتے ہیں جبکہ چھپے ہوئے حقائق سے پردہ اٹھ جائیں تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے آنکھیں اشک بار ہوجائیں گی آئیے حوثی تحریک اور اسکے مؤسس وقائد کے افکار ونظریات کو جانتے ہیں ۔

نقطۂ آغاز ۔

حوثی تحریک کا آغاز یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں ہوا، اور اس سے پہلے وہ "الشباب المؤمن" کے نام سے جانے جاتے تھے۔ یہ تحریک نوے (90)کی دہائی کے اوائل میں اس ماحول میں ظاہر ہوئی جو زیدی مکتبِ فکر سے نسبت رکھتا تھا، پھر حسین بدر الدین حوثی اس کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک کے طور پر ابھرے، یہاں تک کہ ان کے افکار ومعتقدات اور دروس و خطبات اس تحریک کی بنیاد بن گئے جسے بعد میں انہی کے نام سے جانا گیا۔

حسین حوثی نے سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا تھا اور "حزب الحق" کی نمائندگی کرتے ہوئے یمنی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ دینی اور فکری سرگرمیوں کی طرف زیادہ مائل ہو گئے، اور انہوں نے خطابات کا ایک ایسا سلسلہ پیش کیا جو بعد میں "دروس من هدي القرآن" (قرآن کی ہدایت کے دروس) یا "الملازم" (رسائل/نوٹس) کے نام سے معروف ہوا، اور یہ ان ذرائع میں سے ہیں جو اس فکر کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں جو اس وقت "زيدیہ" کے نام کے پردے کے پیچھے ظاہر کیا جاتا تھا۔

سنہ 1425 ہجری (بمطابق 2004ء) میں حسین حوثی اور ان کے پیروکاروں نے یمنی حکومت کے خلاف مسلح تصادم کا آغاز کر دیا۔ اس پہلی جنگ کا انجام رجب 1425ھ (ستمبر 2004ء) میں حسین حوثی کی ہلاکت پر ہوا۔ اس کے بعد  سنہ 1431ھ (2010ء تک مسلسل چھے مراحل میں متعدد جھڑپیں ہوتی رہیں جسے حروب صعدۃ الست یعنی صعدہ کی چھ جنگوں کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

پھر سنہ 1432ھ (2011ء) کے وہ حادثات وواقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں ریاست اور فوجی وعسکری اداروں میں ابتری، خلفشاروخرخشہ اور ضعف وکمزوری پیدا ہو گئی۔ حوثیوں نے اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے صعدہ پر اپنی گرفت مضبوط کی اور اس سے باہر بھی قدم پسار لیے۔ بعد ازاں، انہوں نے رمضان 1435ھ (جولائی 2014ء) میں عمران پر کنٹرول حاصل کر لیا، اور ذی القعدہ 1435ھ (ستمبر 2014ء) میں دارالحکومت صنعاء میں داخل ہو گئے۔ اس پیش قدمی میں انہوں نے سابق صدر علی عبد اللہ صالح کے ساتھ اپنے اس اتحاد سے بھی پورا فائدہ اٹھایا جو فوج، قبائل اور سرکاری اداروں میں اب بھی گہرے اثر و رسوخ کے حامل تھے۔

قائدِ تحریک حوثی کے عقائد ونظریات ۔

حسین بدر الدین الحوثی کے رسائل و بیانات میں جو امور سب سے زیادہ واضح ہیں، ان میں خلفائے ثلاثہ (حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم) کے تئیں ان کا موقف نظریہ سرِ فہرست ہے۔ ان کی گفتگو صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت یا خلافت کے استحقاق کے دعوے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفات کے بعد امت کو لاحق ہونے والے مصائب کی ذمہ داری خلفائے ثلاثہ پر عائد کرتے ہیں اور ان سے موالات (محبت و عقیدت یا دوستی) کو راہِ ہدایت میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

ذیل میں ان کے اپنے الفاظ پیشِ خدمت ہیں:

پہلا مسئلہ: امت پر آنے والے مصائب کی ذمہ داری ابوبکر، عمر اور عثمان پر عائد کرنا

حسین بدر الدین الحوثی کا بیان ہے:

"ایک انتہائی اہم حقیقت: ابوبکر اور عمر کا معاملہ! اگر کوئی بھی شخص پوری آزادی کے ساتھ سوال و استفسار کرنا چاہے تو ہم اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر کسی کو اس مسئلے میں کوئی شبہ ہو، یا اس کے دل میں ابوبکر، عمر اور عثمان کی طرف تھوڑا سا بھی میلان پایا جاتا ہو تو وہ وضاحت طلب کر لے۔ اس معاملے میں لوگوں کو ایک واضح نظریہ وموقف تک پہنچنا ہی ہوگا۔ میرے عقیدے کے مطابق، معاویہ تو عمر کی برائیوں میں سے محض ایک برائی ہے۔ درحقیقت، معاویہ تو کیا، عمر بن خطاب کی برائیوں میں سے ایک چھوٹی سی کڑی ہے؛ ابوبکر بھی ان کی برائیوں میں سے ایک ہیں، اور عثمان بھی ان کی برائیوں میں سے ایک ہیں۔ اس امت پر جتنے بھی مظالم ٹوٹے ہیں، جتنا بھی جبر وتشدد اس امت نے جھیلا ہے، اور جن جن مصائب و آلام سے امتِ مسلمہ دوچار ہوئی ہے، ان سب کے ذمہ دار ابوبکر، عمر اور عثمان ہیں۔ خصوصاً عمر (اس کا اصل ذمہ دار ہے)؛ کیونکہ وہی اس پورے کھیل کا ماسٹر مائنڈ اور ابوبکر کے معاملے میں تمام تر سازش کا مرکزی محرک اور بانی تھا"( بحوالہ ۔ بدر الدین الحوثی کے «دروس من هدي القرآن» ، سورۃ المائدہ، پہلا درس۔ یہ خطبہ ۲۹ شوال ۱۴۲۲ھ بمطابق ۱۳ جنوری ۲۰۰۲ء کو دیا گیا، صفحہ نمبر (۲)۔

دوسرا مسئلہ: حضرت ابوبکر کی بیعت کو امت کے لیے شرِ مستمر قرار دینا

حسین بدر الدین الحوثی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:

"اس (بیعت) کا شر آج تک باقی ہے، اس بیعت کا شر - جسے خود خلیفہ نے "فلتہ" (ناگہانی اتفاق یا اچانک رونما ہونے والا واقعہ) قرار دیا تھا - آج بھی برقرار ہے، اور ہم مسلمان آج تک اس کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ وہ ایک حیرت انگیز طور پر بڑی آفت تھی، اور وہی تمام خرابیوں کی جڑ ہے"

اس کے بعد انہوں نے اسی سیاق میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ "امت حضرت ابوبکر کے دور سے لے کر آج تک نسل در نسل زوال کا شکار ہوتی چلی گئی ہے" 

(بحوالہ ۔ دروس من هدي القرآن ,سورۃ المائدہ، پہلا درس، ص (۳-۲)۔


تیسرا مسئلہ: ابوبکر اور عمر کی ولاء (محبت و عقیدت) کو ہدایت میں رکاوٹ قرار دینا

حسین بدر الدین الحوثی نے کہا:

"اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں ابوبکر اور عمر کی محبت و عقیدت کا ذرہ برابر بھی حصہ ہوگا، وہ اس راستے کی ہدایت ہرگز نہیں پا سکتا جو اسے ان لوگوں میں شامل کر دے جن کی توصیف اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمائی ہے: ﴿فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾ (پس عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، جو مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے۔) [المائدہ: ۵۴]"

(بحوالہ ۔ دروس من هدي القرآن سورۃ المائدہ، پہلا درس,29 شوال1422 بمطابق 13/1/2002)

چوتھا مسئلہ: انحراف کا آغاز دنِ سقیفہ سے ہی ہو جانے کا دعویٰ

حسین بدر الدین الحوثی نے کہا:

"لغزشیں اور خطائیں بہت، بہت پرانی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفات کے بعد رونما ہوئیں, جن کا آغاز دن سقیفہ سے ہوا تھا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہیں کیا، انہوں نے اس کے رسول پر اعتماد نہیں کیا، اور انہوں نے اللہ کی کتاب کو اس مطلوبہ معرفت کے ساتھ نہیں پہچانا جس کا حق تھا۔ (بحوالہ ۔ یوم القدس العالمی (۱)، ص (۱۶)۔

پانچواں مسئلہ: اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی لختِ جگر اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی حسین الحوثی اور اس کے پیروکاروں کے طعن سے محفوظ نہ رہیں۔ حسین الحوثی نے انہیں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فہرست کے ساتھ جوڑا جن پر وہ طعن کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:"اسی طرح یہ نعرے بھی ایک ہی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں: یہ کہ انسان اس اسلافِ صالحین کے منہج پر چلے جنہیں وہ "اسلافِ صالحین" کا نام دیتے ہیں، حالانکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس امت کے ساتھ کھلواڑ کیا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے امت پر ظلم کی بنیاد رکھی اور امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا, کیونکہ جب کوئی شخص "اسلافِ صالحین" کہتا ہے تو اس کے ذہن میں جو نمایاں ترین شخصیات ابھرتی ہیں، وہ ابوبکر، عمر، عثمان، معاویہ، عائشہ،عمرو بن العاص اور مغیرہ بن شعبہ ہیں؛ اور یہی قسم کے لوگ "اسلافِ صالحین" ہیں، تو یہ طرزِ فکر بھی سراسر ناکام ہے" ( بحوالہ ۔ حسین بدر الدین الحوثی، دروس من هدي القرآن, سورۃ آل عمران، ص (۱۴)۔

         چھٹا مسئلہ :عقیدۂ ولاء اور امامت

ولایت اور امامت کا عقیدہ روافض کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے، جسے وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کے ساتھ مربوط قرار دیتے ہیں اور اسی پر ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کے بارے میں اپنے مؤقف کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہ اصول رافضی حسین بدر الدین الحوثی اور اس کے رسائل و بیانات میں پوری صراحت کے ساتھ ظاہر و باہر اور روز روشن کی طرح عیاں ہے، جیسا کہ درج ذیل عبارات سے واضح ہوتا ہے,حسین بدر الدین الحوثی نے کہا:" تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہرگز راہِ راست پر نہ آسکتے، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول محمد پر، اور سلام ہو اس ذات پر جن کی یومِ ولایت کے اعلان کی یاد منانے کے لیے آج کے اس دن ہم جمع ہوئے ہیں؛ یعنی امت کے امام، امیر المؤمنین اور سید الوصیین علی بن ابی طالب اور درود و سلام ہو رسول اللہ کے ان اہلِ بیت پر جنہوں نے آپ کے منہج کو اپنایا اور آپ کے نقشِ قدم پر چلے، یہاں تک کہ وہ امت کے لیے ہادی بن گئے، اور اللہ راضی ہو ان کے نیک شیعوں سے جو اگلی اور پچھلی نسلوں میں سے ان کی محبت، مودت اور ولایت پر ایمان لائے، جنہوں نے ان کے آثار کی پیروی کی اور ان کی ہدایت سے روشنی حاصل کی۔  پھر اس نے کہا: اور اس دور میں ہمیں کسی بھی دوسرے وقت کی نسبت ولایت کے موضوع پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، خصوصاً اس موجودہ صورت حال میں جبکہ بیشتر مسلمان — جن میں سرفہرست حکومت اور حکمران ہیں — اللہ، اس کے رسول اور امام علی (عليه السلام) کی ولایت (جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولایت کا تسلسل ہے) کو اپنانے کے بجائے یہودیوں اور عیسائیوں کی ولایت کے تحت آنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں"(بحوالہ ۔ حسین بدر الدین الحوثی، البعد السياسي والثقافي لحديث الولاية، ص (۳)۔

ساتواں مسئلہ : ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی ولایت کی نفی

حسین بدر الدین الحوثی نے کہا: ابوبکر، عمر اور عثمان کی ولایت ہو ہی نہیں سکتی,کیونکہ انہوں نے اللہ کے رسول صلوات اللہ علیہ وعلى آله کی مخالفت کی ہے، اور وہ اس"حزب اللہ"(اللہ کے گروہ) میں سے نہیں ہیں جو میدانِ جنگ و مقابلہ میں فتح یاب ہوگا یاغلبہ حاصل کرے گا۔(بحوالہ ۔ حسین بدر الدین الحوثی، دروس من هدي القرآن  سورۃ المائدہ، الدرس الثالث ص 25-26۔)

آٹھواں مسئلہ: اہل سنت پر طعن اور ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم نہ کرنے کا الزام: حسین بدر الدین الحوثی کی اہل سنت پر طعن و تشنیع میں سے ایک یہ الزام بھی ہے کہ ان کے دلوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کا جذبہ ماند پڑ چکا ہے اور انہوں نے آپ کی تعظیم کو شرک قرار دے دیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے:"پھر تو ہمیں کسی کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ وہ (قرآن) واضح عربی زبان میں ہے، ہم عرب ہیں، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے؛ لہٰذا آپ بخیروعافیت تشریف لے جائیں، آپ نے تحریر اور پیغام پہنچا دیا اور اب بخیر و عافیت رخصت ہوں! جیسا کہ وہابی کہا کرتے تھے، وہ اسی کلچر کے تحت تربیت پاتے تھے، اور اسی وجہ سے ان کے دلوں میں رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وعلى آله کی عظمت انتہائی درجے میں گھٹ گئی"

(بحوالہ ۔حسین بدر الدین الحوثی، رسالہ سورۃ آل عمران، پہلا درس، ص (۷-۸)۔

اور اس نے ایک دوسرے مقام پر کہا:"وہابیوں نے... اس بات پر پوری تگ و دو کی کہ رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وعلى آله کی ذاتِ مبارکہ کے لیے لوگوں کے دلوں میں کوئی عظمت پیدا نہ ہونے پائے, انہوں نے کس قدر آپ پر بہتتان باندھا، اور وہ خود کس قدر سنگدل، سخت مزاج اور ظالم بن گئے!... تم انہیں رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وعلى آله کے روضۂ اطہر کے پاس دیکھتے ہو کہ وہ زائرین کے درمیان اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ صلوات اللہ علیہ وعلى آله کی ایسی کوئی علامت ظاہر نہ ہونے پائے جو آپ کی تعظیم کا اظہار کرے، کیونکہ ان کی نظر میں تعظیم (ہی) شرک بن چکی ہے"

(بحوالہ ۔ ملزمۃ سورۃ المائدہ، دوسرا درس، ص (۷)۔

نواں مسئلہ :اہل سنت کو دہشت گردی اور باطل عقائد سے متصف کرنا

حسین الحوثی کا اہل سنت پر طعن یہیں ختم نہیں ہوا کہ اس نے ان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم نہ کرنے کا الزام لگایا، بلکہ اس نے جنہیں وہ "وہابی" کہتا ہے انہیں "دھشت گرد" بھی قرار دیا، اور جو کچھ وہ لوگوں کو سکھاتے ہیں اسے "باطل عقائد" سے تعبیر کیا۔

چنانچہ اس نے کہا:ہماری جانکاری کے مطابق ہم دیکھتے اور سنتے ہیں کہ یہاں یمن میں جنہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے، وہ وہابی ہیں، یا وہابیوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے مدارس ہیں۔ کیا آج یہی نہیں کہا جاتا کہ یہ دہشت گرد ہے، دہشت گردی کے مراکز ہیں، اور دہشت گردی کے سرچشمے اور جڑیں ہیں؟؟... کیا یہی (یعنی) امریکہ نہیں ہے — جو وہابیوں کی پشت پناہی کرتا ہے، اور ان کی حمایت کا اشارہ دیتا ہے؟"

(بحوالہ ۔ رسالہ ﴿ وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ﴾ ص (۱۲)۔

اس نے یہ بھی کہا:"حقیقی دہشت گرد تو وہابی ہیں، اس زمانے میں بھی جب وہ لوگوں میں افتراق ڈالتے تھے، اور جب وہ اس مسجد، اس گاؤں، اس اسکول اور اس ادارے کے اندر اس غرض سے گھستے تھے کہ لوگوں کے مابین ایک دوسرے کے خلاف عداوت اور بغض و عداوت کو ہوا دیں، اور مسلم نوجوانوں کو ایسے باطل عقائد کی تعلیم دیں جنہوں نے پوری تاریخ میں امت کو اس کا شکار بنائے رکھا، اور آج انہی کی وجہ سے امت یہودیوں اور عیسائیوں کے قدموں تلے روندی جا رہی ہے۔ وہ درحقیقت دہشت گرد ہیں جب وہ ہم فرزندانِ اسلام کے خلاف اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں، جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اس کے خلاف کبھی کوئی کام کیا ہو"

(بحوالہ ۔ ملزمۃ"الصرخة في وجه المستكبرين"ص (۷)۔

دسواں مسئلہ: قرآن مجید پر طعن اور اسے «اندھا» کتاب قرار دینا

قرآن کریم کے بارے میں بعض حوثی مبلغین کے کفریہ بیانات میں سے ایک بیان یہ بھی ہے:"امت جس مسئلے کا شکار ہوئی وہ یہ ہے کہ اس نے قرآن کو ایک عام اور سستا کتاب بنا کر پیش کیا، ایک ایسی عام کتاب جس کا رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وعلى آله کے اہلِ بیت کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں رہا، اور نتیجتاً قرآن ایک اندھی کتاب بن کر سامنے آیا, یہ صرف ایک ناقص کتاب ہی نہیں نکلی بلکہ اندھی بن گئی، (حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ) ہم دیکھتے ہیں کہ ظالم لوگ اپنے ظلم میں قرآن سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مجرم لوگ اپنے جرم میں قرآن سے استفادہ کرتے ہیں، مفسدین اپنے فساد میں قرآن کو استعمال کرتے ہیں، بلکہ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کے ذریعے شیطان سے بھی بدتر ہستی کو پیش کرتا ہے اور اللہ کو قباحت (برائی) کا سرچشمہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے(منقول ازکتاب ۔ تبيين عقيدة الحوثيين لمن خفي عليه أمرهم من المسلمين ص75-80)

قارئین کرام : آپ نے اس جماعت کے قائد ورہبر اور اس باغی جماعت کے افکار ونظریات عقائد ومعتقدات کو جان لیا اب ہوش کے ناخن لے بھانت بھانت کے بول دعایات واراجیف میں نہ آۓ بلکہ حقیقت کو پڑھۓ حق کو سمجھۓ اللہ ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھیں ہمار‎ۓ عقائد وافکار کی حفاظت فرماۓ آمین۔

تعليقات

المشاركات الشائعة من هذه المدونة

 شکیلیت کیلئے ماہ رمضان سنہرا موقع۔ از قلم ۔ محمد محب اللہ محمد سیف الدین المحمدی ۔ محترم قارئین ۔ ماہ رمضان المبارک کے آمد سے ہی شکیلیت کا فتنہ زور پکڑ چکا ہے ،ہر دن کچھ لوگ اس فتنے کے شکار ہورہے ہیں ،شکیلیت اب ایک انجمن کی شکل اختیار کر چکا ہے نوجوان نسل بالخصوص اس کے دام فریب میں پھنستے جارہے ہیں۔  اور یہ فتنہ سیلاب کے مانند امڈ امڈ کر عقائد صحیحہ کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جارہے ہیں ۔ کچھ  لوگوں کو یہ زعم ہے کہ ہم سب محفوظ و مامون ہیں ، ہم شکیل بن حنیف کو دیکھے بھی نہیں تو کیسے ان کے افکار قبول کر لے ، اور کیا یہ شکیلیت ہے؟ ہم کافر تھوڑۓ ہوگئے ؟ ہم مسلمان ہی ہے، یہ بات سو فیصد غلط ہے کیونکہ خبریں بتاتی ہیں کہ افکار شکیلیت اب بہت وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے ،شکیلیت کے نمائندے ہر خطے، ہر صوبے اور ہر ضلعوں میں موجود ہیں، اسکے پرچارک سرعت رفتار سے اپنے مشن میں مصروف ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنے باطل افکار و عقائد کو منتقل کر رہے ہیں ،ضرورت ہے اس فتنے کے سامنے سد سکندری قائم کردیا جاۓ، اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاۓ اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کیا جائے ۔ میرے بھائ...

عيد الفطر سے متعلق چند مسائل ۔

 عید الفطر سے متعلق چند مسائل عید الفطر سے متعلق چند مسائل۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی دین اسلام دین فطرت ہے،یہ تطبیقی اور پریکٹیکلی دین ہے ۔یہ کوئی خیالی یا فرضی مذہب نہیں ۔ بلکہ فطرت کی آواز دین اسلام ہے ، اسلامی تعلیمات وارشادات میں انسانوں کی طبائع وجبلت  کا پورا پورا لحاظ و خیال رکھا گیا ہے۔ انسانی فطرت و طبیعت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے وقتاً فوقتاً خوشی ، مسرت اور فرحت وبہجت کا موقع فراہم کیا جائے۔ انسان کی اس فطری راحت و انبساط اور مسرت کے اظہار کے لیے اسلام نے ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ کے دن مخصوص اور مقرر فرمائے۔ جیسا کہ خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ اہل مدینہ سال میں خوشی کے دو دن (نیروز اور مہرجان) مناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ )) (سنن أبي داود: ۲/ ۱۶۱) ’اللہ تعالیٰ نے ...
 مختصر تعارف شيخ محمد بن عبدالوهاب رحمه الله.. مختصر تعارف شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ ۔  از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی ، نام ونسب ۔ ابو علی محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن   علی بن محمد بن احمد بن راشد بن بُرید بن محمد بن بریدبن مشرّف ،۔ ولادت ۔ 1115 ھجری میں نجد کے مشہور شہر عُيَىْنة( عیینۃ ریاض کے شمال میں ہے، ریاض سے 35 کیلومیٹر دور ہے ) میں پیدا ہوئے ۔آپ کا خاندان آل مشرف ہے جو اُشیقر نامی شہر میں آباد تھا ،لیکن متعدد شہروں میں آپ کے خاندان کے افراد ھجرت کرتے رہے ،ھجرت کی تفصیل درج ذیل ہیں ۔  1 ۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دادا شیخ سلیمان شہر اُشیقر میں پیدا ہوئے اور وہی پلے بڑھے اور علم حاصل کیا یہاں تک کہ کبار مشائخ میں آپ کا شمار ہوگیا تو روضۃ سدیر کے لوگوں نے آپ کو منصب قضاء عطاء کیا اور آپ بحیثیت قاضی روضۃ سدیر منتقل ہوگئے ،پھر آپ نے عیینہ کا سفر کیا اور وہاں بھی قاضی بن گئے اور عیینہ کو مستقل وطن بنا لیااور شیخ أحمد بن محمد بن بسام کی بیٹی فاطمہ سے آپ نے شادی کرلیا اور یہی آپ نے آخری سانس لی اور عیینہ کی مٹی میں مدفون ہوۓ، ...